آبی مسئلے سمیت پاک بھارت کشیدگی کے دیگر پہلوؤں پر بھی تشویش ہے، ماریہ زخارووا

ماسکو: (شاہد گھمن) ترجمان روسی وزارت خارجہ ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ ماسکو کو روس کے 2 دوست ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی مسئلے کے علاوہ کشیدگی کے دیگر پہلوؤں پر بھی تشویش ہے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے یہ بات جمہوریہ کومی کے دارالحکومت سیکتیوکار سے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہی، بریفنگ میں جمہوریہ کومی کے صحافیوں نے براہ راست، جبکہ ماسکو سے صحافیوں نے آن لائن شرکت کی۔

بریفنگ کے دوران ماریہ زخارووا نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور، روس کی خارجہ پالیسی، دوطرفہ تعلقات اور مختلف عالمی تنازعات سے متعلق ماسکو کا مؤقف پیش کیا اور صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

اس موقع پر نمائندہ دنیا نیوز شاہد گھمن نے ماریہ زخارووا سے پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے اور پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سے متعلق 2 سوالات کیے۔

نمائندہ دنیا نیوز نے سوال کیا کہ مستقل ثالثی عدالت نے تصدیق کی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور اسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا، تاہم بھارت نے عدالت کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے، روس اس فیصلے کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور کیا ماسکو سمجھتا ہے کہ مشترکہ آبی وسائل کے استعمال سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کی تمام فریقوں کو پابندی کرنی چاہیے؟

سوال کا جواب دیتے ہوئے ماریہ زخارووا نے کہا کہ روس کو اس آبی مسئلے کے حل نہ ہونے پر تشویش ہے، جس طرح ماسکو کو روس کے 2 دوست ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دیگر پہلوؤں پر بھی تشویش ہے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ روس اس نوعیت کے تنازعات کو باہمی احترام پر مبنی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو اہم سمجھتا ہے، جس میں دونوں ممالک کے مفادات کو یکساں طور پر مدنظر رکھا جائے۔

نمائندہ دنیا نیوز شاہد گھمن نے اپنے دوسرے سوال میں کہا کہ پاکستان نے 2026ء سے 2027ء تک شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال لی ہے اور تنظیم کا آئندہ سربراہی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوگا، روس پاکستان کی صدارت سے کیا توقعات رکھتا ہے اور اس عرصے کے دوران ماسکو کن شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے زیادہ امکانات دیکھتا ہے؟

ماریہ زخارووا نے جواب دیا کہ پاکستان پہلی مرتبہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت کی کونسل کی صدارت کر رہا ہے، یہ اہم اور ذمہ دارانہ ذمہ داری شنگھائی تعاون تنظیم کے دائرہ کار میں کثیرالجہتی تعاون کو مزید فروغ دینے، اسے گہرا کرنے اور عالمی سطح پر تنظیم کی حیثیت مضبوط بنانے پر مرکوز ہوتی ہے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ صدارت کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیادی دستاویزات پر عمل درآمد میں تسلسل برقرار رکھنے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، جن میں تنظیم کی 2035 تک کی ترقیاتی حکمت عملی بھی شامل ہے۔

ماریہ زخارووا نے کہا کہ تنظیم کی صدارت کرنے والا ہر ملک مشترکہ اہداف کے حصول کے عمل میں اپنا کردار اور اپنی ترجیحات بھی شامل کرتا ہے، انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ پاکستان جلد ہی 2026ء سے 2027ء تک سیاسی، سلامتی، اقتصادی اور ثقافتی و انسانی شعبوں میں مربوط اقدامات سے متعلق اپنا لائحہ عمل پیش کرے گا۔

ماریہ زخارووا کے مطابق پاکستان سے یہ بھی توقع ہے کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے خطے میں استحکام اور پائیدار ترقی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کا تعین کرے گا۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ یکم ستمبر کو بشکیک میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے دوران صدر ولادیمیر پوتن نے تنظیم کے دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کی طرح پاکستان کی کامیاب صدارت کے لیے حمایت اور معاونت فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ روس شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی صدارت کے دوران مؤثر اور نتیجہ خیز مشترکہ کام کے لیے تیار ہے۔

ماریہ زخارووا نے پاکستان کی کامیاب صدارت کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس پاکستان کے لیے ہر طرح کی کامیابی کا خواہاں ہے۔
 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...