صبرو استقلال
شعب ابی طالب میں3 سال تک نبی کریم ﷺ اور انکے جانثاروں کا بے پناہ سختیاں برداشت کرنا اور اسیری کی زندگی گزارنا تا ابد مسلمانوں کیلئے لافانی درس کی حیثیت رکھتا ہے
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفویﷺ سے شرارِ بولہبی
ذاتِ مصطفی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انسانیت پر اللہ کا سب سے بڑا انعام ہیں اور شیطانیت ہر دور میں کوشاں رہی کہ دین اسلام اورپیغام مصطفوی ؐ کو مٹا یا اور مسخ کردیا جائے، حیات نبوی ؐ میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کے جانثاروں پر اس قدر مظالم اور سختیاں ہوئیں کہ خیر البشر خاتم الانبیاء ؐ کو یہ کہنا پڑا ترجمہ ’’کسی نبی کو اتنی اذیت نہیں دی گئی جتنی اذیت مجھے دی گئی ہے۔‘‘بعثت نبوی کے 7 ویں سال ہونیوالا مقاطعہ قریش(شعب ابی طالب میں محصوری) نبی کریم ﷺکی ذات سے کفار کی بدترین دشمنی کا ثبوت ہے وہیں مسلمانوں کی استقامت کی روشن گواہی ہے جو ہردور میں مسلمانوں کو مصائب میں عزم و ثبات کے ساتھ زندہ رہنے کا حوصلہ اور توانائی بخشتی ہے۔ شعب ابی طالب میں نبی کریمﷺ کے پروانوں کا صبر و استقامت قرآن کی اس آیت کی عملی تفسیر تھی ۔ترجمہ ’’اور ہم یقینا تمہیں تھوڑے خوف تھوڑی بھوک اور اموال، نفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور اے پیغمبر آپ ان صبر کرنے والوں کو بشارت دیدیں۔‘‘ (سورہ بقرہ 155)
خاتم الانبیاء شافع روز جزا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تبلیغ سے ہدایت کے متلاشی جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ اِدھروحدانیت کا دین دن بدن پھیلتا چلا جارہا تھا اُدھر کفار قریش کی پریشانی اور اضطراب بڑھتا چلا جا رہا تھا ۔ اسی اضطراب کے عالم میں مشرکین جبر سے لیکر سفارت تک ہر ناپاک ہتھکنڈا آزما چکے تھے لیکن سب بے سود رہا۔ جب کوئی تدبیر کام نہ آئی تو نئی شیطانی تدبیر آزمانے کا فیصلہ ہواکہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حامیوں کا سماجی سیاسی اور معاشی بائیکاٹ کیا جائے اور ان کی زندگی اس قدر تلخ کر دی جائے تا کہ دین اسلام اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیں ۔ مشرکین مکہ دارالندوہ میں جمع ہوئے اور قریش کی اعلیٰ مجلس کے اراکین نے ایک عہدنامے پر دستخط کئے، یہ عہدنامہ کعبہ کے اندر دیوار پر لٹکایا گیا اور قسم اٹھائی گئی کہ قریش زندگی کے آخری لمحوں تک اس پر عمل کریں گے۔
حضرت ابوطالب ؓ نے بنی ہاشم کو جمع کیا اور حکم دیا کہ تمام عزیزو اقارب مکہ کے اندر سے نکل کر نواح کی پہاڑیوں کے بیچ پہنچیں۔ جس کو شعب ابی طالب کہا جاتا تھا شِعب ابی طالب مکہ کے کوہ ابو قبیس اور کوہ خندمہ کے درمیان واقع ایک درہ تھا اور اس میں چھوٹے چھوٹے گھر اور مختصر سے سایہ بان تھے۔ اوریوں تمام بنی ہاشم یتیم عبد اللہ کی تائید و حمایت میں حضرت ابو طالبؓ کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے شعب ابی طالب میں محصور ہوگئے۔حضرت ابو طالب ؓنے بنی ہاشم کو 3 پہاڑیوں کے بیچ جمع کیا اور باری باری مختلف افراد کوتعینات کرتے جو شعب کی حفاظت کرتے تھے، حضرت ابو طالبؓ نبی کریمؐ کی حفاظت کیلئے ہر تدبیر کرتے۔
مؤرخین نے لکھا کہ شب ہجرت حضرت علی ؓابن ابی طالب ؓ کا کفار مکہ کے بیچ بسترِ رسول ؐ پر بے خطر سوجانا حضرت ابو طالبؓ کی تربیت اورشعب ابی طالب کا ہی تسلسل تھا۔ شعب ابی طالب میں حضرت ابو طالبؓ نے شان مصطفوی ﷺمیں جو اشعار کہے وہ عربی ادب اور اسلامی تاریخ میں آج بھی جگمگا رہے ہیں۔ حضرت ابو طالبؓ کے ولولہ انگیز اشعار بنی ہاشم کو گرماتے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں ۔ ’’ان کی محبت لوگوں کے دل میں ہے اور یہ اللہ کا عطیہ ہیں۔خدا کی قسم ہم محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو زمانے کے ہاتھوں میں نہیں دیں گے ۔ابھی تو نہ گردنیں کٹی ہیں نہ چمکتی تلواروں کے اٹھانے والے ہاتھ اٹھے ہیں ۔یاد رکھو ہم نہ تو جنگ کرنے سے خستہ ہوتے ہیں نہ زمانے کی مشکلات کی شکایت کرتے ہیں ۔ ہماری فکر اس وقت بھی کام کرتی ہے جب پہلوانوں کے ہوش اڑے ہوئے ہوتے ہیں۔‘‘ (کلام ابو طالب ؓشرح نہج البلاغہ الحدید، السیرۃ الہشامیہ)
شعب ابی طالب کے محاصرے کے دوران صرف موسم حج میں مسلمانوں کو باہر آنے کی آزادی تھی اس دوران بھی نبی کریم ؐ دین اسلام کی تبلیغ جاری رکھتے تھے۔
بعض مؤرخین کے مطابق بعثت نبوی ﷺ کے 9ویں سال مقاطعہ قریش کے دوران حج کے موسم میں ہی شق القمر کا معجزہ رونما ہوا۔ حضرت ابن عباسؓ، حضرت ابن مسعودؓ،حضرت انسؓ بن مالک، حذیفہ ؓبن عمر،حضرت حبیرؓبن مطعم کابیان ہے کہ شق القمر کا معجزہ کوہ ابوقبیس پرظاہرہواتھا، اس معجزہ کا ذکر ’’تاریخ فرشتہ‘‘ میں بھی ہے ۔یہ معجزہ دیکھ کو کچھ یہودی تو ایمان لے آئے لیکن ابو جہل اور دیگر مشرکین اپنے کفر پر باقی رہے ۔
شعب ابی طالب میں مسلمانوں کے شدید ترین محاصرے کو3 سال گزر جاتے ہیں لیکن ان کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہیں آتی۔ قریش کے جاسوس تمام راستوں کی نگرانی کرتے تھے کہ کہیں اشیائے خور و نوش شعب ابی طالب تک نہ پہنچنے پائیں۔
اس دوران ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کا سرمایہ مسلمانوں اور بنی ہاشم کے خورونوش کیلئے استعمال ہوتا ہے اور حضرت ابو طالبؓ ایک ڈھال کی مانند نبی کریم ؐ کو کفار سے محفوظ رکھتے ہیں۔ شدید ترین ناکہ بندی کے باوجود کچھ نہ کچھ خوراک ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓکے اقرباء کے ذریعے مسلمانوں تک پہنچ جاتی ہے لیکن ایک وقت ایسا بھی آن پہنچتا ہے کہ جسمانی اورروحانی تکلیف کے علاوہ رزق کی تنگی کے سبب مسلمان درختوں کے پتے کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
روایات کے مطابق جب اہل شعب کے بچے بھوک سے بے چین ہوکرچیختے اورچلاتے تھے توپڑوسیوں کی نیندحرام ہوجاتی تھی ان مصیبت جھیلنے والوں میں وفا شعار بیوی حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ رسول کریمؐ کے ساتھ ساتھ ہیں جن کے پاس اس قدر سرمایہ تھا کہ ’’ ملیکۃ العرب‘‘ کہلاتی تھیں لیکن شعب ابی طالب میں ہادیٔ برحق کی تائید میں کئی کئی دن فاقوں پر مجبور ہوئیں۔
شعب ابی طالب کے محصورین کا صبر و استقلال صاحبان دل کو پگھلانے میں کامیاب ہو جا تا ہے۔3 سال کے بعد ہشام بن عمربن حرث کے دل میں یہ خیال آیاکہ ہم اورہمارے بچے کھاتے پیتے اورعیش کرتے ہیں اور بنی ہاشم اوران کے بچے فاقہ کشی کررہے ہیں، یہ ٹھیک نہیں ہے پھراس نے اورچندآدمیوں کوہم خیال بنا کر قریش کے اجتماع میں اس سوال کواٹھایا۔ ابوجہل اورا سکی بیوی نے مخالفت کی لیکن عوام کے دل پسیج اٹھے ۔
اسی دوران حضرت ابوطالبؓ آگئے اورانہوں نے کہاکہ ’’ میرے بھتیجے کو حضرت جبرائیل ؑ نے آن کر بتایا ہے کہ تم نے جوعہدنامہ لکھاتھا اس کو دیمک چاٹ گئی ہے اورکاغذ کے اس حصے کے سواجس پراللہ کا نام ہے سب ختم ہوگیاہے۔ اے قریش بس ظلم کی حدہوچکی تم اپنے عہدنامے کو دیکھو اگر حضرت محمدﷺکاکہناسچ ہوتوانصاف کرواوراگر جھوٹ ہو تو جو چاہے کرو۔‘‘حضرت ابوطالبؓ کے کہنے پرعہدنامہ منگوایا گیاتو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد اس کے بارے میں من وعن صحیح ثابت ہوا جس کے بعد قریش شرمندہ ہوگئے اور شعب کا حصار ٹوٹ گیا۔
اس کے بعد ہشام بن عمر بن حرث اور اس کے 4 ساتھی شعب ابی طالب میں گئے اور ان تمام لوگوں کوجواس میں محصورتھے ان کے گھروں میں پہنچا دیا۔ (تاریخ طبری، تاریخ کامل، روضۃ الاحباب)۔ مؤرخ ابن واضح المتوفی بیان کرتا ہے کہ اس واقعہ کے بعدبہت سے کافرمسلم ہو گئے ۔ (الیعقوبی)
کتاب احتجاج طبرسی میں مرقوم ہے کہ ایک شامی یہودی نے امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے کہا:حضرت یوسف (علیہ السلام) نے زندان کی صعوبت جھیلی تھی کیا آپؓ کے نبی (حضرت محمد ﷺ)کی زندگی میں بھی ایسی کوئی مثال موجود ہے؟ توحضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جواب دیا ،
’’ جی ہاں اگر حضرت یوسف علیہ السلام چاہ کنعان اور زندانِ مصر میں قید رہے تو ہمارے رسولﷺ شعب ابی طالب میں پورے 3 سال تک محصور رہے۔ اگرحضرت یوسف علیہ السلام چاہ کنعان میں قید رہے تو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے غار ثور میں 3 دن تک قیام کیا ۔ اور اگر حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب دیکھا تھا تو ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے بھی خواب دیکھا تھا کہ وہ اور ان کے ساتھی مسجدالحرام میں داخل ہو رہے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب ان کی شاہی کی علامت بنا اور ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا خواب فتح مکہ کی علامت بنا۔‘‘
شعب ابی طالب کا محاصرہ مسلمانوں کی استقامت، عزیمت، صبر و ہمت، وفائے مصطفیﷺ کی روشن مثال ہے وہیں اس محاصرے کے بعد کفار کی سختیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے رسول کریم ؐ کی 2 محبوب ترین پاسبان و پاسدار و غمگسار ہستیاں ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ اور حضرت ابو طالبؓ ؓجہان فانی سے کوچ کر گئے اور اس سال کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عام الحزن (غم کا سال) قرار دیا۔ ان 2 ہستیوں کے رخصت ہو جانے کے بعد کفار کے مظالم اس قدر بڑھ گئے کہ آنحضور ﷺ کو مکہ سے ہجرت پر مجبور ہونا پڑا۔
شعب ابی طالب میں3 سال تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کے جانثاروں کا بے پناہ سختیاں برداشت کرنا اور اسیری کی زندگی گزارنا تا ابد مسلمانوں کیلئے ایک لافانی درس کی حیثیت رکھتا ہے وہ دین جسے کفار مکہ کی گھاٹیوں میں دفن کردینا چاہتے تھے نبی کریمؐ کے پاکیزہ اصحاب ؓ واہلبیت اطہارؓ اور امہات المومنینؓ کے جذبۂ ایثار کی بدولت دنیا کے گوشے گوشے کو منور کر رہا ہے۔ شعب ابی طالب یہ پیغام دے رہا ہے کہ کشمیر و فلسطین میں حصار ہوں یا گستاخانہ خاکوں کی درندگی کوئی حربہ اسلام کے پیغام امن و محبت کو عام ہونے سے نہیں روک سکتا۔ ناموس مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر حملے کرنے والی قوتیں مت بھولیں کہ جو قوم شعب ابی طالب سے کربلا اور طائف سے کشمیر و فلسطین تک قربانیوں کے عظیم سلسلے کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہو اسے کوئی آزمائش مصیبت اور حملہ راہ صداقت سے نہیں ہٹا سکتا۔
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے