عقل بڑی کہ بھینس
پیارے بچو!پُرانے وقتوں کی بات ہے کہ کسی جنگل میں بہت سے جانوروں کے ساتھ ایک شیر رہا کرتا تھا۔یوں تو شیر کو اپنی طاقت کی وجہ سے جنگل کا بادشاہ مانا جاتا ہے
پیارے بچو!پُرانے وقتوں کی بات ہے کہ کسی جنگل میں بہت سے جانوروں کے ساتھ ایک شیر رہا کرتا تھا۔یوں تو شیر کو اپنی طاقت کی وجہ سے جنگل کا بادشاہ مانا جاتا ہے،لیکن یہ شیر نہایت ظالم تھا اور اپنی طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھاتا تھا۔بجائے اس کے کہ وہ اپنے جانوروں کو کسی بھی مشکل یا پریشانی سے بچائے رکھتا وہ خود انہیں شکار کر کے کھاتا تھا۔شیر کا معمول تھا کہ وہ روزانہ جنگل میں سیر کرنے کو نکلتا اور بھوک محسوس ہونے پر اپنی پسند کے جانور کا شکار کر کے کھا جاتا۔جنگل کے تما م جانور اس صورتحال سے بے حد پریشان تھے۔وہ طاقتور شیر کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں تھے،اور ان کے پاس اپنی جان بچانے کا بھی کوئی راستہ نہیں تھا۔
آخر ایک روز ان حالات سے تنگ آ کر ڈر پوک گیدڑ نے تمام جانورو ں کو ایک جگہ اکٹھا کیا اور ان سے کہا کہ''ہم اپنا ہر دن اس خوف میں گزار رہے ہیں کہ جانے کب شیر کی خوراک بن جائیں،اور یہ بھی ہم سبھی جانتے ہیں کہ آج نہیں تو کل ہمیں شیر کی غذا ہی بننا ہے۔ایسے میں کیوں نہ شیر کو یہ پیشکش کی جائے کہ ہم میں سے کوئی ایک جانور سب کی مرضی کے مطابق خود ہی شیر کا شکار بننے اس کے پاس چلا جائے گا۔اس طرح کم از کم ہم اپنی موت سے پہلے کے دن تو بغیر ڈرے گزار سکیں گے۔‘‘
سوائے خرگوش کے تمام جانوروں نے گیدڑ کی بات سے اتفاق کیا،لیکن خرگو ش شیر کے آگے ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔اس کا کہنا تھا کہ چاہے ہم میں شیر جتنی طاقت موجود نہیں ہے لیکن اگر اپنی عقل کا استعمال کریں تو شیر کو آسانی سے ہرایا جا سکتا ہے ۔ چھوٹے خرگوش کی بات پر کسی نے توجہ نہ دی اور گیدڑ کی بات سے اتفاق کر کے سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔اگلے دن گیدڑ شیر کے پاس غارمیں ڈرتے ڈرتے گیا او ر اس کے سامنے اپنی پیشکش رکھی ،جسے شیر نے قبول کرتے ہوئے کہا ''میری ایک بات یاد رکھنا،اگر کسی دن مقررہ وقت پر میرے پاس شکار نہ پہنچا تو میں تم سب کو عبرتناک سزا دوں گا‘‘۔شیر کے تیور دیکھ کر گیدڑ مزید ڈر گیا اور اسے اپنے وعد ے کا یقین دلاتے ہوئے واپس چلا گیا۔
اب جانوروں کا معمول تھا کہ روزانہ وہ مشاورت سے کسی ایک جانور کا انتخاب کرتے اور اسے بوجھل دل سے شیر کا شکار بننے کے لیے بھیج دیتے،لیکن خرگوش کا ذہن مسلسل کوئی ترکیب سوچنے میں مصروف تھا کہ آخر کس طرح تمام جانوروں کو شیر کے ظلم سے بچایا جائے۔آخر سوچتے سوچتے خرگوش کے ذہن میں ایک ترکیب آئی اور وہ خوشی سے اچھلنے لگا۔اگلے دن جب شیر کے پاس شکار بھیجنے کا وقت آیا تو خرگوش نے ہاتھ کھڑا کرتے ہوئے شیر کے پاس جانے کی حامی بھر لی۔باقی جانوروں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ تم ابھی چھوٹے ہواس لیے کسی بڑے جانور کو شیرکا شکار بننے دو،لیکن خرگوش نے ضد پکڑ لی تھی کہ وہ آج ہی شیر کے پاس جائے گا۔آخر سب جانوروں نے اس کی بات مانتے ہوئے دُکھی دل سے خرگوش کو الوداع کہا۔
خرگوش شیر کے پاس پہنچا تو اس کی سانس بُری طرح پھولی ہوئی تھی۔اسے دیکھ کر شیر بولا''تو آج تمہیں میری خوراک بننے کے لیے بھیجا گیا ہے،مگر پہلے یہ بتائو کہ تمہاری سانس اس قدر کیوں پھولی ہوئی ہے؟‘‘
خرگوش بولا''بادشاہ سلامت! راستے میں آتے ہوئے مجھے جنگل میں ایک اور شیر ملاجو مجھے کھانا چاہتا تھا میں نے اسے بتایا کہ وعدے کے مطابق مجھے آپ کے پاس پہنچنا ہے،اس کے باوجود اس نے مجھ پر حملہ کرنے کی کوشش کی ،میں بڑی مشکل سے جان بچا کر آپ تک پہنچا ہوں۔مجھے بھاگتے دیکھ کر شیر بول رہا تھا کہ تم نہ سہی میں باقی جانوروں کا شکار کر کے اپنی بھوک مٹا لوں گا اور جلد ہی اس جنگل میں تمہارے بادشا ہ کو فاقے کرنے پڑیں گے۔‘‘
یہ سن کر شیر شدید غصے میں آ گیا اور خرگوش سے بولا ''مجھے فوراً وہاں لے چلو جہاں تم نے شیر کو دیکھا ہے۔‘‘خرگوش دل ہی دل میں خوش ہوتے ہوئے شیر کو ایک کنوئیں کے پاس لے گیا اور اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا''بھاگتے ہوئے میں نے شیر کو ا س کنوئیں کی جانب جاتے دیکھا تھا۔آپ اس کے اندر جھانک کر دیکھیں ضرور وہ یہیں موجو د ہو گا۔‘‘
غصے میں پاگل شیر ،خرگوش کی باتوں میں آ گیا اور اندر جھانکنے لگا ۔اس نے کنوئیں میں دیکھ کر دھاڑا تو اس کی دھاڑ کی گونج پلٹ کر واپس آئی۔خرگوش بولا ''ضرور وہ شیر اس کنوئیں میں ہی موجود ہے اور آپ کے دھاڑنے پر دھاڑ کر جواب دے رہا ہے۔اسے سبق سکھانے کے لیے آپ کو ضرور اندر جانا چاہیے۔‘‘
خرگوش کی بات سن کر شیر مزید غصے میں آ گیا اور شیر کو سبق سکھانے کے لیے اس نے خالی کنوئیں میں چھلانگ لگا دی۔چند لمحوں بعد زور دار آواز آئی اور گہرے کنوئیں کے فرش پر گرتے ہی شیر کی جان نکل گئی۔دیکھا بچو!کس طرح ایک چھوٹے سے خرگوش نے اپنی عقل کا استعمال کر کے نہ صرف بڑے شیر کا خاتمہ کیا بلکہ کئی معصوم جانوروں کی جان بھی بچا لی۔