چین صرف معاشی نہیں، سیاسی توازن کا بھی اہم شراکت دار ہے: ایرانی سفیر
بیجنگ: (دنیا نیوز) چین میں تعینات ایرانی سفیر رحمانی فضلی نے کہا ہے کہ بیجنگ ایران کے لیے صرف معاشی شراکت دار یا توانائی خریدار نہیں بلکہ بیرونی دباؤ اور خطرات کے مقابلے میں تہران کے سیاسی توازن کا اہم حصہ بھی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی سفیر نے کہا کہ یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ بیان ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورۂ چین کے بعد سامنے آیا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے ممکنہ دورے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔
ایرانی سفیر کے مطابق عباس عراقچی کا دورہ اس بات کی علامت ہے کہ ایران حالیہ تنازع کے بعد اپنی سفارتی پوزیشن کو ازسرنو ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہے اور صرف فوجی یا عارضی ردعمل پر انحصار نہیں کرنا چاہتا۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے بعد کے مرحلے میں مستقل شراکت داریوں کے ذریعے اپنی سفارتی حکمت عملی کو نئی شکل دے رہا ہے، جبکہ چین نے بحران کو دباؤ بڑھانے کے بجائے علاقائی جنگ روکنے اور استحکام برقرار رکھنے کے تناظر میں دیکھا۔
رحمانی فضلی نے مزید کہا کہ اگرچہ چین کو امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تاہم ثالثی کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے ذریعہ کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز میں ایران کے سیکیورٹی اقدامات کو دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں تجارتی سرگرمیوں کے خلاف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے چین کے متوقع دورے سے قبل ایران کے تیل کی فروخت سے متعلق 12 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن پر تہران کے توانائی شعبے کی معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔