ایران جنگ کے بعد امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں، رپورٹ
واشنگٹن: (دنیا نیوز) ایک نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے بعد امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے پاس اس وقت ایران کے خلاف جنگ کے کسی بھی ممکنہ منظر نامے سے نمٹنے کیلئے کافی ہتھیار موجود ہیں تاہم جنگ کے دوران استعمال ہونے والے اسلحے کے ذخائر کو دوبارہ مکمل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ 40 روز تک جاری مشترکہ فوجی کارروائیوں میں امریکی افواج نے 4 اہم اقسام کے اسلحے بڑے پیمانے پر استعمال کیے جن کے جنگ سے پہلے والے ذخائر کو بحال کرنے میں کم از کم 2 سال جبکہ بعض صورتوں میں 3 سال سے بھی زیادہ وقت درکار ہوگا۔
اگرچہ امریکی حکام عوامی سطح پر ہتھیاروں کے ذخائر کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں تاہم بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کم ہوتے ذخائر واشنگٹن کے اس فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ آیا ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی جائے یا نہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کے خلاف مہمات، اور پیٹریاٹ دفاعی نظام کے میزائل یوکرین کو فراہم کرنے کے باعث یہ مسئلہ مزید سنگین ہو گیا ہے، امریکہ کو نہ صرف اپنے اسلحہ ذخائر دوبارہ بھرنے ہیں بلکہ اپنے اتحادی ممالک اور شراکت داروں کے اسلحہ آرڈرز بھی پورے کرنے ہیں جس سے دفاعی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔