دبئی کے نائٹ کلبز میں خوف کا نیا روپ، بھوت پریت کے سائے میں موسیقی کا جادو
دبئی: (سید مدثر خوشنود) دبئی کی چمکتی دمکتی راتوں میں اچانک بھوتوں، چڑیلوں اور پراسرار کرداروں کا چرچا کیوں ہونے لگا؟ کہیں خوفناک چہروں کا تصور، کہیں تاریکی میں جگمگاتی روشنیاں اور کہیں موسیقی کی گونج! یہ کسی ڈراؤنی فلم کا منظر نہیں بلکہ دبئی میں ہالووین کے موقع پر ترتیب دی گئی خصوصی تفریحی محفلوں کا انداز تھا، جہاں خوف اور گلیمر کو ایک ساتھ پیش کرنے کی تیاریاں کی گئیں۔
پام جمیرا کے معروف فائیو ہوٹل میں واقع بلنگ نائٹ کلب نے 29 اور 30 اکتوبر کی رات ایک منفرد ہالووین تقریب کا اعلان کیا تھا، رات دس بجے سے شروع ہونے والے خصوصی پروگرام کو 808 ہالووین ایڈیشن کا نام دیا گیا، جس میں ہپ ہاپ اور افریقی موسیقی کی دھنوں کے ساتھ ڈی جے جیکس، اسکنی لوپ اور ایم سی منی کو شامل کیا گیا تھا۔
اس تقریب کی دلچسپ بات اس کا ہالووین سے جڑا پراسرار تصور تھا، ایک طرف دبئی کی مشہور پُرتعیش راتوں کی رونق، دوسری طرف خوفناک کرداروں اور عجیب و غریب ملبوسات کا انداز۔ فائیو پام جمیرا نے ہالووین کے لیے مختلف موضوعات پر مبنی تقریبات کا پروگرام پیش کیا، جن میں موسیقی، خصوصی ملبوسات اور تفریحی سرگرمیوں کو نمایاں کیا گیا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ دبئی کے ان پُرتعیش تفریحی مقامات پر اس بار سب سے زیادہ توجہ کس نے حاصل کی؟ بھوتوں کے روپ، چڑیلوں کے ملبوسات یا موسیقی کی محفلوں نے؟ منتظمین کے اعلان کے مطابق بلنگ نائٹ کلب کا خصوصی پروگرام ان تقریبات میں ایک نمایاں کشش تھا، تاہم اس رات کے اصل ملبوسات، شرکا کی تعداد اور تمام پیشکشوں کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔
دبئی میں ہالووین کی یہ سرگرمیاں شہر کی متنوع تفریحی زندگی کا ایک دلچسپ پہلو پیش کرتی ہیں، جہاں خوفناک کرداروں کا تصور بھی تفریح، فیشن اور موسیقی کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے، یوں بھوت پریت کے نام پر سجنے والی محفلیں دراصل تفریح کا ایک الگ انداز پیش کرتی ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments