رمضان کی برکات
سحری سے مراد وہ کھانا ہوتا ہے جو انسان رات کے آخری حصے میں تناول کرتا ہے ، اور اسے سحری اس لیے کہا گیا ہے کہ رات کے آخری حصے کو سحر کہتے ہیں اور یہ کھانا اسی وقت میں کھایا جاتا ہے۔
بلکہ بعض علماء علامہ زمخشری وغیرہ حضرات نے اخیر رات کے چھٹے حصے کو اس کا وقت بتلایا ہے ۔ یعنی تمام رات کو 6 حصوں میں تقسیم کرکے اخیر کا چھٹا حصہ مراد لیاہے ۔ رات کی ابتداء سورج غروب ہونے کیساتھ ہی ہوجاتی ہے اور صبح صادق تک رہتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر غروب آفتاب سے لے کر صبح صادق کے طلوع ہونے تک 12 گھنٹے بنتے ہوں تو اخیر کے 2 گھنٹے سحر کا وقت کہلائے گا۔ اور ان 2 گھنٹوں میں بھی تاخیر سے ’’سحری‘‘ کرنا اولیٰ و افضل ہے ، ہاں! اتنی تاخیر نہیں کرنی چاہیے کہ روزے کے وقت کے ختم ہونے یا نہ ہونے میں ہی شک پڑجائے ۔ (لسان العرب)
سحری کی فضیلت میں متعدد احادیث وارد ہیں، مثلاًرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے ’’سحری کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے ۔‘‘ (بخاری) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے ’’سحری تناول کرنا ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان فرق ہے۔‘‘ (مسلم )
ایک اورحدیث میں ہے’’بے شک اللہ تعالیٰ سحری کرنے والوں پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے ان کیلئے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔‘‘(احمد ) اس حدیث کو مسند احمد کے محققین نے صحیح قرار دیا ہے جبکہ البانی نے اسے ’’سلسلہ صحیحہ ‘‘ میں حسن کہا ہے ۔ایک اور حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے کہ ’’ 3 چیزوں میں برکت ہے : (1) جماعت میں (2) ثرید (عربوں کا ایک خاص قسم کا کھانا) میں (3)اور سحری کھانے میں۔ ‘‘ اس حدیث میں جماعت سے عام جماعت مراد ہے ، نماز کی جماعت اور ہر وہ کام جس کو مسلمانوں کی جماعت مل کر کرے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اُس کے ساتھ فرمائی گئی ہے ۔ اور ثرید گوشت میں پکی ہوئی روٹی کہلاتی ہے جو نہایت لذیذ کھانا ہوتا ہے تیسری چیز سحری ہے ۔ (فضائل رمضان )
حضرت انس بن مالک ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ایک مرتبہ سحری کے وقت مجھ سے ارشاد فرمایا ’’ روزہ رکھنا چاہتا ہوں، کچھ کھانے پینے کیلئے لے آؤ! ‘‘حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں ’’میں کھجور اور ایک پانی کا برتن لے کر حاضر خدمت ہوا۔‘‘ (سنن نسائی)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمجب کسی صحابیؓ کو اپنے ساتھ سحری کھانے کیلئے بلاتے تو ارشاد فرماتے ’’آؤ! برکت کا کھانا کھا لو!۔ ‘‘حضرت عبد اللہ بن حارثؓ ایک صحابی سے نقل کرتے ہیں کہ میں حضور اقدس ؐکی خدمت میں ایسے وقت میں حاضر ہوا کہ آپ ؐ سحری تناول فرمارہے تھے ۔ آپؐ نے فرمایا ’’یہ ایک برکت کی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم کو عطافرمائی ہے ، اس لئے اس کو مت چھوڑنا !۔‘‘ بلکہ ایک اور جگہ تو یہاں تک ارشاد ہے کہ’’ اور کچھ نہ ہو تو ایک چھوہارہ ہی کھالیاکرو ! یاایک گھونٹ پانی ہی پی لیا کرو!۔‘‘
مسند احمد میں حضرت ابو سعیدؓ سے مروی ہے کہ ’’سحری ساری کی ساری برکت کی چیز ہے لہٰذا اسے کسی بھی صورت میںنہ چھوڑنا چاہیے اگرچہ ایک گھونٹ پانی پی کر ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘(مسند احمد)
حدیث مبارکہ کے مطابق’’ مومن کیلئے بہترین سحری کھجور ہے۔‘‘ (الحدیث)کھجور میں انسان کی تمام غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے ۔ اگر انسان کو کوئی غذا نہ مل سکے لیکن کھجور حاصل ہو تو یہ اس کیلئے کافی غذا ہے موجودہ تحقیق کے مطابق انسان کو اپنی توانائی برقرار رکھنے کیلئے غذا کی جتنی کیلوریز درکار ہوتی ہیں وہ کھجور میں موجود ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں بھی جب فوج کو کسی صحرائی علاقے میں لمبے عرصے تک قیام کرنا پڑتا تھا وہاں غذا مہیا کرنے کے عام مواقع موجود نہیں ہوتے تھے تو کھجوروں کا کافی سٹاک فوج کیلئے فراہم کر دیا جاتا تھا۔ اس طرح اگر کئی کئی ماہ تک کوئی غذا میسر نہ آئے تو محض کھجور پر انحصار کیا جا سکتا ہے ۔ کھجور کی اسی افادیت اور اعلیٰ غذائیت کی بناء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کھجور کو بہترین سحری قرار دیا ۔ ان احادیث میں سحری سے مراد وہ کھانا ہے جو روزہ دار اس وقت میں کھاتا ہے ،کیونکہ سحری کھانے سے روزہ دار کو روزہ رکھنے میں مدد ملتی ہے اورسارا دن آسانی سے گزر جاتا ہے، نیز سحری تناول کرنا ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق کا باعث ہے اہل علم کی سحری کو بابرکت بنائے جانے سے متعلق گفتگو سے یہی معلوم ہوتا ہے ۔
حضرت نووی ؒ کہتے ہیں:علمائے کرام کا سحری کے مستحب ہونے پر اجماع ہے سحری میں برکت کا معاملہ بھی واضح ہے، کیونکہ سحری کرنے سے روزہ رکھنے میں مدد ملتی ہے اور سارا دن جسم توانا رہتا ہے ، اور چونکہ سحری کھانے کی وجہ سے روزے میں مشقت کا احساس کم ہو جاتا ہے ، اس کی بنا ء پر مزید روزے رکھنے کو بھی دل کرتا ہے ، لہٰذا سحری کے بابرکت ہونے کے متعلق یہی معنی اور مفہوم صحیح ہے۔( شرح مسلم)
حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیںسحری کرنے سے کئی اعتبار سے برکت حاصل ہوتی ہے ۔ سب سے پہلے تو اس میں اتباع سنت ہے ، پھر اہل کتاب کی مخالفت، اس کی عبادت کیلئے معاونت، روزے کے دوران چستی، بھوک کی وجہ سے پیدا ہونیوالی بد مزاجی سے بچاؤ،اور مزید یہ کہ سحری کے وقت کوئی کھانا مانگے تو اسے کھانا دینے کا ، یا اپنے ساتھ بیٹھ کر سحری کھلا دینے کا موقع ملتا ہے ، اسی طرح سحری کے وقت ذکر اور دعا کا موقع بھی ملتا ہے اور خصوصاً یہ وقت قبولیت کا بھی ہوتا ہے ، اسی طرح سونے سے قبل اگر کسی نے روزے کی نیت نہیں کی تو اسے روزے کی نیت کرنے کا موقع مل جاتا ہے (فتح الباری)حافظ ابن حجرؒنے برکت کے جو اسباب ذکر کئے ہیں وہ روزے دار کے ساتھ ہی خاص نہیں تاہم وہ بھی روزے کی نیت کے ما تحت آتے ہیں، چنانچہ روزے کی نیت بنیادی چیز ہے، بقیہ امور اس کے تحت شمار ہوں گے ۔
افطار کی فضیلت واہمیت
جس طرح سحری کھانا باعثِ حصولِ برکت و رحمت ہے ۔ اسی طرح ماہ مبارک، ماہ مقدس رمضانِ کریم میں مومن کا روزہ افطار کرنا اور دوسروں کا روزہ افطار کروانا بھی غیر معمولی اجر و ثواب اور فضیلت کا حامل ہے ۔روزہ کھولنے کے صحیح وقت کے بارے میں حدیث مبارکہ ہے کہ’’ جب رات اس طرف آنی شروع ہو اور دن اس طرف پلٹنا شروع ہو اور سورج ڈوب جائے تو روزہ دار کے روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا۔‘‘ (متفق علیہ )یعنی مشرق کی طرف سے اگر رات کی تاریکی بلند ہونی شروع ہو جائے اور معلوم ہو کہ تاریکی ابھرتی چلی آ رہی ہے اور دوسری طرف مغرب کی جانب سے سورج غروب ہو چکا ہو اور دن پلٹ رہا ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا ہے ۔ افطار کا وقت ہوتے ہی بلا تاخیر روزہ کھول لینا چاہیے ۔اگر اذانِ مغرب کیلئے صبر کرے تو بھی اچھا ہوگا۔
افطار کس چیز سے کرنا چاہیے ؟
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نماز سے پہلے تازہ پکی رسیلی کھجوروں سے افطار کیا کرتے ، اگر یہ کھجوریں میسر نہ ہوتیں تو کسی بھی کھجور سے ، اور اگر وہ بھی میسر نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے ۔ (سنن ابو داؤد)اس کے علاوہ کسی اور چیز سے افطار کرنا اپنی ذاتی پسند یا عادت تو ہو سکتی ہے، رسولؐ اللہ کی سنت نہیں۔
رسول بر حق حضرت محمدصلی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا قاعدہ یہ تھا کہ آپ ؐپہلے روزہ افطار کرتے اور پھر نماز پڑھتے ۔ افطار میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دستور یہ تھا کہ تازہ کھجور سے افطار کرتے اگر کھجور نہ ملتی تو پھر چھوہاروں سے روزہ کھولتے اور اگر کبھی اتفاق سے وہ بھی نہ ہوتے تو پانی کے ایک دو گھونٹ پی کر روزہ افطار فرماتے ۔ حضرت ابن عمرؓسے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ا فطار کیا کرتے تو فرمایا کرتے ’’پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہو گئیں اور اللہ نے چاہا تو اجر پکا ہوگیا۔‘‘ (سُنن ابو داؤد) روزہ افطار کروانے کا اجر و ثواب اور فضیلت اس قدر زیادہ ہے کہ حدیث مبارکہ میںجہنم کی آگ سے نجات کا آسان ترین ذریعہ ہی اس عملِ خیر کو قرار دیا گیا ہے۔