ذرا مسکرایئے

تحریر : روزنامہ دنیا


ایک دفعہ ایک چو ہیا اپنے بچوں کے ساتھ جا رہی تھی کہ راستے میں ایک بلی آگئی۔ چوہیا نے فوراً زور سے کتے کی طرح بھونکنا شروع کر دیا۔

 بلی فوراً بھاگ گئی۔ 

یہ دیکھ کر چوہیا نے اپنے بچوں کو نصیحت کی: دیکھا بچو دنیا میں مادری زبان کے علاوہ دوسری زبان کتنی ضروری ہے۔

٭٭٭

مالک نے نوکر کو ایک خط دے کر کہا:خط پر چار روپے کا ٹکٹ لگا کر لیٹر بکس میں ڈال دینا۔

 نوکر ذرا بے وقوف تھا اس نے ٹکٹ نہ لگائے اور لیٹر بکس میں ڈال آیا۔

مالک نے پوچھا:کیوں بھئی! خط پر ٹکٹ لگا دیے تھے نا؟۔

نوکر نے خوشی سے جواب دیا: نہیں جناب! میں نے آپ کے پیسے بچا لیے‘ ڈاکیے سے نظر بچا کر خط کو لیٹر بکس میں ڈال دیا۔

٭٭٭

دنیا بھر کے سائنسدان ایک ایسا کمپیوٹر بنا رہے تھے جو کہ ہر سوال کا جواب دے سکتا تھا۔ بالآخر وہ اپنی کوششوں میں کامیاب ہو گئے۔ 

ٹیم کے سربراہ نے پہلا سوال کیا : یہ دنیا کیسے بنی؟۔

 جواب ملا:گنینربک آف ورلڈ ریکارڈ دیکھیں۔

٭٭٭

استاد (شاگرد سے): تمہارا تعلق کس خاندان سے ہے؟ 

شاگرد: جناب! میرا تعلق جانوروں کے خاندان سے ہے۔

 استاد: (حیرت سے) وہ کیسے؟ 

شاگرد: جناب! وہ اس طرح کہ ابو مجھے الو کہتے ہیں تو امی گدھا کہتی ہیں جبکہ دادا جان کہتے ہیں کہ میرا بیٹا شیر ہے شیر۔

٭٭٭

ایک بچے کے دادا کا انتقال ہو گیا۔ پڑوس کی دو خواتین تعزیت کیلئے آئیں۔ ایک بولی:70کے ہوں گے،دوسری بولی نہیں 60 کے ہوں گے۔

 پاس ہی بچہ بیٹھا تھا وہ بولاـ:چلیں آنٹی! آپ 40ہی دے دیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

فیصل مسجد جدید اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

فیصل مسجد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع اسلامی طرزِ تعمیر کا وہ خوبصورت شاہکار ہے جو اپنی تعمیراتی خوبصورتی بلکہ اپنے روحانی وقار کی وجہ سے بھی پوری دنیا میں جانی جاتی ہے۔

اورنج رنگ کی سائیکل

علی کے گھر کے قریب ایک بہت بڑا بازار تھا۔ اس بازار میں ایک بہت پرانی سائیکلوں کی اسلم چاچا کی دکان تھی۔ دکاندار کے پاس ہر عمر کے بچوں کی مختلف رنگوں کی سائیکلیں موجود تھیں۔

علم قیمتی سرمایہ

علم انسان کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔ اس عظیم اور انمول تحفہ کی قدرو قیمت کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ علم ایک ایسا پھول ہے جو جتنا کھلتا ہے اتنی ہی زیادہ خوشبو دیتا ہے۔

آؤ ہم بن جائیں تارے

آؤ ہم بن جائیں تارےننھے ننھے پیارے پیارے

سنہری باتیں

٭…ہر ناکامی اپنے دامن میں کامیابی کے پھول لئے ہوتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم کانٹوں میں نہ الجھیں۔

پہیلیاں

سر پر نور کے تاج سجائے دو راجے اک دیس سے آئے