علم کی حقیقت و اہمیت

تحریر : امیر عبدالقدیر اعوان


’’اللہ تم میں ایمان والوں اور جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے کے درجات بلند فرمائیں گے‘‘(المجادلہ:11) ’’بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘(سورۃ الزمر: 9)

ارشاد ربانی ہے : ’’اللہ تم میں ایمان والوں اور جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے، کے درجات بلند فرمائیں گے‘‘(المجادلہ:11)۔ لکھنا، پڑھنا اور جاننا علم کا عمومی مفہوم سمجھا جاتا ہے۔ حروف، کہ جن کی آوازیں متعین کی جاتی ہیں، سے بننے والے الفاظ کا اصل مقصد دراصل وہ پیغام ہوتا ہے جو ان کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ انسان فطری استعداد کو بروئے کار لا کر پڑھتا اور سمجھتا ہے، یوں قوموں کے تجربات اور ان کے جمع شدہ علوم حاصل کئے اور اگلی نسلوں تک منتقل کئے جاتے ہیں۔

 قارئین کرام! جب تک پڑھے یا سنے جانے والے جملوں کی کیفیات پوری طرح دل میں نہ اتر جائیں وہ علم نہیں کہلاتا، یہیں سے علم اورخبر کی تفریق ہوتی ہے۔حضرت امام حسن ؓکا ارشاد ہے کہ علم کے دو حصے ہیں ایک وہ جو دل میں اترتا ہے اور دوسرا وہ جو زبان تک رہتا ہے۔ دل میں اترنے والا علم نافع ہے، اللہ کا انعام ہے اور جو زبان تک رہتا ہے وہ علم بندے پر اللہ کی حجت ہے۔ روزِ قیامت وہ بہانہ نہیں کر پائے گا کہ ابھی علم اس پر گواہ ہی بن جائے گا کہ تجھے تو علم تھا۔

متقدمین کے مطابق ’’العلم‘‘ یعنی پورا علم یہ ہے کہ علمِ دین اور علمِ دنیا، دونوں ہوں۔ دین کا شعور بھی ہو اور دنیوی علم پر دسترس بھی ہو۔ دنیوی علوم جنہیں ظاہری علوم بھی کہا جاتا ہے، دماغ کی سلامتی کے محتاج ہیں اور محض بدن کے کام آنے والے علوم ہیں۔ یہاں بھی محض ڈگریوں کا بوجھ علم نہیں کہلائے گا بلکہ علمائے حق کے مطابق اگر دنیوی علوم کی کیفیات بھی دل میں اتر جائیں اور ہر نئی تحقیق، ہر رمزِ کائنات، ہر سلجھی گتھی، ہر شے کی اصل عظمت باری کا ادراک بخش دے تو حقیقت میں وہ علم ہے۔ اسی طرح مال و دولت کے حصول کا طریقہ جاننا اشیاء کا علم ہے اور اس کے انجام سے باخبر ہونا حقیقت اشیاء کا علم ہے۔ جو حقیقت اشیاء سے واقف ہے، عند اللہ وہی عالم ہے۔

علم کی دوسری اور ترتیب میں پہلی قسم، علم دین ہے جو علمائے حق کے مطابق سراسر معرفتِ الٰہی ہے۔ انسان پر اللہ کریم کا سب سے بڑا احسان علم القرآن ہے۔خالقِ کائنات سے تعارف، عظمتِ باری کا ادراک، مقامِ رسالت کی پہچان، حقیقتِ حیات سے آشنائی، مقصدِ حیات سے شناسائی، اشیائے دنیا کی بے ثباتی، دائمی و ابدی زندگی کا شعور، احتسابِ اعمال کی فکر، اعمالِ بد کا انجام اور اعمالِ صالح پہ نوید کے ساتھ ساتھ ہر خطہ زمین، ہر شعبۂ زندگی ہر مکتبہ فکر اور ہر طبقہ حیات سے تعلق رکھنے والوں کیلئے اکمل و جامع ضابطہ حیات و لائحہ عمل۔

قارئین کرام! صاحبِ علم وہی ہوگا جو ان جملوں، ان باتوں کی کیفیات کو پائے گا۔ جس کیلئے سلامتی قلب درکار ہے ورنہ مستشرقین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: ’’اور ہم ان مثالوں کو لوگوں (کو سمجھانے) کیلئے بیان فرماتے ہیں اور بس علم والے لوگ ہی سمجھتے ہیں۔ (العنکبوت: 43)،جانے گا وہ، سمجھ وہ پائے گا جس کے پاس دلِ زندہ ہوگا اور جاننے کے اعلیٰ ترین درجے کو وہ پائے گا جو قلبِ روشن رکھتا ہوگا اور وہی حقیقت میں عالم ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ علومِ باطنی ایسی نعمت ہے کہ جب یہ عطا ہوتی ہے تو علومِ ظاہری بھی کھنچے چلے آتے ہیں لیکن علم ظاہر میں یہ طاقت نہیں کہ علمِ باطن کو کھینچ لائے۔ ذرائع علم کئی ہیں۔ کچھ فطری طور پہ حاصل ہوتے ہیں جو علومِ فطری کہلاتے ہیں۔ کچھ باقاعدہ سیکھنا پڑتے ہیں جنہیں اکتسابی علوم کہا جاتا ہے جن کا عمومی ذریعہ پڑھنا اور لکھنا ہے۔ سورۃ العلق میں ارشادِ بانی ہے:’’جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا‘‘ (العلق:4)۔

اکتسابی علوم وقت، استاد اور استعداد پر انحصار کرتے ہیں جبکہ حصولِ علم کا ایک اور بہت بڑا ذریعہ ’’علم لدنی ‘‘ ہے۔ یہ علم اللہ کریم کی طرف سے آتا ہے۔ یہ کسی دنیوی استاد، وقت اور عرصے کا محتاج نہیں۔ بس اللہ کریم نے عطا فرما دیا اور لینے والے کو ملتا چلا گیا۔ جس کا ذکر سورۃ الکہف میں ہے۔’’تو (وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جس کو ہم نے اپنی خاص رحمت دی تھی اور ہم نے اس کو اپنے پاس سے علم بخشا تھا‘‘ (الکہف: 65)۔

علم لدنی سے حاصل ہونے والے خزانے علمِ اکتسابی سے بہت بالاتر ہوتے ہیں۔ اکتسابی علم کا حامل ان رازوں کے بھیدوں کو پا ہی نہیں سکتا جو علم لدنی سے فیض یاب ہونے والے کو حاصل ہوتے ہیں۔ یہ فہم و ادراک کے وہ پٹ وا کرتا، سوچ کو ایسی گہرائی عطا کرتا اور عقل کو عقلِ سلیم تک یوں لے جاتا ہے کہ کسی دوسرے کیلئے پانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔

الحمدللہ امتِ محمدیہ ﷺ میں علم لدنی کے حامل لوگ زیادہ ہیں کیونکہ اس امت پر اللہ کی رحمتیں بھی زیادہ ہیں۔علم کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلی وحی ہی میں بات حصولِ علم کی ہوئی گویا تعلیم و تعلم کی ہوئی۔

علم صفتِ باری تعالیٰ ہے وہ علیم ہے وہ صاحبِ علم لوگوں کو افضلیت بخشتا ہے۔’’بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟(الزمر: 9)۔حصولِ علم اسے اس قدر محبوب ہے کہ اس کیلئے اس نے خود دعا تعلیم فرمائی: ’’اے میرے پروردگار! میرا علم بڑھا دیجئے‘‘۔(طہ: 114)

حدیث پاک ہے:’’میں طالب علم کو مرحبا (خوش آمدید) کہتا ہوں، فرشتے طالب علم کو اپنے پروں سے سایہ کر دیتے ہیں۔ پھر ایک دوسرے کے اوپر پر پھیلائے رہتے ہیں، تا آں کہ وہ آسمانِ دنیا تک چلے جاتے ہیں اپنی محبت کے باعث، ان کیلئے جو علم حاصل کرتے ہیں‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی)۔نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: ’’حکمت و دانائی کی بات مومن کا گمشدہ سرمایہ ہے، جہاں بھی اس کو پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے‘‘ (سنن ابن ماجہ)۔

اللہ کریم ہمیں علمِ حقیقی کو پانے کی سعی کرنے اور اس سے فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

اسلام میں راز داری

انسانی وقار کا تحفظ اور ایک صالح معاشرے کی تشکیل راز فاش کرنے سے جہاں دوسرے کی عزت مجروح ہوتی ہیں، وہیں آپس میں نفرت کا سبب بھی بنتا ہے جب کوئی شخص کوئی بات کہے پھر اِدھر اُدھر دیکھے (یعنی چاہے کہ یہ بات دوسروں تک نہ پہنچے) تو وہ بات امانت ہے (ابو داؤد)

حج کے بعد کی زندگی اصل امتحان!

’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، اور اللہ کے رسولﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو‘‘ (سورہ محمد) حج کی قبولیت کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ انسان گناہوں والی زندگی کو چھوڑ کر نیکیوں والی زندگی اختیار کرے

اعتدال طعام …سنت نبوی ﷺ

’’مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے‘‘۔(صحیح بخاری)

مسائل اور ان کا حل

بغیر وضو اذان دینا سوال :میں بحری جہازپر بطور انجینئر کام کرتا ہوں، وہاں باقاعدہ اذان ہوتی ہے اور نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔شپ پر سپیکر کا مائیک مسجد ایریا کے بجائے دوسری جگہ پر لگا ہوا ہے۔ جب اذان کا وقت ہوتا ہے توہم وہاں سے گزرتے ہوئے بغیر وضو کے بھی اذان پڑھ دیتے ہیں ؟میرا سوال یہ ہے کہ بغیر وضو کے اذان دینا کیسا ہے اور کیا مسجد کے بغیر بھی اذان دینا ٹھیک ہے ؟(محمد عثمان، کراچی)

جامع القرآن ،پیکر تسلیم و رضا،خلیفہ سوم، ذوالنورین شہادتِ حضرت سیدنا عثمان غنی ؓ

قرآن مجید کی اشاعت اور ایک ہی قرات پر عالمِ اسلام کو متفق کر نا آپؓ کا عظیم کارنامہ ہے

پیکرِ جو دو سخا

اسلامی تاریخ کی بے مثال اور عہد آفرین شخصیت