نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وفاقی حکومت نےچیئرمین سینیٹ سےسیکیورٹی واپس لےلی، ذرائع
  • بریکنگ :- صادق سنجرانی کی سیکیورٹی پراسلام آبادپولیس کے2اہلکار مامور، ذرائع
  • بریکنگ :- سیکرٹری سینیٹ کاوزارت داخلہ سےرابطہ،ذرائع
  • بریکنگ :- وزارت داخلہ کوسیکیورٹی واپس لینےکےتحفظات سےآگاہ کیاگیا،ذرائع
  • بریکنگ :- سیکرٹری داخلہ کی معاملہ وزیرداخلہ کےسامنےرکھنےکی یقین دہانی،ذرائع
Coronavirus Updates

ہمسایوں کے حقوق

خصوصی ایڈیشن

تحریر : روزنامہ دنیا


اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے ۔اس نے ہر ایک کے حقوق کو پورا کرنے کا ہمیں حکم دیا ہے اور حقوق العباد میں ہمسایوں کے بے شمار حقوق کا قرآن و حدیث میں بار بار ذکر آیا ہے۔ خود مالک کائنات اللہ کریم ہمسایوں کے بارے میں اپنے لافانی کلام قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ’’اور اللہ کی بندگی کرو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور حسن سلوک سے پیش آئو ،والدین کے ساتھ،قرابت داروں کے ساتھ،یتیموں مسکینوں کے ساتھ ،پڑوسیوں کے ساتھ خواہ قرابت والے ہوں خواہ اجنبی ۔نیز آس پاس کے بیٹھنے والوں ،مسافروں کے ساتھ اور جو (لونڈی یا غلام یا ملازم ) تمہارے قبضے میں ہوں ان کے ساتھ (کیونکہ)اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اِترائیں اور بڑائی کرتے پھریں (النساء)

 حضرت ابو شریح  ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بخدا وہ آدمی مومن نہیں ہے ،بخدا وہ آدمی مومن نہیں ہے،بخدا وہ آدمی مومن نہیں ہے ۔پوچھا گیا’’ یارسول اللہﷺ !کون؟‘‘آپ نے فرمایا کہ جس کا پڑوسی اس کی تکلیفوں سے بے خوف نہ ہو۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ کا بیان ہے کہ رسول      پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جبریل امین ہمیں ہمسایوں کے حقوق کے بارے میں وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہوا کہ اس کو وارث بنا دیں گے اور آج کے اس دور میں ہم پڑوسی کے حقوق پر کوئی توجہ ہی نہیں دیتے بلکہ لوگوں کے نزدیک یہ کوئی دین کا تقاضا ہی نہیں کیونکہ اکثر لوگ نماز ،روزہ ،حج زکوۃ کو ہی بس دین اسلام سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب اگر اخلاقیات بالخصوص پڑوسی کے حقوق پر احادیث نبوی ؐکا مطالعہ کیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ پڑوسی کو تکلیف پہنچانے سے ایمان اسی طرح خطرے میں پڑ جاتا ہے جس طرح عبادات نماز،روزہ ترک کرنے سے۔ پڑوسی سے مراد آس پاس ،مکان ،دکان ،فلیٹ یا دیگر عمارتوں میں رہنے والے لوگ ہیں۔

پڑوسی کی ایک اور قسم ان لوگوں پر بھی مشتمل ہے جو کسی وجہ سے ہم نشینی کا سبب بن جاتی ہے۔ اگر ہم  سورۃ النساء کو سامنے رکھیں تو صورتحال کچھ یوں بن جاتی ہے ۔

 ۱۔رشتہ دار پڑوسی،یہ وہ ہمسائے ہیں جو رشتہ دار بھی ہیں ان کا حق دیگر ہمسایوں کی نسبت مقدم ہے

 ۲۔اجنبی پڑوسی ،اس سے مراد وہ ہمسایہ ہے جو رشتہ دار نہیں ہے صرف ہمسایہ ہے۔ اس کا درجہ پہلے والے سے کم ہے۔

 ۳۔ہم نشین یا ساتھی،یعنی جس کے ساتھ دن رات کا اٹھنا بیٹھنا ہو اس اصطلاح کے مطابق ایک گھر یا عمارت میں رہنے والے مختلف لوگ۔ دفتر ،فیکٹری یا کسی ادارے، سکول وکالج میں پڑھنے والے طلباء، دوست اور دیگر ملنے جلنے والے لوگ شامل ہیں ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون ہمسایہ ہے اور کون نہیں ؟کچھ علماء کرام نے اردگرد کے چالیس گھروں کو پڑوس میں شمار کیا ہے لیکن یہ تعین مناسب نہیں۔ آج کل کی جدید شہری زندگی میں پرانے محلوں کا تصور بدلتا جارہا ہے۔ گھروں اور کوٹھیوں کے نزدیک بعض اوقات دور دور تک کوئی گھر نہیں ہوتا تو پھر ان کا ہمسایہ کون کہلائے گا۔اسی طرح متوسط علاقوں میں زندگی کی تیزی کے باعث گھر والوں سے ہی ملاقات نہیں ہو پاتی چہ جائیکہ دور کے  چالیس گھروں کی خبر گیری کی جائے۔ چنانچہ ہمسائیگی کی تعریف میں دائیں ،بائیں سامنے اور پیچھے کے گھر شامل ہیں۔ اب اس میں کتنے گھر شامل ہیں۔ اس کا اندازہ محلے کی وسعت دیکھ کر ہر آدمی لگا سکتا ہے۔

 قرآن مجید نے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور احسان کرنے کا حکم دیا ہے اور احسان کے عربی میں معنی بہت وسیع ہیں ۔اس سے مراد کسی کو اس کے جائز حق سے زائد دینا ہے چنانچہ معلوم ہوا کہ اللہ نے قرآن میں حقوق کی ادائیگی سے ایک قدم آگے جا کر ہمسایوں کے ساتھ احسان، بھلائی خیر خواہی اور اچھے تعلق کی ہدایت فرمائی ہے۔ حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے کہ حضورپاکﷺ نے فرمایا کہ اے ابو ذر ؓ جب تو سالن پکائے تو اس کے شوربہ کو زیادہ کرکے اپنے پڑوسی کی خبر گیری کر لے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا بیان ہے کہ اے اللہ کے رسول ﷺ!میرے دو پڑوسی ہیں تو میں کس کو ان میں سے ہدیہ بھیجوں ؟تو آپ ﷺنے فرمایا کہ جس کا دروازہ  تجھ سے زیادہ قریب ہو۔

  حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور  پاک ﷺ نے مشک کے منہ سے پانی پینے کی ممانعت فرمائی اور اس سے بھی منع فرمایا کہ اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں کھونٹی گاڑنے سے منع کرے ۔مدد کی کئی صورتیں ہیں جیسے مالی پریشانی میں ممکنہ مدد کرنا، بیماری میں خیریت دریافت کرنا، معذوری یا لاچاری میں سواری کا انتظام کر لینا،دکھ درد نیک نیتی سے بانٹنا،رازوں کی پردہ پوشی کرنا ،بچوں سے حسن سلوک کرنا

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ حضور پاکﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے اس وقت تک کوئی مومن نہ ہوگا جب تک یہ بات نہ ہو کہ وہ اپنے لئے جو پسند کرے وہی اپنے مسلمان بھائی یا پڑوسی کیلئے پسند کرے۔ اللہ ہمیں ہمسایوں کے حقوق کو جان کر ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے پڑوسی کو ہم سے راضی کر دے اور ہم سب کو دنیا اور   آخرت کی فلاح نصیب کرے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

وہ دانائے سبل ،ختم الرسل، مولائے کل ﷺجس نے غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا

سرور کونین ﷺکی آمد سے عرب سے جہالت کے اندھیرے چھٹےآپ ﷺ کی تعلیمات کی بدولت خون کے دشمن بھائی بھائی بن گئے،اللہ نے آپ ﷺ کو تما م جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجاآپ ﷺ بڑے سے بڑے دشمن کو بھی معاف فرما دیا کرتے تھے

اتباع مصطفیٰ ﷺ کی برکات ،آپ ﷺ کا پیروکار اللہ تعالیٰ کا مجبوب ہے

’’اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔ (آل عمران: آیت31)محبت ایک مخفی چیز ہے کسی کو کسی سے محبت ہے یا نہیں اور کم ہے یا زیادہ، اس کا کوئی پیمانہ بجز اس کے نہیں کہ حالات اور معاملات سے اندازہ کیا جائے۔ محبت کے کچھ آثار اور علامات ہوتی ہیں ان سے پہچانا جائے، یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے محبت کے دعویدار اور محبوبیت کے متمنی تھے وہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان آیات میں اپنی محبت کا معیار بتایا ہے۔ یعنی اگر دنیا میں آج کسی شخص کو اپنے مالک حقیقی کی محبت کا دعویٰ ہو تو اس کے لئے لازم ہے کہ اس کو اتباعِ محمدیﷺکی کسوٹی پر آزما کر دیکھ لے، سب کھرا کھوٹا معلوم ہوجائے گا۔

آمد مصطفیٰ ﷺ مرحبا مرحبا ،نبی کریم ﷺ کی آمد تمام جہانوں کے لئے رحمت

’’اور بیشک آپﷺ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں‘‘۔ (القلم ۶۸:۴)اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ربیع الاوّل شریف ہے، اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ابتداء میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت موسم ربیع یعنی فصل بہار کا آغاز تھا، یہ مہینہ فیوض وبرکات کے اعتبار سے بہت ہی افضل و اعلیٰ ہے کیوں کہ اس ماہ مبارک میں باعث تخلیق کائنات فخر موجودات حضور ﷺ نے دنیا میں قدم رنجہ فرمایا۔ 12 ربیع الاوّل بروز پیر مکۃ المکرمہ کے محلہ بنی ہاشم میں آپﷺ کی ولادت باسعادت صبح صادق کے وقت ہوئی۔

نعت ِ شریف

رہتے تھے ان کی بزم میں یوں با ادب چراغ,جیسے ہوں اعتکاف کی حالت میں سب چراغ,جتنے ضیا کے روپ ہیں، سارے ہیں مستعار

بگل بج گیا،سٹیج سج گیا، 20 ورلڈ کپ کا آغاز،27 روزہ ٹورنامنٹ میں 45 میچ کھلیے جائیں گے،فاتح ٹیم کو 16 لاکھ ڈالرز ملیں گے

’’آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ2021ء ‘‘16ٹیموں پر مشتمل ہے، جو ٹاپ ٹین ٹیموں اور ٹی 20 ورلڈ کپ کوالیفائر کے ذریعے منتخب ہونے والی چھ دیگر ٹیموں پر مشتمل ہے۔یہ ایونٹ عام طور پر ہر دو سال بعدہوتا ہے، ٹورنامنٹ کا 2020ء کا ایڈیشن بھارت میں شیڈول تھا، لیکن کورونا کی وجہ سے ٹورنامنٹ کو 2021 ء تک ملتوی کرکے متحدہ عرب امارات اوراومان منتقل کر دیا گیا۔

شہید ملت لیاقت علی خان،عظیم رہنما،صاحب فراست حکمراں

آپؒ نے تمام معاشی پالیسیوں کا رخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کردیا تھا،بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد تحریک پاکستان میں دوسرا بڑا نام لیاقت علی خانؒ کا ہے