مسلح تنازع: یمن میں غذائی بحران سنگین ہونے کا خدشہ، اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا
صنعاء: (دنیا نیوز) یمن میں بڑھتے ہوئے مسلح تنازع کے باعث غذائی بحران سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس پر عالمی خوراک پروگرام نے ہنگامی امدادی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حوثی ملیشیا کی کارروائیوں کے نتیجے میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد یمنی بے گھر ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق 700 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں، عالمی خوراک پروگرام کے قائم مقام سربراہ کارل اسکاؤ نے بتایا کہ ادارہ اب تک تقریباً 60 ہزار افراد کو کھانا اور غذائی سامان فراہم کر چکا ہے اور مزید لاکھوں افراد تک امداد پہنچانے کی تیاری کر رہا ہے۔
ڈبلیو ایف پی کے مطابق یمن کی نصف آبادی یعنی ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، پانچ سال سے کم عمر تقریباً 22 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یمن اپنی خوراک کی 90 فیصد ضروریات درآمد کرتا ہے، اس لئے بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں میں رکاوٹیں غذائی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments