پبلک پروکیورمنٹ نظام میں شفافیت، جوابدہی اور نگرانی مزید مضبوط بنانے پر زور
اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی مقدمات کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) آرڈیننس 2002 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دے دی گئی، نئے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2025 کے مسودے پر بھی غور کیا گیا۔
پبلک پروکیورمنٹ رولز 2025 سے متعلق بعض امور کو مجوزہ قانون سازی کی تکمیل تک مؤخر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، پبلک پروکیورمنٹ کے قانونی و ادارہ جاتی نظام میں اصلاحات سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں پبلک پروکیورمنٹ نظام میں شفافیت، جوابدہی اور مؤثر نگرانی کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا، پبلک پروکیورمنٹ سے متعلق شکایات کے آزادانہ ازالے اور تھرڈ پارٹی جائزے کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔
پبلک پروکیورمنٹ کے عمل میں مفادات کے ٹکراؤ سے بچاؤ اور ادارہ جاتی آزادی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا، نظام میں ای پروکیورمنٹ کے مؤثر استعمال کو مزید فروغ دینے پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس میں OGRA (Amendment) Bill 2026 کی منظوری دے دی گئی، SMEDA آرڈیننس 2002 میں مجوزہ ترامیم کی بھی منظوری دی گئی۔
ڈرافٹ پیٹرولیم رولز 2025 کی منظوری دے دی گئی، پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل اور ذخیرے سے متعلق حفاظتی معیارات کے مجوزہ قواعد کی بھی منظوری دی گئی۔
پٹرولیم شعبے سے متعلق قواعد کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے اقدامات کی منظوری دی گئی۔
وفاقی وزیر قانون نے قانون سازی کے عمل میں قانونی اور تکنیکی پہلوؤں کے جامع جائزے کی ضرورت پر زور دیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پبلک پروکیورمنٹ کے نظام کو مزید شفاف، مؤثر اور جوابدہ بنانا حکومت کی ترجیح ہے، پبلک پروکیورمنٹ میں مؤثر شکایات ازالہ اور نگرانی کا نظام ضروری ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ پبلک پروکیورمنٹ میں مفادات کے ٹکراؤ سے بچاؤ اور ادارہ جاتی آزادی یقینی بنانا ضروری ہے، جدید تقاضوں کے مطابق پبلک پروکیورمنٹ نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قانونی اصلاحات ضروری ہیں۔
CCLC اجلاس میں منظور شدہ ایجنڈا آئٹمز پر متعلقہ قانونی کارروائی آگے بڑھانے کی منظوری بھی دی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments