رسائیِ مالیات سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس: ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ای فنانسنگ کا جائزہ
اسلام آباد:(دنیا نیوز) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت رسائیِ مالیات سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ہاؤسنگ، زراعت، ایس ایم ایز، برآمدی فنانسنگ اور وہیکل الیکٹریفیکیشن پروگرام سمیت مختلف شعبوں میں مالی سہولیات کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ جون سے اگست کے دوران ہاؤسنگ فنانس 294 ارب روپے سے بڑھ کر 307 ارب روپے ہوگئی جب کہ اپنا گھر پروگرام میں درخواستوں کی تعداد 52 فیصد اضافے کے بعد ایک لاکھ 39 ہزار تک پہنچ گئی۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ اپنا گھر پروگرام کے تحت منظور شدہ فنانسنگ 144 ارب سے بڑھ کر 279 ارب روپے ہوگئی جب کہ 7 ہزار 600 سے زائد قرضے جاری کیے جاچکے ہیں اور 38 ارب روپے سے زیادہ کے قرضے تقسیم کیے گئے ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں قرض لینے والوں کی تعداد بڑھ کر 33 لاکھ 70 ہزار ہوگئی ہے جب کہ زرعی فنانسنگ 1260 ارب روپے کی سطح پر برقرار ہے، زرعی قرضہ سکیم کے تحت 58 ہزار سے زائد کسان بھی رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔
ایس ایم ایز کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ رسمی فنانسنگ 1050 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جس سے تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار کاروبار مستفید ہورہے ہیں، حکومت نے جون 2027 تک زراعت اور ایس ایم ای فنانسنگ کو 1500 ارب روپے اور جون 2028 تک 2000 ارب روپے تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ برآمدی شعبے کے لیے فنانسنگ اور ری فنانسنگ کی سہولیات مزید بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ اضافی برآمدات پر کارکردگی کی بنیاد پر ایک سے دو فیصد ریبیٹ دی جائے گی۔
وزیر خزانہ نے برآمدی ایس ایم ایز کو بینکوں سے فنانسنگ کی سہولت فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں وہیکل الیکٹریفیکیشن پروگرام کا بھی جائزہ لیا گیا، پروگرام کے لیے 83 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، تقریباً 15 ہزار 800 درخواستیں منظورکی گئی۔
دوسری جانب تقریباً 4 ہزار قرضے جاری کیے جا چکے ہیں، پروگرام کے تحت فراہم کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد 1500 سے تجاوز کرگئی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ہدایت کی کہ رسائیِ مالیات کو قانونی اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور بہتر کریڈٹ نظام سے مربوط کیا جائے، انہوں نے بینکوں کی فنانسنگ، قرض داروں اور منظوریوں کی ہفتہ وار نگرانی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
محمد اورنگزیب نے کسانوں، ایس ایم ایز، برآمد کنندگان اور گھر خریدنے والوں میں مالی سہولیات سے متعلق آگاہی بڑھانے پر زور دیتے ہوئےمزید کہا کہ رسائیِ مالیات کا بنیادی مقصد معاشی مواقع تک زیادہ سے زیادہ لوگوں کی رسائی یقینی بنانا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments