روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث

ماسکو:(شاہد گھمن) روسی اخبارات نے جمعہ کے روز سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے غیر اعلانیہ دورہ ماسکو، برطانوی ہتھیاروں سے روسی اہداف پر حملوں کی صورت میں ممکنہ روسی جوابی کارروائی، سوئٹزرلینڈ میں غیر جانبداری سے متعلق ریفرنڈم، بحیرہ اسود میں ترک جہازوں پر حملوں اور عالمی گیس مارکیٹ میں روس کے ممکنہ کردار کو نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔

روسی اخبار نیزاویسیمایا گزیٹا کے مطابق سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے دورہ ماسکو کے اصل مقصد کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ روسی فارن انٹیلی جنس سروس کے سربراہ سرگئی ناریشکن نے اس ملاقات کو معمول کے پیشہ ورانہ رابطوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان کے درمیان بالمشافہ یا آن لائن ملاقاتیں معمول کی بات ہیں۔

رپورٹ میں دورے سے متعلق چار ممکنہ موضوعات کا ذکر کیا گیا، جن میں ایران کے ساتھ روس کے اقتصادی اور فوجی اقتصادی تعلقات، روس اور نیٹو کے درمیان ممکنہ کشیدگی، یوکرین تنازع کے حل کے لیے امریکی کوششوں میں تیزی اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان معمول کے رابطے شامل ہیں۔

روسی اخبار ویدوموستی نے روسی وزارت خارجہ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اگر یوکرینی افواج برطانوی ہتھیار استعمال کرتے ہوئے روسی اہداف پر حملے کرتی ہیں تو ماسکو یوکرین کے اندر اور باہر برطانوی فوجی تنصیبات کے خلاف جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا کے مطابق یوکرین کی جانب سے روس کے اندر حملوں کی برطانوی حمایت ماسکو کی نظر میں لندن کی تنازع میں شمولیت کو ظاہر کرتی ہے۔

اخبار ازویستیا کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں 27 ستمبر کو ہونے والے ریفرنڈم میں اگر سخت غیر جانبداری کی تجویز منظور ہوگئی تو برن کو روس کے خلاف موجود پابندیاں ختم کرنا پڑ سکتی ہیں۔ مجوزہ آئینی ترمیم جنگ میں شامل ممالک کے خلاف پابندیوں میں شرکت کو محدود کرے گی، سوائے ان اقدامات کے جن کی منظوری اقوام متحدہ نے دی ہو۔

اسی اخبار نے بحیرہ اسود میں ترک تجارتی جہازوں پر حملوں کے معاملے کو بھی نمایاں کیا۔ ایک ترک شپنگ کمپنی کے سربراہ نے یوکرین کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انہیں بحری قزاقی سے تشبیہ دی اور خبردار کیا کہ حملے جاری رہنے کی صورت میں ترکی کو بڑے اقتصادی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انقرہ نے سرکاری طور پر حملہ آور فریق کا نام لینے سے گریز کیا ہے۔

روسی اخبار روسیسکایا گزیٹا نے قطر کی ایل این جی برآمدات میں شدید کمی کے بعد روس اور امریکا کو عالمی گیس مارکیٹ میں ممکنہ متبادل قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق ایشیائی ممالک کے لیے روسی پائپ لائن گیس کی اہمیت بڑھ سکتی ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب آبنائے ہرمز کے ذریعے سمندری توانائی سپلائی غیر یقینی ہو۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...