سود کی ممانعت

تحریر : مولانا عبدالمالک


’’جس شخص نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اُس نے سودی معاملہ کیا۔‘‘فرمانِ رسول ﷺ

سود ذاتی ضرورت کیلئے ہو یا اجتماعی ضرورت کیلئے حرام ہے ۔ سود سے مراد قرض پر مدت کے عوض میں اصل زر سے زیادہ لیا جاناہے ۔ دور جاہلیت میں جوسود رائج تھا اسی کو قرآن پاک نے حرام کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا‘‘ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام کیا ہے ’’ اسی آیت میںاللہ تعالیٰ نے سود کو مطلقاً حرام کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے سود مفرد کو بھی حرام کیا ہے ۔’’لَا تَاْکُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃً‘‘فرماکر سود مرکب کو بھی حرام کیا ہے اور ہرجگہ سود کو حرام کیا ہے نجی اور کاروبار ی قرضوں کا فرق نہیں کیا۔

تاریخ اور حدیث سے ثابت ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں کاروباری قرضوں پر سود لینے کا بھی عام رواج تھا ابن جریر طبری ’’وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا ‘‘ کی تفسیرمیںلکھتے ہیں کہ یہ وہ سود تھا جس کے ساتھ زمانۂ جاہلیت میں لوگ خرید و فروخت کرتے تھے ۔

 روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں بڑے بڑے تاجر دکانداروں کو ادھار پر اپنا مال فروخت کرتے اور اس پر سود لگاتے تھے ۔ اس سے واضح ہوگیا کہ زمانہ ٔجاہلیت میں کاروباری اور تجارتی قرضوں پر سود لگانے کا عام رواج تھا، اسی کو ربا کہا جاتا ہے ۔قرآن مجیدمیں عموم کے صیغے سے اسکی ممانعت کی گئی ہے ۔ خواہ وہ سود نجی قرضوں پر ہو یاتجارتی قرضوں پر۔ مسلمان ہونے کے ناطے سے ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے اور اس کے منع کردہ کا م سے بچنے کی وجہ سے اگر ہمیں کوئی مادی نقصان ہوتا ہے تو اسکو ہمیں خوشی سے گوارہ کرنا چاہیے۔ مسلمان کے نزدیک نفع اور نقصان کا معیار دنیا اور مادی اعتبار سے نہیںہے بلکہ اخروی اور معنوی اعتبار سے ہے ۔ دنیاوی اور مادی اعتبار سے زکوٰۃ، قربانی اور حج کیلئے زرکثیر صرف کرنا بھی مال کا ضیاع اور نقصان ہے ۔کیا اس مادی نقطہ نظر سے ان تمام مالی عبادات کو خیرآباد کہا جائے گا؟ جو مسلمان مالی عبادات کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تو سود کھا کر اللہ اور اسکے رسولﷺ سے اعلان جنگ کیلئے کیسے تیار ہوسکتے ہیں۔ ایک سچے مسلمان کے نزدیک سود چھوڑنے کی وجہ سے روپے کی مقدار کا کم ہوجانا خسارہ نہیںبلکہ اصل خسارہ یہ ہے کہ سود لینے کی وجہ سے آخرت برباد ہوجائے ۔

علامہ ابن قدامہ حنبلی ؒ لکھتے ہیںکہ دار الحرب میںسود اس طرح حرام ہے جس طرح دار الاسلام میںسود حرام ہے ۔ اما م احمدؒ، امام مالکؒ، امام اوزاعیؒ، اما م ابو یوسفؒ، امام شافعیؒ اور امام اسحقؒ کا بھی یہ ماننا ہے ۔ امام ابو حنیفہؒ کے مطابق کہ مسلمان اور حربی کے درمیان دار الحرب میںربا جاری نہیں ہوگا ۔ ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ جوشخص دار الحرب میں مسلمان ہو گئے تو ان کے درمیان ربا نہیں ہوگا اور ان کے اموال مباح ہیں۔ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اسکی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو دار الحرب میں احکام شرعیہ قائم کرنے کی ولایت حاصل نہیں ہے ۔ اس کایہ مطلب نہیں ہے کہ دار الحرب میں مسلمانوں کا سود کھانا جائز ہے ۔علامہ ابن قدامہ حنبلیؒ لکھتے ہیںہماری دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :‘‘حرَّمَ الرِّبٰوا’’اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا لَایَقُوْمُوْنَ اِلَّا کَـمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ، ترجمہ ’’جو لوگ سود کھاتے ہیںوہ قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگرجیسے کھڑا ہوتاہے وہ شخص جسے شیطان نے مخبوط الحواس کر دیا ۔‘‘نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ:ترجمہ ’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور باقی ماندہ سود چھوڑ دواگر تم مومن ہو۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جس شخص نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سودی معاملہ کیا۔‘‘ باقی احادیث میںبھی اسی طرح تفاضل کی ممانعت ہے ۔اس لئے کہ جو مسلمانوں کیلئے دار الاسلام میںحرام ہے وہ دارالحرب میں بھی حرام ہے ۔ امام ابوحنیفہؒ نے اس حدیث کا ذکر کیا ہے کہ جس چیز کوقرآن مجید نے علی العموم و علیٰ الاطلاق حرام کردیا ہے وہ سنت مشہورہ سے بھی علی الاطلاق حرام ہے ۔ اس کے حرام ہونے پر اجماع ہوچکا ہے اس کے علاوہ یہ کہ وہ حدیث مرسل ہے ۔

مولانا مودودیؒ  بیان کرتے ہیں:’’یآٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ‘‘ یہ آیت فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی اور مضمون کی مناسبت سے اس سلسلہ کلام میںداخل کردی گئی اس سے پہلے اگرچہ سود کو ناپسندیدہ سمجھاجاتا تھا مگر قانونا ًاسے بند نہیں کیا گیا تھا ۔اس آیت کے نزول کے بعد اسلامی حکومت کے دائرے میںسود کا کاروبار ایک فوجداری جرم بن گیا۔ عرب کے جو قبیلے سودکھاتے تھے ان کونبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے عمال کے ذریعے سے آگاہ فرمادیا کہ اگر اب وہ اس لین دین سے باز نہ آئے تو ان کے خلاف جنگ کی جائے ۔ نجران کے عیسائیوں کو جب اسلامی حکومت کے تحت اندرونی خود مختاری دی گئی تو معاہدے میں یہ تصریح کردی گئی کہ اگر تم سودی کاروبار کروگے تو معاہدہ ختم ہو جائے گا اور ہمارے اور تمہارے درمیان حالت جنگ قائم ہوجاے گی۔

 سودی نظام اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خلاف اعلانِ جنگ کی حیثیت رکھتا ہے لہٰذا اسے ختم ہونا چاہیے تا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے مستحق ہوجائیں اور ہمارے تمام مصائب و مشکلات جو اللہ تعالیٰ کی مدد اورنصرت سے محرومی کے سبب سے ہیں وہ سب ختم ہو جائیں ۔ اندرونی اور بیرونی مشکلات ختم ہوجائیں ہم اپنے ملک میںاپنے لیے کمائی کریںاور رزق حلال کھائیں اور سود خوروں کے  چنگل سے نجات پائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید کی سچی خوشی !

فضہ اور نور بہت اچھی سہیلیاں اورہمسائی ہیں۔ ایک ہی کلاس میں پڑھتیں اور اکثر ایک دوسرے کے گھر جا کر بھی مدد لیتیں۔

مخلوق کے کام آنا!

ہے کام آنا مخلوق کے عظمت انساں کی،ہیں محسن وہ کرتے ہیں خدمت انساں کی

آؤ سُن جاؤ ایک بات مری

آؤ سُن جاؤ ایک بات مری،رات چوہوں نے ایک میٹنگ کی

سنہری باتیں

٭…کھانے کو ٹھنڈا کر لیا کرو کہ گرم کھانے میں برکت نہیں ہوتی۔

ذرا مسکرائیے

بچہ (اپنے دوست سے): میرے دادا اتنے بہادر تھے کہ انہوں نے ایک جنگ میں ایک آدمی کی ٹانگ کاٹ دی۔

پہیلیاں

دیکھ کر اس کا کمال اس کا ہنر،بادشاہوں کا بھی جھک جاتاہے سر