مشہد میں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ، لاکھوں سوگواروں کی شرکت
مشہد: (دنیا نیوز) ایران کے شہر مشہد میں شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کی گئی، جس میں لاکھوں سوگواروں نے شرکت کر کے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
نمازِ جنازہ میں ملک بھر سے آنے والے عوام، مذہبی شخصیات، اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر مشہد کی سڑکیں سوگواروں سے بھر گئیں اور فضا نوحہ و دعا سے گونجتی رہی۔
ایرانی حکام کے مطابق شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو روضۂ حضرت امام رضاؑ کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا، جہاں تدفین کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ لاکھوں زائرین کی آمد کے پیش نظر خصوصی انتظامی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
سوگواروں نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی قومی و مذہبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ حکام کے مطابق تدفین کی تقریب میں بھی ملک بھر اور بیرونِ ملک سے بڑی تعداد میں شخصیات اور زائرین کی شرکت متوقع ہے۔
قبل ازیں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا عراق میں تعزیتی جلوس نکالا گیا، نجف میں روضہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر نماز جنازہ ادا کی گئی۔
اس کے بعد شہید آیت اللہ خامنہ ای کا جسد خاکی تاریخی جلوس کے ذریعے کربلا لایا گیا، جہاں لاکھوں سوگوار جمع تھے۔
ادھرایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں کے باوجود جنازے کے پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، جنازے کا پہلا مرحلہ تہران میں منعقد ہوا، اس کے بعد اگلے روز قم میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی، پھر میت کو عراق کے شہروں کربلا اور نجف لے جایا گیا۔
حکام نے بتایا کہ امریکی حملے میں تہران اور مشہد کے درمیان ریلوے رابطہ متاثر ہونے سے جنازے کے پروگرام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
حکام کے مطابق اس تاخیر کی وجہ امریکی حملے نہیں بلکہ بدھ کے روز عراق میں غیر معمولی ہجوم ہے، جس کی وجہ سے جنازے کے شیڈول میں تاخیر ہوئی۔
واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے تھے، جس کے بعد ایران اور خطے بھر میں تعزیتی تقریبات اور سوگ کا سلسلہ جاری ہے۔