کشتی کے ناقابلِ شکست سلطان، فخرِ پاکستان زبیر جھارا پہلوان کو دنیا چھوڑے 35 برس بیت گئے
لاہور: (دنیا نیوز) پاکستانی کشتی کے ناقابلِ شکست سلطان، فخرِ پاکستان اور رستمِ پاکستان کا اعزاز پانے والے زبیر جھارا پہلوان کو دنیا سے رخصت ہوئے 35 برس بیت گئے۔
جھارا پہلوان نے اکھاڑے میں اپنی طاقت، فن اور بہادری سے پاکستان کا نام روشن کیا، جھارا پہلوان آج ہمارے درمیان نہیں لیکن اکھاڑے میں ان کی فتوحات اور پاکستان کا نام بلند کرنے کا جذبہ آج بھی زندہ ہے۔
محمد زبیر عرف جھارا پہلوان نے اکھاڑے میں قدم رکھا تو کامیابیاں ان کا مقدر بنتی گئیں، اور پھر وہ وقت بھی آیا جب ایک پاکستانی پہلوان نے جاپان کے مشہور ریسلر انوکی کو شکست دے کر دنیا کو حیران کر دیا۔
17 جون 1979ء میں ہونے والے اس تاریخی مقابلے نے جھارا پہلوان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا، جھارا پہلوان نے اپنے کیریئر میں 60 سے زائد قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیا اور کسی حریف کے ہاتھوں شکست کا سامنا نہیں کیا۔
انہیں ’’فخرِ پاکستان‘‘ اور ’’رستمِ پاکستان‘‘ کے خطابات سے نوازا گیا، جھارا صرف پہلوان نہیں بلکہ پاکستان کی پہچان تھے، انکی سب سے بڑی خوبی انکی محنت، طاقت اور مقابلے میں آخری دم تک ڈٹے رہنا تھا۔
10 ستمبر 1991ء کو یہ عظیم پہلوان صرف 31 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے، موہنی روڈ کے تاریخی بھولو پہلوان اکھاڑے میں جھارا پہلوان کی آخری آرام گاہ انکے مداحوں کو کشتی کے سنہری دور کی یاد دلاتی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments