آزاد کشمیر میں حکومت سازی : ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا تیسرا مذاکراتی دور مکمل

مظفرآباد: (محمد اسلم میر) آزاد جموں و کشمیر میں حکومت سازی اور آئندہ سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان جاری مذاکرات کا تیسرا دور بھی گزشتہ روز مکمل ہوگیا.

ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور ہفتے کے روز ایک نجی  ہوٹل میں تقریباً 20 منٹ تک جاری رہا، تاہم تاحال کسی حتمی معاہدے یا مشترکہ اعلامیے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اِسی طرح ذرائع کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، انتخابات کے بعد ممکنہ حکومت سازی، سیاسی صف بندی اور آئندہ کے لائحہ عمل پرد تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پیپلزپارٹی نے میرپور ڈویژن میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے معاملات بھی اٹھائے، جس پر دونوں جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پولنگ کے دوران اپنے کارکنوں کو صبر و تحمل کی تلقین کی جائے گی اور شفاف و پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے باہمی تعاون کو یقینی بنایا جائے گا۔

مذاکرات کے تیسرے دور میں وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ، نیئر حسین بخاری اور ندیم افضل چن شریک ہوئے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے رہنما طارق فاروق سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

ذرائع نے بتایا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان یہ رابطے جمعرات، جمعہ اور ہفتہ کو تین مختلف مراحل میں ہوئے جن کا مقصد انتخابات کے بعد کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لینا اور مستقبل میں ممکنہ تعاون کے امکانات پر غور کرنا تھا۔

ملاقات میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ موجودہ سیاسی حالات میں باہمی مشاورت کے ذریعے آئندہ کی حکمت عملی ترتیب دی جائے، تاہم مذاکرات کے نتائج یا کسی ممکنہ سیاسی فارمولے کے بارے میں فریقین نے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔

آزاد کشمیر کے عام انتخابات تین مراحل میں منعقد کیے جا رہے ہیں، پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر 27 جولائی کو پولنگ ہوئی تھی، جہاں مسلم لیگ (ن) نے 9 جبکہ پیپلزپارٹی نے 4 نشستیں حاصل کیں۔

دوسرے مرحلے میں آج مظفرآباد ڈویژن کی 9 نشستوں اور پاکستان میں مقیم مہاجرین کی 12 نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو راولاکوٹ ڈویژن کی 11 نشستوں پر پولنگ ہوگی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق دوسرے مرحلے کے نتائج آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے عمل پر فیصلہ کن اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اگر کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہوئی تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان جاری مذاکرات نئی حکومت کی تشکیل اور آئندہ سیاسی اتحاد کے تعین میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...