جنگ بندی برقرار رکھنا ترجیح ہونی چاہیے، فریقین برابری کی بنیاد پر بات کریں: چین
نیویارک: (دنیا نیوز) اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے سن لی نے کہا ہے کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا بڑی ترجیح ہونی چاہیے، فریقین طاقت کے بجائے برابری کی بنیاد پر بات چیت کریں۔
اپنے بیان میں سن لی کا کہنا تھا کہ بات چیت کے دوران ایران کیخلاف فوجی کارروائیوں نے سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا، ایرانی جوہری مسئلے پر طاقت کے استعمال یا جنگ کی دھمکیاں صورتحال کو مزید خطرناک بنا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہیے، عالمی برادری سفارتی حل کیلئے مثبت ماحول پیدا کرے۔
اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے سن لی کا مزید کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کو ایران پر پابندیاں لگانے کے بجائے تنازع کے حل کے لئے تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔
دوسری جانب چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے اپنے بیان میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال پر تشویش ہے، تمام متعلقہ فریقین حالات کو مزید بگاڑنے سے گریز کریں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان گزشتہ 3 ماہ سے جاری تنازع نے خلیجی ممالک اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے خطے کو شدید متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقائق سے ثابت ہو چکا ہے کہ فوجی ذرائع مسائل کا حل نہیں ہوتے اور طاقت کا بے جا استعمال صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے، ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، ایسے وقت میں کسی بھی فریق کو فوجی تنازع کو دوبارہ بھڑکانے سے گریز کرنا چاہیے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے زور دیا کہ خطے کے ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام اور تحفظ یقینی بنایا جائے۔