موسمی پھل اور سبزیاں کھائیں ،صحت مند رہیں

تحریر : طیب رضا عابدی


سال بھر میں مختلف قسم کے پھل غذائیت سے بھرپور اورمختلف ذائقوں میں موجود ہوتے ہیں۔ جب بھی کسی موسمی پھل کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سال کے اس وقت وہ پھل ذائقہ یا فصل کے لحاظ سے عروج پر ہے۔ اور موسمی اعتبار سے اس کو کھانا ایک صحت مند ، معاشی اور ماحول دوست طریقہ ہے۔ موسمی طور پر کھانے کا سب سے اہم فائدہ صحت سے متعلق ہے۔

پھل ناشتے کا صحت مند متبادل بھی ہوتے ہیں کیونکہ یہ بھرپور غذائیت کے حامل ہوتے ہیں۔ جب آپ وزن کم کر رہے ہوں یا وزن کم کرنے والی غذا پر ہوں تو موسمی پھلوں کا استعمال خاص طور پر مددگار ثابت ہوتا ہے۔موسم سرما میں زیادہ ترشاوہ پھل دستیاب ہوتا ہے جس میں خاص طور پر وٹامن سی موجود ہوتاہے جو کہ نزلہ زکام جیسے انفیکشن سے بچنے کیلئے بہت ضروری ہے۔ جبکہ موسم گرما کے پھل ہمیں اضافی بیٹاکیروٹینا فراہم کرتے ہیں جو سورج سے پہنچنے والے نقصان سے حفاظت کیلئے ہماری مدد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پھلوں میں فائٹو کیمیکلز اور اینٹی آکسیڈینٹ ہوتے ہیں جس سے جسم میں آزاد ریڈیکلز اور بیماریوں سے لڑنے میں مدد ملتی ہے۔

موسمی پیداوار میں تازگی پھلوں کے معیار ، ساخت اور ذائقہ میں دیکھی جاتی ہے۔ جو فصل موسم میں تیار ہوتی ہے اس کی کٹائی عروج پر ہوتی ہے، اس پھل کو محفوظ کرنا بھی آسان رہتا ہے۔ موسمی پھلوں کا انتخاب فطرت کی قدرتی چیزوں میں سے ایک ہے جو ہمیں صحت مند رہنے میں مدد فراہم کرتے ہیں ۔ آپ موسم گرما کے آڑو اور آموں سے جتنا ہو سکے لطف اٹھائیں ، پھر جلد ہی موسم سرما کی مسمی کی بہار دل کو چھونے کیلئے آجائے گی۔ انگور، سیب ابھی مارکیٹ میں آرہا ہے لیکن اس موسم میں آڑو سے فائدہ اٹھائیں۔ اس کا استعمال روزانہ کریں صحت مند رہنے کیلئے آڑو کی بہت افادیت ہے۔

 لیموں کا جوس آج کل کے موسم میں بہت فائدہ مند ہے۔ لیموں کی سکنجبی آپ کیلئے گرمیوں کا بہترین مشروب ہے ۔آم پھلْوں کا بادشاہ ہے اور پاکستان کا آم ساری دنیا میں مشہور ہے۔ رسیلے اور مزیدار پکے ہوئے آم کو دودھ کے ساتھ گرائنڈ کریں اور مزیدار ملک شیک سے لطف اندوز ہوں۔اگرچہ اب آم کا موسم آخری مراحل میں ہے اور چونسا آم میں سفید کے ساتھ ساتھ کالا چونسا بھی مارکیٹ میں ہے جو کہ لچھے دار ہوتا ہے۔ تاہم سفید چونسا قدرے بہتر اور مہنگا ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اب گرما سردا بھی موسمی پھلوں میں شامل ہوچکا ہے ۔ اس کا استعمال بھی فرحت کا باعث، معدے کیلئے مفید اور قبض کشا ہے ۔انگور کے استعمال سے سردرد میں راحت پائی جاسکتی ہے۔سر درد ہونے پر انگور کا رس پینے سے جلدی افاقہ ہوتاہے۔حکماء کہتے ہیں کہ درد شقیقہ کے مریضوں کے لیے انگور کاا ستعمال مفید تر ہے۔ایک کپ لال یا ہرے انگور میں 104گرام کیلوریز،27.3گرام کار بوہائیڈریٹ اور 1.1گرام پروٹین ہوتاہے۔ وٹامن سی 27فیصد،وٹامن کے 28 فیصد، تھائیامن 7فیصد،رائبو فلان 6فیصد ،وٹامن بی سکس 6فیصد ،پوٹاشیم 8فیصد ،کاپر 10فیصد اور میگنیز 5فیصد پر مشتمل ہوتاہے۔انگور وٹامن سی کے اور بیٹا کروٹین سے بھر پور ہوتے ہیں،جو جسم کے اندر سے فاسد مادے نکال دیتے ہیں۔

موسمی سبزیوں کا استعمال بھی بہترین ہے۔ گرمیوں کے موسم میں گوشت کی بجائے موسمی سبزیاں کھانے کو ترجیح دیں۔یہ آپ کی صحت کے بیشتر مسائل حل کر دیں گی۔ سبزیوں میں بھی لوکی،توری،کدو، ٹماٹر، کھیرا،چقندر، شملہ مرچ، بھنڈی، اروی اور سلاد کا استعمال زیادہ کریں۔ کھانے میں لیموں کا استعمال بھی لازمی کریں۔اسے سالن کے اوپر یا سلاد پر چھڑک کر کھایا جا سکتا ہے۔

 کریلے فائدے کے اعتبار سے لاجواب ہیں۔ شوگر کے مریضوں کیلئے فائدہ مند ہوتا ہے۔ کریلے میں کاپر‘ آئرن‘ پوٹاشیم موجود ہوتے ہیں۔ بھنڈی: اس کے اثرات الکلائن ہیں لیس دار سبزی ہے جس کی تاثیر ٹھنڈی ہے۔ ہر خاص و عام کو پسند ہوتی ہے۔ گرمیوں کا خاص تحفہ ہے۔ پیشاب کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لئے اکسیر ہے۔

کدو: مرغوب ترین سبزی ہے کدو کا جوس وزن کم کرنے میں اکسیر ہے۔ کدو کو سلاد کے طور پر بھی استعمال کرنے سے وزن میں خاطر خواہ کمی ہوتی ہے پروسٹیٹ پرابلم میں اس کا استعمال انتہائی مفید ہے۔ معدے کی تیزابیت کو کم کرنے میں اس کا جواب نہیں۔ گرمیوں میں کدو کا رائتہ کدو کی بھجیا اور گوشت کے ساتھ پکا ہواکدو لاجواب ہوتا ہے۔ پھلیاں: پھلیاں آئرن ‘ کاپر‘ میگنیشم‘ زنک اور سوڈیم کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ان میں فائبر وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جو ذیابیطس کے مریضوں کے لئے اکسیر ہے۔ بینگن سلفر، کلْورین‘ آئرن‘ میگنیشم‘ زنک اور سوڈیم کا بہترین ذریعہ ہے۔ ان میں فائبر وافر مقدار میں موجود ہوتاہے۔ جو قبض کو دور کرتا گیس اور بدہضمی کے لئے مفید ہے۔ لْوکی‘ ٹینڈا: غذائیت سے بھرپور ہیں۔ الکلائن (کھاری پن) اثر رکھنے کے باعث اس کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے۔ سبز مرچوں کے ساتھ بنائیں اور ٹینڈا مصالحہ تو زبردست سبزی ہے۔

پودینہ بھی گرمیوں میں اہم غذا ہے ۔اس میں آئرن‘ فاسفورس‘ سلفر اور کلورین پائی جاتی ہے۔ اس کی تاثیر ٹھنڈی ہے۔ تازہ پودینہ انزائمر سے بھرپور ہے۔ اس لئے ہاضمے کے لئے مفید ہے۔ ساون بھادوں میں پودینے کی چٹنی پودینے کا قہوہ ‘ پودینے کا جوس پودینے کا رائتہ سب بہترین ہیں۔ سبزیاں حیاتین اور نمکیات کا بہترین ذریعہ ہیں۔ سبز‘ پیلی‘ اورنج اور سرخ سبزیوں میں کیلشیم‘ میگنیشم‘ پوٹاشیم‘ آئرن‘ بیٹا‘ کیروٹین‘ حیاتین بی کمپلیکس‘ حیاتین سی اور حیاتینk وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔ گرمیوں کے مہینوں ساون بھادوں میں سبزیوں کا زیادہ استعمال کریں۔سبزیاں جسم کو راحت بخشتی ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بچوں کی تربیت میں ماں کا کردار: جدید دور کے چیلنجز

بچوں کی شخصیت سازی اور تربیت میں ماں کا کردار بنیادی اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔

چٹنی …ذائقے اور صحت کا خزانہ

چٹنی ہمارے کھانوں کا ایک اہم جزو ہے جو کھانے کے ذائقے، خوشبو اور غذائی افادیت میں اضافہ کرتی ہے۔

آج کا پکوان:بیف نہاری

اجزا:بیٖف:دو کلو، گرم مصالحہ پاؤڈر: دو چمچ، سرخ مرچ پاؤڈر: تین چمچ، دھنیا پاؤڈر: دو کھانے کے چمچ،ادرک ڈیڑھ کھانے کا چمچ،لہسن :ڈیڑھ کھانے کا چمچ،

ڈاکٹر انور سجاد: رجحان ساز ادیب کی ساتویں برسی

وہ جدید اردو افسانے کے بانیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے براہ راست ابلاغ کے افسانے تحریر نہیں کئے:ان سے پوچھا گیا کہ’ ادب برائے ادب‘ اور’ ادب برائے زندگی‘ کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ’ ادب برائے انسان‘ کے قائل ہیں، انور سجاد نے 1950ء میں لکھنا شروع کیا‘ وہ کئی ادیبوں سے متاثر تھے لیکن سب سے زیادہ سعادت حسن منٹو نے انہیں متاثرکیا‘ انہوں نے جس شعبے میں بھی ہاتھ ڈالا پوری محنت سے کام کیا

غالب کا ما بعد نو آبادیاتی مطالعہ

مرزا غالب نے جس عہد میں آنکھیں کھولیں وہ مغلیہ خاندان کی حکومت کے زوال اور انگریزی استعمار کے عروج پکڑنے کا دور تھا۔

قذافی سٹیڈیم کینگروز کی میزبانی کیلئے تیار

پاکستان نے اس تاریخی میدان پر 140 سے زائد بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں