نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- راوی ٹال پلازہ سےجوائن ہونےوالی تمام موٹرویزپرایم ٹیگ کااطلاق ہوگا،آئی جی
  • بریکنگ :- محفوظ سفراورماحولیاتی آلودگی کم کرنےمیں شہری تعاون کریں،آئی جی موٹروےپولیس
  • بریکنگ :- عدالتی حکم پرکل سےموٹروےایم 2پرایم ٹیگ کےبغیرگاڑیوں کےداخلےپرپابندی
Coronavirus Updates

محبت اور دشمنی صرف اللہ کیلئے ،ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے

خصوصی ایڈیشن

تحریر : مولانا زبیر حسن


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ’’جس نے اللہ کے لیے کسی سے محبت کی اور اللہ ہی کے لیے دشمنی رکھی اور اللہ ہی کے لیے دیا (جس کسی کو کچھ دیا) اور اللہ ہی کے لیے منع کیا اور نہ دیا تو اس نے اپنے ایمان کی تکمیل کر لی‘‘(ابوداؤد)۔ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اس لیے مسلمان کی کوشش اپنے ہر قول و فعل سے یہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فرمان سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کام کرنے کی وجہ سے ایمان کامل ہوتا ہے یعنی جس شخص نے اپنی حرکات و سکنات، اپنے جذبات اور احساسات اس طرح اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کر دیئے کہ وہ جس سے تعلق جوڑتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہی جوڑتا ہے اور جس سے تعلقات توڑتا ہے اللہ تعالیٰ ہی کے لیے توڑتا ہے۔ جس کو کچھ دیتا ہے اللہ ہی کے لیے دیتا ہے اور جس کو دینے سے ہاتھ روکتا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہوتی ہے۔

جس شخص کی سوچ اور تفکرات اس قدر رضائے الٰہی کے تابع ہوں، اسے اللہ تعالیٰ سے کامل تعلق اور کامل ایمان نصیب ہوتا ہے۔ عداوت یعنی دشمنی اور محبت اللہ ہی کے لیے کرنا ایسا عمل ہے جس سے انسان اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سُنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’جو لوگ میری رضا کے لیے آپس میں محبت کرتے ہیں ان کے لیے میری محبت واجب ہو جاتی ہے‘‘۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس لیے کہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں ’’جس بندے نے بھی اللہ کے لیے کسی سے محبت کی، اس نے دراصل اپنے رب کریم کی عظمت اور توقیر کی‘‘۔ جب عداوت اور محبت اللہ کی رضا کے لیے ہو تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی قدر و منزلت کا اندازہ، حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہو سکتا ہے۔ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں: ’’بندوں کے اعمال میں سے اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ محبت اور عداوت ہے جو اللہ کی رضا کے لیے ہو۔‘‘

اللہ کی رضا کے لیے مسلمان بھائی سے محبت کرنا اور رضائے الٰہی کے لیے اس سے ملاقات کرنا، کتنا عظیم عمل ہے اس کا اندازہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہو سکتا ہے، فرماتے ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’ایک شخص اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کے لیے چلا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ اس کے راستے میں منتظر بنا کر بٹھا دیا گیا۔ جب وہ شخص اس جگہ سے گزرا تو فرشتے نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟۔ اس شخص نے جواب دیا کہ میں اپنے ایک مسلمان بھائی کی ملاقات کے لیے جا رہا ہوں‘‘۔ فرشتے نے کہا کیا تمہارا اس پر کوئی احسان ہے یا کوئی اور حق ہے، جس کی خاطر اس کے پاس جا رہے ہو؟۔ اس شخص نے جواب دیا مجھے تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے محبت ہے اس لیے اس سے ملاقات کے لیے جا رہا ہوں‘‘۔ فرشتے نے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرتا ہے جس طرح تم اللہ تعالیٰ کے لیے اس شخص سے محبت کرتے ہو‘‘۔

آج معاشرے میں محبت اور عداوت کے لیے دنیاوی مفادات کو بنیاد بنا لیا گیا۔ چنانچہ کسی سے کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو اس سے محبت کی جاتی ہے۔ اس کی عزت اور توقیر معاشرے کی نگاہ میں ہوتی ہے اور جس کسی سے فائدہ نہ پہنچے، اسے عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس سے نفرت کی جاتی ہے۔

اس دنیا میں رشتہ داری اور قرابت کی وجہ سے محبت اور تعلق کا ہونا تو عام ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کی مالی مدد کرتا ہے اسے ہدیئے اور تحفے دیتا ہے تو اس محسن کی محبت بھی ایک فطری بات ہے۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے ان تمام تعلقات سے قطع نظر کرتے ہوئے، محبت اور عداوت اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔

آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں واضح ہو چکا کہ جب ہماری محبت اور نفرت کا مدار ’’رضائے الٰہی‘‘ پر ہوگا، تو اس سے ایمان کامل ہو گا، دنیا اور آخرت میں نجات اور فلاح نصیب ہو گی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور محبت حاصل ہو گی۔ جس سے اللہ تعالیٰ محبت کریں گے اس سے تمام مخلوق محبت کرے گی۔ جیسا کہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’جب اللہ تعالیٰ کسی سے محبت فرماتے ہیں تو حضرت جبریل علیہ السلام سے ارشاد ہوتا ہے کہ مجھے فلاں شخص سے محبت ہے تم بھی اس سے محبت کرو، اس پر حضرت جبریل علیہ السلام خود بھی اس شخص سے محبت کرتے ہیں اور آسمان میں اعلان کر دیتے ہیں کہ فلاں شخص اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ ہے تم سب اس سے محبت کرو۔ پس آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں اور زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کی محبت ڈال دی جاتی ہے‘‘۔

اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کسی سے محبت کرنے کا کتنا بڑا انعام ملتا ہے کہ سب آسمان اور زمین والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ والوں کی طرف، دل خود بخود کھینچتا ہے۔ کسی اندرونی جذبے کے تحت ان سے محبت اور الفت جوش مارنے لگتی ہے۔

بے لوث محبت کی وجہ سے دوسروں کے دل میں بھی عزت اور توقیر بڑھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیاوی اور اخروی انعامات ملتے ہیں اور آخرت میں بلند و بالادرجات نصیب ہوتے ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ ’’کہاں ہیں میرے وہ بندے جو میری عظمت اور میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت کرتے تھے؟ آج جب کہ میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں، میں اپنے ان بندوں کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دوں گا‘‘۔

بے لوث محبت کرنے والوں کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ’’پس اللہ کی قسم ان کے چہرے قیامت کے دن نورانی ہوں گے اور وہ لوگ نور کے منبروں پر ہوں گے، عام انسان جس وقت قیامت کے دن خوف و ہراس کا شکار ہوں گے۔ اللہ کی رضا کے لیے آپس میں محبت کرنے والے بے خوف اور مطمئن ہوں گے‘‘۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی باہمی محبت اور عداوت اپنی رضا کی خاطر نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)