پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج آبادی کا عالمی دن منایا جارہا ہے
لاہور: (دنیا نیوز) پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج آبادی کا عالمی دن منایا جارہا ہے\
پاکستان میں بھی بڑھتی ہوئی آبادی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے اور اس کا بڑھتا ہوا دباؤ وسائل کو نگلنے لگا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبادی بڑھنے کی یہی شرح برقرار رہی تو آئندہ 24 سال میں پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے بڑھ گئی، 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر، 2050 تک یہ تعداد تقریباً 39 کروڑ تک پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
منصوبہ بندی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 2.55 فیصد اور ایک خاتون کے اوسط بچوں کی تعداد 3.6 ہے، ملک میں ہر سال تقریباً 68 لاکھ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔
ہر سال 11 ہزار مائیں دوران زچگی جبکہ 20 ہزار نومولود ایک ماہ میں انتقال کر جاتے ہیں جبکہ 40 فیصد بچے غذائی قلت کے باعث نشوونما میں کمی کا شکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آبادی میں اضافے کے ساتھ پانی، صحت، تعلیم اور روزگار کے مسائل بڑھ رہے ہیں اور مواقع کی کمی کے باعث نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور تربیت کی فراہمی بڑا چیلنج ہے۔
پاکستان میں 26 ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں جبکہ ہر سال 20 سے 25 لاکھ نوجوان ورکنگ ایج آبادی میں شامل ہو رہے ہیں، آبادی میں ہر ایک فیصد اضافہ فی کس آمدن پر سالانہ 35 ہزار روپے کمی کا باعث بن رہا ہے جبکہ نئے افراد کو جذب کرنے کے لئے 6 سے 7 فیصد جی ڈی پی گروتھ درکار ہو گی ،
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبادی میں اضافے کو روکنے کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی کرنا ہو گی وگرنہ صحت، تعلیم اور روزگار سمیت ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے اہداف کا حصول مشکل ہو گا۔