چینی وفد کی احسن اقبال سے ملاقات، سی پیک ٹو کے تحت سرمایہ کاری، تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
اسلام آباد:(دنیا نیوز) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال سے چینی وفد کی ملاقات میں سی پیک ٹو کے تحت سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، دوطرفہ تجارت کے فروغ اور پاکستان کی برآمدات بڑھانے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی کو مضبوط تجارتی شراکت داری اور باہمی مفید سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جبکہ سرحدی تجارتی منڈی کے قیام کی تجویز بھی زیر غور آئی۔
احسن اقبال نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں پیداواری یونٹس قائم کرنے اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے پاکستان کو علاقائی پیداواری و برآمدی مرکز بنانے کی دعوت دی۔
اُنہوں نے کہا کہ سی پیک ٹو کا بنیادی ہدف صنعتی تعاون کو فروغ دینا، برآمدات میں اضافہ کرنا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری روابط مزید مضبوط بنانے اور تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔
احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک کے تحت گزشتہ پانچ سال کے دوران 25 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی، جبکہ چینی سرمایہ کاری کے نتیجے میں پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں تقریباً 8 ہزار میگاواٹ کا اضافہ ہوا۔
اُنہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان آئندہ تین سال کے دوران اپنی برآمدات میں مزید 7 ارب ڈالر کا اضافہ کرنے کا ہدف حاصل کر سکتا ہے، سی پیک ٹو کے تحت معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون کو ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان میں پیداواری سرگرمیوں کے فروغ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے چینی سرمایہ کاروں کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔
ملاقات میں چینی وفد کے رکن یوان جیان من نے کہا کہ پاکستان میں مینوفیکچرنگ، نئی توانائی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں چینی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے خنجراب کے راستے سرحد پار تجارت بڑھانے اور چینی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات کو وسعت دینے کے امکانات پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں اس امر پر اتفاق رائے کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور کاروباری روابط مضبوط بنانے سے دونوں ممالک کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب سی پیک ٹو کو صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور باہمی معاشی شراکت داری کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments