امریکی امیگریشن حکام نے چھاپے کے دوران خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

منی سوٹا: (دنیا نیوز) امریکا کے امیگریشن حکام نے چھاپے کے دوران خاتون کو گولی مارکر ہلاک کر دیا۔

امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ خاتون نے اپنی گاڑی کے ذریعے وفاقی امیگریشن اہلکاروں کو کچلنے کی کوشش کی، تاہم اس دعوے کو شہر کے میئر نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی امیگریشن حکام کی فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت، منیاپولس میں حالات کشیدہ

میئر جیکب فری نے وفاقی حکومت کے مؤقف کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیا اور منیاپولس میں چھاپے مارنے والے آئی سی ای افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہر چھوڑ دیں۔

واقعے کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ہونڈا ایس یو وی مبینہ طور پر بغیر نشانات والی قانون نافذ کرنے والی گاڑیوں کا راستہ روکے ہوئے ہے، جب وہ برف سے ڈھکی سڑک پر آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: منیاپولس واقعہ، ظہران ممدانی اور کانگریس ویمن الہان عمر کی شدید مذمت

37 سالہ خاتون ڈرائیور نے اس وقت گاڑی بھگانے کی کوشش کی جب افسران اس کے پاس آئے اور دروازہ کھولنے کی کوشش کی، اسی دوران ایک اہلکار نے ہینڈگن سے اس وقت 3 فائر کیے جب گاڑی اس سے دور جا رہی تھی۔

حکام کے مطابق فائرنگ کے اس واقعے کی تحقیقات میں منی سوٹا بیورو آف کریمنل اپریہنشن کے ساتھ ساتھ ایف بی آئی بھی شامل ہوگی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی ای افسر کی فائرنگ بظاہر دفاعِ میں تھی، خاتون نے افسر کو گاڑی سے کچلا، خاتون بدنظمی، مزاحمت اور رکاوٹ ڈال رہی تھی اور آئی سی ای افسر نے خود کو بچانے کیلئے فائرنگ کی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں