نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کھیلوں کےسب سےبڑے پروگرام کامیاب جوان اسپورٹس ڈرائیوکاآج افتتاح ہوگا
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان آج کامیاب جوان اسپورٹس ڈرائیوکاآغازکریں گے
  • بریکنگ :- منصوبےکےپہلےمرحلےمیں ہاکی،کرکٹ اورفٹبال سمیت 12کھیل شامل
  • بریکنگ :- 11سے25سال کےنوجوانوں بشمول خواتین کےلیےکھیلوں کےمقابلےمنعقد ہوں گے
Coronavirus Updates

اسلام میں تجارت کا تصور،نبی کریمﷺ نے تجارت میں بددیانتی کو سخت نا پسند فرمایاہے

خصوصی ایڈیشن

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے تاجر پر لازم ہے کہ وہ شے کی کوالٹی کے متعلق صحیح معلومات خریدار کو بتا دے اور کسی چیز کے کسی بھی نقص کو مت چھپائے۔ اگر چیز میں کوئی نقص پڑ گیا ہو تو وہ خریدار کو سودا طے کرنے سے پہلے آگاہ کر دے۔ اسلامی تاریخ میں ہمیں کاروباری دیانت کی سیکڑوں مثالیں ملتی ہیں۔ سودا طے ہوتے وقت فروخت کار خریدار کو مال میں موجود نقص کے متعلق بتانا بھول گیا یا دانستہ چھپا گیا۔ بعد میں جب فروخت کار کو یاد آیا تو وہ میلوں خریدار کے پیچھے مارا مارا پھرا اور غیر مسلم، مسلم تاجر کی اس دیانت داری کو دیکھ کر اسلام لے آیا۔ انڈونیشیا کے باشندے دیانتدارمسلم تاجروں کے ذریعے ہی حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے۔

 اچھی معیار کی چیز میں گھٹیا شے کی ملاوٹ حرام ہے اور کاروباری اصولوں کے مطابق بھی یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ ایک مرتبہ رسول پاکﷺ غلہ کی ایک دکان کے پاس سے گزر رہے تھے کہ آپﷺ رک گئے اور اپنا دست مبارک غلہ کے ڈھیر میں ڈالا، نیچے سے گیلا غلہ نکلا جب کہ اوپر خشک غلہ تھا۔ آپ ﷺ نے اس بددیانتی کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ ’’دیانت دار تاجر روز محشر صدیقوں میں سے اٹھائے جائیں گے‘‘۔ 

تاجروں پر اسلامی اور کاروباری اصولوں کے مطابق یہ جائز نہیں کہ وہ مال کو کھلے بازار سے گوداموں میں منتقل کر کے اس کی چوربازاری شروع کر دیں یا مصنوعی قلت پیدا کر کے عوام کا خون چوسیں۔ حضرت عمرؓ نے ایسے تاجروں کے خلاف عملی اقدام کر کے ثابت کیا کہ اسلام ایسے افراد کے وجود کو ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتا جو محض دولت کی ہوس کی خاطر عوام الناس کو مصیبت میں مبتلا کرنے کے ناقابل معافی جرم کے مرتکب ہوں۔ اسلام خریدار اور فروخت کار کے درمیان آزاد اور کھلے مقابلہ کی نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ اس کی تاکید اور حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔ 

اسلام کے چودہ سو سال پہلے کے وضع کردہ اصولِ معیشت پر وقت نے کوئی اثر نہیں ڈالا۔ دنیا کے تمام ممالک اسلامی اصولوں کو اپنے اپنے نظام ہائے معیشت میں جگہ دے رہے ہیں۔ اسلام میں براہ راست کاروباری لین دین کو پسند کیا گیا ہے، جس میں دلالوں اور سٹہ بازوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔ 

اسلام کے معاشی نظام نے تجارتی کاروبار کے لئے ایک ضابطہ اخلاق مقرر کیا ہے تاکہ افراد معاشرہ کے باہمی تعلقات خوش گوار ہوں اور صالح و منصفانہ معیشت فروغ پاسکے جس کے لئے اسلام نے بنیادی اصول وضع کئے ہیں۔ ۱۔باہمی رضا مندی، ۲۔دیانت دا ری، ۳۔جائز اشیاء کی تجارت، ۴۔جوئے اور نشے کی ممانعت۔  

اسلام میں تجارت کی بنیاد باہمی رضا مندی پر ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناحق طور سے نہ کھائو، ہاں اگر باہمی رضا مندی سے تجارت ہو تو درست ہے (النساء ۳۹)۔اس آیت کریمہ کے مفہوم سے ظاہر ہے کہ اسلام صرف باہمی رضا مندی کے کاروبار کو جائز قرار دیتا ہے اور اس کے برعکس حق تلفی اور دھوکہ دہی، مکرو فریب اور ظلم وزیادتی وغیرہ ذرائع پر مبنی لین دین کو ناجائز ٹھہراتا ہے۔ اسی طرح معاملات کی وہ تمام صورتیں جن میں دوسرے کی کمزوری و مجبوری سے فائدہ اٹھا یا گیا ہو ناجائز ہیں۔ اسلامی تجارت کا دوسرا اصول دیانت داری ہے، یعنی لین دین کھلا صاف صاف او برسرعام ہونا چاہیے ۔مال کی اصل کیفیت گاہک کے سامنے رکھ دینا چاہیے اور کسی قسم کا دھوکہ فریب نہ ہو۔ تجارت کو فروغ دینے کے خفیہ ہتھکنڈے مثلاً ناپ تول میں کمی، وعدہ خلافی، خیانت، بددیانتی وغیرہ اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔ اسلامی تجارت کا ایک اہم اصول ذخیرہ اندوزی کی ممانعت ہے۔ حضور پاکﷺ نے ذخیرہ اندوزی کرنے والے کیلئے لعنت بھیجی ہے۔ اسلامی تجارت کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ ہر وہ ذریعہ جس سے بغیر محنت کسی ایک فرد کو فائد ہ پہنچتا ہو ناجائز ہے، مثلاً جوا وغیرہ۔ 

اسلامی تجارت کا ایک اہم اصول تاجروں کا اعلیٰ کردار کا ہونا ہے۔ تاجر ایسے اخلاق و کردار کا مظاہرہ کریں جس سے دوسرے متاثر ہوں۔ ان میں دولت جمع کرنے کی ہوس نہ ہو۔

 تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تبلیغ اسلام میں تاجروں کا خاص حصہ ہے تجارت کا عام مفہوم باہمی لین دین کاروبار اور خرید وفروخت ہے۔ تجارت کا لفظ دو افرادکے باہمی لین دین سے لے کر ملکوں اور قوموں کے باہمی تجارتی معاہدوں تک محیط ہے۔ آج کل اس میں ہر قسم کی صنعت اور پیشہ شامل ہے۔ پس ہر وہ شخص تاجر ہے جو کاروباری تجارت اور خرید و فروخت سے اپنی روزی کماتا ہے۔ سرکار دوعالمؐ خود تاجر تھے آپﷺ جب جوان ہوئے تو تجارت کو ہی اپنا پیشہ بنایا۔ آپ ﷺ کی دیانت صداقت امانت کا تمام مکہ معترف تھا۔ آپﷺ صادق الامین کے لقب سے مشہور تھے۔ حضرت خدیجہؓ کا کاروبار وسیع تھا انھیں ایک دیانت دار تجارتی شریک حیات کی ضرورت تھی۔ آپ ﷺ کی دیانت کا چرچا سن کر تو انھوں نے پیغام نکاح بھیجا۔ آپ ﷺ کا نکاح ہوا اور آپﷺ نے تمام تجارت خود سنبھالی۔ تاجروں کیلئے اس سے بڑھ کر اور کیا خوش قسمتی ہے کہ ان کاحلال طریقے سے رزق کمانا خود آقاﷺ کی سنت مبارک ہے۔ یہ اپنی ضرورت زندگی کیلئے رزق بھی کما رہے ہیں اور سنت کا ثواب بھی انہیں  مل رہا ہے۔آج ا س دور میں ہر طرف بے ایمانی بددیانتی کا جال بچھا ہے۔ ذخیرہ اندوزی عام ہو چکی ہے۔ ناپ تول میں کمی ہوتی ہے اسی لئے ہم پر خدا کے عذاب نازل ہو رہے ہیں۔ معاشرہ تباہ برباد ہو گیا ہے۔ ہمیں روز آخرت بھول گیا ہے اللہ ہمیں ہدایت نصیب فرمائے اور ہمارے حال پر اپنا فضل و کرم فرمائے ۔آمین 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)