ایران کے جوابی حملے: امریکی فوجی اڈوں، طیاروں، دیگر نقصانات کی تصاویر سامنے آگئیں
واشنگٹن: (دنیا نیوز) مشرق وسطیٰ کے ملکوں پر ایران کے جوابی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد امریکی فوجی اڈوں، طیاروں اور دیگر نقصانات کی تصاویر پہلی بار سامنے آگئیں۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق تصاویر حاضر سروس امریکی اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فراہم کیں، ایک تصویر میں سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئربیس پر امریکی فضائیہ کا تباہ شدہ طیارہ دیکھا جاسکتا ہے، طیارہ دو ٹکڑوں میں تقسیم تھا جبکہ اس کے ونگز بھی الگ پڑے تھے۔
بیس کی دیگر تصاویر میں تباہ شدہ عمارتیں اور بیرکس بھی دکھائی دے رہے ہیں، ایک تصویر میں کویت کے کیمپ پر ایرانی حملے میں تباہ انفراسٹرکچر اور ٹوٹا پھوٹا سامان دیکھا جاسکتا ہے۔
کویت کے ایک اور کیمپ عارف جان کا کنکریٹ سٹرکچر بھی حملوں کا نشانہ بنا، امریکی میڈیا کے مطابق ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ ہمارے اڈوں کو پہنچنے والا وہ بہت بڑا نقصان ہے جس سے امریکی عوام کو بے خبر رکھا گیا ہے۔
سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر فورس بیس کی ایک تصویر میں ایرانی حملے کا نشانہ بننے والے بوئنگ E-3 سینٹری طیارے کو دکھایا گیا ہے جس کی دم اس کے جلے ہوئے ڈھانچے سے کٹ کر الگ ہو چکی ہے جس پر دورانِ پرواز انٹیلی جنس جمع کرنے کے لئے انتہائی اہم ریڈار بھی نصب تھا۔
اسی بیس پر لی گئی دیگر تصاویر میں تباہ شدہ عمارتیں اور بیرکس دیکھی جا سکتی ہیں جن کا صرف ڈھانچہ باقی رہ گیا ہے، اسی طرح کی تصاویر کویت کے کیمپ بیوہرنگ سے بھی سامنے آئی ہیں جو امریکی فوج کے زمینی دستوں، بکتر بند گاڑیوں اور کچھ طیاروں کا ایک بڑا مرکز ہے۔
یہ کیمپ کویت سٹی کے شمال مغرب میں ایک دور افتادہ صحرائی علاقے میں واقع ہے، رواں ہفتے امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل نے ایران جنگ پر ایک تازہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں جنگ کے دوران 3.7 ارب ڈالر مالیت کے ساز و سامان کے نقصان کا انکشاف کیا گیا ہے جس میں تباہ ہونے والے تقریباً 60 طیارے بھی شامل ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق پینٹاگون نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments