بادشاہ کی بیوقوفی

تحریر : ثناء خان


کسی ملک پر ایک عون نامی بادشاہ حکو مت کرتا تھا،جو بڑی ریاست کا بادشاہ ہونے کے باوجود حد درجہ بیوقوف تھا۔ایک بار اس کے دربار میں 2 درزی آئے اور بادشاہ سے کہنے لگے کہ ’’ہم ایسا لباس تیار کر سکتے ہیں

جسے صرف عقل مند دیکھیں گے،وہ بیوقوفوں کو نظر نہیں آئے گا‘‘۔یہ سن کے بادشاہ عو ن بہت خوش ہوا اور اس نے درزیوں سے کہا''میرے لیے ایسا لباس تیار کرو‘‘۔بادشاہ نے ساتھ ہی شاہی خادموں کو حکم دیا کہ انہیں ضرورت کا ہر سامان مہیا کیا جائے۔بادشاہ اس بات سے نا واقف تھا کہ دربار میں آنے والے دونوں درزی بے حد چالاک اور مکار تھے۔وہ بادشاہ عون کی بیوقوفیوں کے چرچے سن کر یہاں آئے تھے،تاکہ اسے بیوقوف بنا کر رقم اینٹھ سکیں۔
جب بادشاہ کے حکم پر انہیں سونے کے ڈھیروں تار ملے تو انہوں نے انہیں دربار سے دور لے جا کر چھپا دیا۔محل میں انہیں ایک بڑا کمرہ دیا گیا تھا ،جہاں بیٹھ کر دونوں درزی ایسے ہاتھ چلاتے رہتے جسے دیکھ کر لگتا کہ وہ بادشاہ عون کے لیے انوکھا لباس تیار کر رہے ہیں۔
چند روز بعد بادشاہ نے اپنے ایک وزیر سے کہا''جا کر دیکھو وہ دونوں کیا کر رہے ہیں‘‘۔جب وزیر وہاں پہنچا تو انہیں خالی قینچی چلاتے دیکھ کر حیران رہ گیا۔وہاں نہ سوئی تھی نہ دھاگہ اور نہ ہی کپڑا،حتیٰ کہ انہیں لباس تیار کرنے کے لیے دیئے جانے والے سونے کے تار بھی موجود نہیں تھے۔تب وزیر کو یاد آیا کہ ان کپڑوں کو عقل مند ہی دیکھ سکتا ہے۔اس نے سوچا ''کہ اگر میں یہ کہوں گا کہ مجھے کپڑا نظر نہیں آیا تو سب مجھے بیوقوف کہیں گے اور بادشاہ عون مجھے محل سے نکال دے گا‘‘۔چنانچہ اس نے درزیوں سے کہا''واہ! کیا بات ہے تم تو بہت اچھے کپڑے سی رہے ہو،کسی چیز کی ضرورت تو نہیں‘‘؟درزیوں نے کہا کہ لباس تیار کرنے کیلئے انہیں سونے کے مزید تار بھجوائے جائیں۔جو انہیں فوراً کمرے میں پہنچا دیئے گئے۔ دوسری طرف وزیر نے جا کر بادشاہ عون کو بتایا ''وہ دونوں بہت شاندار لباس تیار کر رہے ہیں‘‘۔ بادشاہ ہر وقت اپنے نئے لباس کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔
ابھی چند روز گزرے ہوں گے کہ اس نے اپنے دوسرے وزیر کو درزیوں کا کام دیکھنے کے لیے بھیجا۔اس نے بھی وہاں کوئی کام ہوتے نہ دیکھا،مگر دونوں درزی اپنے کام میں یوں جُتے ہوئے تھے جیسے بڑی محنت سے لباس تیار کر رہے ہوں۔اس نے بھی بادشاہ سے وہی کہا جو بیان پہلے وزیر نے دیا تھا۔بادشاہ عون کو اپنے انوکھے لباس کا بے صبری سے انتظار تھا۔جب لباس تیار ہو گیا تو ملک میں اعلان کروایا گیا کہ بادشاہ سلامت انوکھا لباس پہن کر آج محل سے باہر نکلیں گے،اس لیے ملک کی تمام رعایا محل کے باہر جمع ہو جائے۔اگلی صبح بادشاہ کے دربار میں درزیوں کو لباس لے کر حاضر ہونے کا حکم دیا گیا،تو دونوں درزی نہایت مؤدبانہ انداز میں بادشاہ کے سامنے حاضر ہوئے اور نہایت ادب سے جھک کر سلام کیا۔ بادشاہ نے انہیں لباس پیش کرنے کے لیے کہا تو ایک درزی جس کے ہاتھ میں خالی تھیلا موجود تھا،اس نے تھیلے میں ہاتھ ڈال کر یہ ظاہر کیا جیسے وہ لباس نکا ل رہا ہو،پھر اس نے بادشاہ عون کے آگے پیچھے یوں ہاتھ گھمائے جیسے اسے لباس پہنا رہا ہو،لیکن بادشاہ کو اپنے جسم پر کوئی کپڑا نظر نہیں آیا۔وہ حیران تھا کہ آخر کیا کرے،درزیوں سے لباس کے بارے میں پوچھے یا نہیں کیونکہ اسے اپنے جسم پر کسی قسم کا انوکھا لباس محسوس نہیں ہو رہا تھا۔بادشاہ کشمکش کا شکار اس لیے تھا کہ اگر وہ کچھ کہتا ہے تو سب سمجھیں گے کہ بادشاہ عون بیوقوف ہے اس لیے وہ لباس نہیں دیکھ پا رہا۔چنانچہ اس نے خود کو عقلمند کہلوانے کے لیے درزیوں کی خوب تعریف کی اور انہیں ڈھیر سارا انعام دیا۔
یوں ایک بڑی ریاست کا بادشاہ اپنی کم عقلی اور بیوقوفی کے باعث دو درزیوں کے ہاتھوں بیوقوف بن گیا،اور چالاک درزی سونے کی تاروں سمیت بادشاہ سے ملنے والا انعام سمیٹ کر چلتے بنے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

فیصل مسجد جدید اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

فیصل مسجد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع اسلامی طرزِ تعمیر کا وہ خوبصورت شاہکار ہے جو اپنی تعمیراتی خوبصورتی بلکہ اپنے روحانی وقار کی وجہ سے بھی پوری دنیا میں جانی جاتی ہے۔

اورنج رنگ کی سائیکل

علی کے گھر کے قریب ایک بہت بڑا بازار تھا۔ اس بازار میں ایک بہت پرانی سائیکلوں کی اسلم چاچا کی دکان تھی۔ دکاندار کے پاس ہر عمر کے بچوں کی مختلف رنگوں کی سائیکلیں موجود تھیں۔

علم قیمتی سرمایہ

علم انسان کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔ اس عظیم اور انمول تحفہ کی قدرو قیمت کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ علم ایک ایسا پھول ہے جو جتنا کھلتا ہے اتنی ہی زیادہ خوشبو دیتا ہے۔

آؤ ہم بن جائیں تارے

آؤ ہم بن جائیں تارےننھے ننھے پیارے پیارے

سنہری باتیں

٭…ہر ناکامی اپنے دامن میں کامیابی کے پھول لئے ہوتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم کانٹوں میں نہ الجھیں۔

ذرا مسکرایئے

ایک دفعہ ایک چو ہیا اپنے بچوں کے ساتھ جا رہی تھی کہ راستے میں ایک بلی آگئی۔ چوہیا نے فوراً زور سے کتے کی طرح بھونکنا شروع کر دیا۔