مہمان نوازی کی برکات، کھانا کھلانے اور میزبانی کرنے کے بے پناہ فضائل ،یہ بڑے ثواب کا کام ہے
مہمان کے آنے پر اس کا پرتپاک استقبال کرنا، اسے خوش آمدید کہنا اور اس کی خاطر مدارت کرنے کا رواج روزِ اوّل سے ہی دنیا کی تمام مہذب قوموں کی روایت رہی ہے۔ دینِ اسلام نے مہمان نوازی کے متعلق جو بہترین اصول و قواعد مقرر کئے ہیں یا جس خوبصورت انداز سے اسلام نے ہمیں مہمان نوازی کے آداب و ضوابط کا پابند بنایا ہے، دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔دنیا کی ہر مہذب قوم کے نزدیک مہمان کی عزت و توقیر خود اپنی عزت و توقیر اور مہمان کی ذلت و توہین خود اپنی ذلت و توہین کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔ فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے:’’جس گھر میں مہمان ہو اْس میں خیرو برکت اْونٹ کی کوہان سے گرنے والی چھڑی سے بھی تیز آتی ہے۔ (ابن ماجہ:3356)
مہمان نوازی کی اسلام میں بڑی قدرومنزلت ہے مگر آج کے مادی دور میں مسلمان اس صفت سے عاری ہوتے نظر آرہے ہیں۔ تھوڑے بہت ہوں گے جنہیں اللہ کی توفیق سے مہمان نوازی کا شرف حاصل ہو جاتا ہے جبکہ اکثر کے حصے میں محرومی آتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آج کھانے پینے کی کمی ہے یا دعوتیں اور تقریبا ت منعقد نہیں ہوتیں۔ اس معاملے میں تو ہم سب بہت آگے ہیں مگر وہ دعوت کہاں نظر آتی ہے جس میں کوئی بھوکا شامل ہو، کوئی فقیر ومسکین شریک ہوا ہو یا اس میں کسی یتیم کو بلایا گیا ہو۔ آج کل کی اکثر دعوتیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کے مصداق ہیں۔سیدنا ابوہریرہؓ کہتے تھے کہ برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں امیر بلائے جائیں اور مساکین نہ بلائے جائیں تو جو دعوت میں نہ حاضر ہو اس نے نافرمانی کی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔(صحیح مسلم:1432)
قرآن پاک میں انصاری صحابی کی ضیافت کا ذکر ہے، آیئے اسے پڑھ کے اپنا ایمان تازہ کرتے ہیں، فرمان الٰہی ہے ’’جو ان کے پاس وطن چھوڑ کر آتا ہے اس سے محبت کرتے ہیں، اور اپنے سینوں میں اس کی نسبت کوئی خلش نہیں پاتے جو مہاجرین کو دیا جائے، اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ ان پر فاقہ ہو، اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا جائے پس وہی لوگ کامیاب ہیں‘‘(الحشر:9)۔
اس آیت کی شان نزول میں صحیح بخاری میں نہایت ہی ایمان افروز واقعہ مذکور ہے چنانچہ ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک صاحب حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! میں فاقہ سے ہوں۔ نبی کریمﷺنے انہیں ازواج مطہرات کے پاس بھیجا کہ وہ آپ کی دعوت کریں لیکن ان کے پاس کوئی چیز کھانے کی نہیں تھی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ کیا کوئی شخص ایسا نہیں جو آج رات اس مہمان کی میزبانی کرے؟ اللہ اس پر رحم کرے گا۔ اس پر ایک انصاری صحابی حضرت ابوطلحہؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہﷺ! یہ آج میرے مہمان ہیں۔ پھر وہ انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے مہمان ہیں، کوئی چیز ان سے بچا کے نہ رکھنا۔ بیوی نے کہا اللہ کی قسم میرے پاس اس وقت بچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ انصاری صحابی نے کہا اگر بچے کھانا مانگیں تو انہیں سلا دو اور آؤ یہ چراغ بھی بجھا دو، آج رات ہم بھوکے ہی رہ لیں گے۔ بیوی نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ انصاری صحابیؓ صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں (انصاری صحابیؓ) اور ان کی بیوی (کے عمل) کو پسند فرمایا، یا آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مسکرایا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ’’اور اپنے سے مقدم رکھتے ہیں اگرچہ خود فاقہ میں ہی ہوں‘‘ (الحشر:9)، (صحیح البخاری: 4889)۔ سبحان اللہ کتنے عظیم ہیں وہ میزبان جن کی تعریف اللہ کرے اور ان کا ذکر قرآن میں کرے ۔
کھانا کھلانے اور میزبانی کرنے کے بڑے فضائل ہیں اور یہ بڑے ثواب کا کام ہے، نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں :’’تم میں سے سب سے بہتر آدمی وہ ہے جو کھانا کھلاتا ہے اور سلام کا جواب دیتا ہے‘‘(صحیح الجامع:3318)۔اور جو ضیافت نہیں کرتا وہ خیر سے محروم ہے، نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں’’اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے جو میزبانی نہ کرے‘‘ (صحیح الجامع:7492)۔
آخری بات یہ ہے کہ صرف مسافر کو کھلانا ہی اجر کا باعث نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کو دعوت دینا اور کھانا مسنون عمل ہے۔ اس سے محبت بڑھتی ہے۔ جو کوئی ہمارے گھر زیارت کو آئے بغیر تکلف کے جو بن سکے پیش کرنا چاہئے خواہ ایک گلاس پانی ہی سہی۔ غریب ومسکین ، نادار ویتیم ،قلاش ومفلس اور فقیر و حاجت مند کو کھلانا اجر وثواب کا کام ہے۔ اللہ ہم سب کو دین کی سمجھ دے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے۔
(ڈاکٹر عقیل احمدمعروف مذہبی سکالر ہیں اور
ایک نجی یونیورسٹی کے شعبہ علومیہ
سے وابستہ ہیں)