محترمہ بینظیر بھٹو شہید , جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا،وہ شان سلامت رہتی ہے

تحریر : محمد ارشد لئیق


عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم کو دنیا سے رخصت ہوئے 14 برس بیت گئے,تمام تر مشکلات کے باوجود سیاسی جدوجہد کا راستہ ترک نہیں کیا,ذوالفقار علی بھٹو کی ’’پنکی‘‘ سیاسی میدان کی ’’ بی بی‘‘ کہلائیں,مرتضی بھٹو کی ناگہانی موت، شوہر کی قید وبند کو ثابت قدمی سے برداشت کیا,سیاسی کریئر میں اسلامی معاشرت کے مطابق سر پر اوڑھنے والا دوپٹہ مرتے دم تک نہ اترا

ماہِ دسمبر پاکستان کیلئے نہایت دکھ اور رنج و الم کا مہینہ ہے جس میں سقوط ڈھاکہ، سانحہ آرمی پبلک سکول اور بینظیر بھٹو کی شہادت جیسے دلخراش واقعات پیش آئے۔

زندہ قومیں ملک کی قسمت بدلنے والے عظیم لیڈروں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو جیسے عظیم لیڈر عطا کئے جنہوں نے بے شمار قربانیاں دے کر پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کو آج کے دن جب راولپنڈی میں شہید کیا گیا تو وہ سیاست دان سے زیادہ ایک مدبر رہنما اور روشن خیال دماغ رکھنے والی لیڈر بن چکی تھیں۔ دختر مشرق شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اسلامی ممالک میں پہلی خاتون وزیراعظم تھیں جنہوں نے اس ملک کی ترقی اور خوشحالی میں نمایاں کردار ادا کیا اور متعدد انقلابی اقدامات کیے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو 21جون 1953ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے پرائمری تعلیم لیڈی ہینگز نرسری سکول اور کونوینٹ آف جیوزز اینڈ میری کراچی سے حاصل کی، راولپنڈی پریزنٹیشن میں دو سال گزارنے کے بعد وہ مری میں جیوز اینڈ میری کونوینٹ مری چلی گئیں۔ انہوں نے اولیول کا امتحان پندرہ سال کی عمر میں پاس کیا جبکہ اس کے بعد انہوں نے اے لیول کراچی گرائمر سکول سے مکمل کیا۔

1969ء سے 73ء تک وہ ریڈ گلف کالج اور ہارورڈ یونیورسٹی میں پڑھتی رہیں، جہاں انہوں نے بی اے کی ڈگری حاصل کی جبکہ انہوں نے اپنی تعلیم کا اگلا مرحلہ برطانیہ میں مکمل کیا۔ 1973ء سے 77ء کے درمیان محترمہ بینظیر بھٹو نے لیڈی مارگریٹ ہال آکسفورڈ میں سیاسیات، اقتصادیات اور فلسفے کی تعلیم حاصل کی جبکہ انہوں نے بین الاقوامی قانون اور ڈپلومیسی کے حوالے سے کورس آکسفورڈ یونیورسٹی سے مکمل کیا جبکہ 1976ء میں وہ آکسفورڈ یونین کی صدر منتخب ہو گئیں اور وہ پہلی ایشیائی خاتون تھیں جو آکسفورڈ یونین کی سربراہ بنیں۔

110اپریل 1986ء کو بینظیر بھٹو اپنی جلاوطنی کے بعد جب لاہور پہنچیں تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا ایک اندازے کے مطابق 10 لاکھ سے زائد افراد ان کے استقبال کیلئے لاہور کی سڑکوں پر آئے۔

 18دسمبر 1987ء کو محترمہ بینظیر بھٹو کی کراچی میں آصف علی زرداری کے ساتھ شادی ہو گئی۔ بینظیر بھٹو کے تین بچے بلاول زرداری، بختاور زرداری اور آصفہ ہیں۔1988ء میں پہلی اور 93ء میں دوسری مرتبہ وزیراعظم بنیں،1998ء میں دبئی چلی گئیں،10سال بعد2007ء کو وطن واپس آئیں، بینظیر بھٹو اپنے باپ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی ’’پنکی‘‘ اور سیاسی میدان کی ’’بی بی‘‘ کہلائیں۔

 بینظیر بھٹو کے والد سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 1975ء میں احمد رضا قصور کے قتل کے الزام میں برطرف کر دیا گیا اور بعد ازاں انہیں پھانسی دی گئی۔ انہیں 4اپریل 1979ء کو پھانسی ہوئی جبکہ اس دوران بینظیر بھٹو اور ان کی والدہ کو حراست میں رکھا گیا۔ 1980ء میں بینظیر بھٹو کے بھائی شاہنواز بھٹو کو قتل کر دیا گیا جبکہ 1996ء میں ان کے دوسرے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کو بھی قتل کر دیا گیا۔ 

محترمہ بینظیر بھٹو ابھی زیر تعلیم تھیں تو ان کی جدوجہد اور امتحان شروع ہو گئے۔ مقبول ترین سیاسی لیڈر باپ کی گرفتاری، قتل جیسے مقدمات میں نامزدگی، متنازع عدالتی کارروائی اور سزائے موت تک کا سفر بینظیر کی زندگی کے مشکل ترین دن تھے۔ بینظیر نے نہ صرف تمام حالات کا صبر و تحمل سے مقابلہ کیا بلکہ جمہوریت کا راستہ اپنا کر خود کو بھٹو کا جانشین ثابت کیا۔ والد ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد پارٹی پرچم اٹھا کرخود میدان میں اتریں اور سیاسی کریئر کا آغاز کیا اور تمام تر مشکلات کے باوجود سیاسی جدوجہد کا راستہ ترک نہیں کیا۔

بینظیر بھٹو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان میں واپس آئیں تو انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا جبکہ 1984ء میں انہیں برطانیہ جانے کی اجازت دی گئی۔ 16نومبر1988ء کو بینظیر بھٹو نے ملک میں ہونیوالے انتخابات میں حصہ لیااوران کی جماعت قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری۔قومی اسمبلی میں اکثریت کے باعث بینظیر ملک کی وزیراعظم بن گئیں۔  2 دسمبر کو بینظیر بھٹو نے پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔وہ ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں، اس وقت ان کی عمر 35سال تھی۔

 اگست 1990ء میں صدر غلام اسحاق خان نے اسمبلیاں تحلیل کر دیں اور بینظیر بھٹو کی حکومت کو برخاست کر دیا۔ بینظیر کے خاوند آصف علی زرداری کو اغوا کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

1989ء میں انہیں لبرل انٹرنیشنل کی طرف سے پرائز فار فریڈم عطاء کیا گیا۔ 

اکتوبر 1990ء میں ہونیوالے انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی ہار گئی اور اسے اپوزیشن میں بیٹھنا پڑا۔ بینظیر کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چنا گیا۔

 اکتوبر1993ء میں ہونے والے انتخابات میں پی پی پی نے کامیابی حاصل کی اور بینظیر بھٹو دوسری بار وزیراعظم بن گئیں۔جبر کے تمام ہتھکنڈے ناکام بنا کر وہ عوام کی طاقت سے اقتدار میں آئیں مگر ان کے خلاف سازشیں ختم نہیں ہوئیں۔ 3سال بعد 5نومبر1996ء کو صدر فاروق احمد لغاری نے بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت ختم کردیا۔ آصف علی زرداری کو ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا۔ جس کے بعد ایک مرتبہ پھر نواز شریف ملک کے وزیراعظم بنے اور بینظیر بھٹو نے اپوزیشن لیڈر کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔

1998ء میں بینظیر بھٹو دوبئی چلی گئیں۔ بینظیر بھٹو پر اس دوران کرپشن کے الزامات بھی لگائے گئے، مقدمے بنائے گئے، شوہر کو جیل میں ڈالا گیا، جلا وطن کیا گیا لیکن بینظیر نے ہمت نہیں ہاری۔ 

اپریل 1999ء میں لاہور ہائیکورٹ نے بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو ٹیکنا اور ایس ای ایس کیس میں سزا سنائی۔ دو سال بعد سپریم کورٹ نے یہ سزا ختم کر دی۔

 اپریل 1999ء میں ہی بینظیرنے جلاوطنی اختیار کی۔ اس دوران انہوں نے زیادہ تر وقت لندن اور دبئی میں گزارا۔

12اکتوبر 1999ء کو نوازشریف کی حکومت کو ختم کر کے جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا۔

جولائی2002ء کو صدر جنرل مشرف نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے پر پابندی عائد کر دی۔ بظاہر اس آرڈیننس کا مقصد سابق وزرائے اعظم نوازشریف اور بینظیر کا اقتدار میں آنے کا راستہ روکنا تھا۔

جولائی2003ء میں سوئس عدالت نے بینظیر اور آصف زرداری کو منی لانڈرنگ کے ایک مقدمے میں چھ ماہ کی سزا سنائی۔ بعد میں اپیل پر عدالت نے سزا ختم کر دی۔

 جنوری2006ء میں انٹرپول نے پاکستانی حکومت کی ایک درخواست پر بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف بین الاقوامی ریڈ نوٹس جاری کر دیئے۔

14ستمبر 2007ء کو پی پی پی قیادت نے اعلان کیا کہ بینظیر بھٹو 18اکتوبر کو وطن واپس پہنچیں گی۔

 چار اکتوبر2007ء کو صدر مشرف نے بینظیر کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری کیا۔

 12 اکتوبر2007ء کو سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر مبشر حسن، سابق بیورو کریٹ روئیداد خان اور قاضی حسین احمد کی درخواست پر مفاہمتی آرڈیننس کے تحت ملنے والی رعایت کو عدالتی فیصلے سے مشروط کر دیا۔

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹودس سالہ جلاوطنی کے بعد 18اکتوبر 2007ء کو وطن واپس آئیں اور جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اتریں توگزشتہ 8 سال میں یہ پہلا موقع تھا کہ انہوں نے اپنی سرزمین پر قدم رکھا۔ ایک طرف ان کے چاہنے والے جیالے استقبال کرنے کو بے چین تھے تو دوسری طرف ان کے دشمن بھی گھات لگائے ہوئے تھے۔ کارساز کراچی میں ان کے ٹرک کو بھاری بارود سے اڑانے کی کوشش کی گئی، محترمہ کی جان تو اللہ نے بچا لی لیکن 250 جیالے اپنی قائد پر قربان ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں بینظیر بھٹو کے سکیورٹی گارڈز بھی شامل تھے ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا یہ اندوہناک ترین واقع تھا۔ تاہم بینظیر بھٹو اس حملے میں مکمل طور پر محفوظ رہیں جبکہ اس کے بعدمحترمہ بینظیر بھٹو کو قتل کی دھمکیاں وغیرہ ملتی رہیں۔ محترمہ نے خوف زدہ ہونے اور اپنے جیالوں کے خون پر خاموش ہونے سے انکار کر دیا اور نئے جذبے سے عوام کے حقوق کا پرچم اٹھا کر میدان میں نکل پڑیں۔ 

دشمن بھی مکار اور ظالم تھا اور پھر 27دسمبر کو جمعرات کی شام محترمہ بینظیر بھٹو جب راولپنڈی کے لیاقت باغ میں انتخابی مہم کے حوالے سے اپنا جلسہ ختم کرکے نکلنے لگیں تودشمن کا جال تیار تھا ،پہلے ایک کرائے کے قاتل نے گولی سے حملہ کیا، پھر ایک دھماکہ ہوا،انہیں شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ گولی ان کی گردن اور سر میں لگی، جس سے ان کی سانس بند ہو گئی، ڈاکٹروں نے ان کی جاں بچانے کی سرتوڑ کوشش کی تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں اور خالق حقیقی سے جا ملیں اور محترمہ بینظیر بھٹو بھی شہادت کا درجہ پا کر زندہ جاوید ہو گئیں۔ بینظیر بھٹو کے وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ انہیں خط موصول ہواتھا جس میں بینظیر بھٹو کو قتل کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

بینظیر نے مختلف کتابیں بھی لکھیں جن میں ان کی انگریزی زبان میں لکھی گئی کتاب ’’دی گیدرنگ سٹارم‘‘، ’’ڈاٹر آف دی ایسٹ ‘‘، ’’ڈاٹر آف ڈیسٹنی‘‘، ’’ری کنسیلیشنــ‘‘ اور ہسپانوی زبان میں لکھی گئی کتاب ’’ہجا دی اورینیٹے‘‘ شامل ہیں۔ بینظیر بھٹو کی زندگی پر بھی مختلف لوگوں نے کتابیں لکھیں جن میں ڈبلیو ایف پیپر کی ’’بینظیر بھٹو‘‘ ،رفیق ذکریا کی ’’دی ٹرائل آف بینظیر‘‘، کیتھرین ایم ڈوھرٹی کی ’’بینظیر بھٹو‘‘، ڈبلیو ایچ ایلن کی ’’بائیو گرافی آف بینظیر بھٹو‘‘، ایلزبتھ بوچلڈ کی ’’بینظیر بھٹو وزیراعظم‘‘، اقبال اخوند کی ’’ٹرائل اینڈ ایرر‘‘، ’’بینظیر حکومت پہلا دور ، کیا کھویا کیا پایا‘‘، مرسڈیز اینڈرسن کی ’’بینظیر بھٹو، خاتون سیاست میں‘‘ اور میری اینکلرکی ’’پاکستانی وزیراعظم اور کارکنان‘‘ شامل ہیں۔

 پیپلز میگرین نے بینظیر بھٹو کو دنیا کی 50خوبصورت خواتین میں شامل کیا۔  بینظیر بھٹو نے اپنے پورے سیاسی کریئر میں کبھی دوپٹہ سر سے اترنے نہیں دیا، دوپٹہ مرتے دم تک ان کے سر پر رہا۔

بینظیر بھٹو پر طویل جلاوطنی کے بعد تین مہینوں کے اندر دو حملے کئے گئے جبکہ ان کے باپ کو سولی پر چڑھایا گیا تھا۔ ماں بیماری کے باعث پس منظر میں چلی گئیں، ایک بھائی، بہن کے دور حکومت میں سر عام قتل کر دیا گیا اور ایک بھائی نے فرانس میں پراسرار طور پر دنیا سے منہ موڑ لیا۔ شوہر کو سیاسی طور پر ایک متنازعہ شخصیت بنا دیا گیا اور خود کو دو مرتبہ وزیراعظم بننے کے باوجود 8سال تک خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنی پڑی۔بینظیر بھٹو ایک حوسلہ مند خاتون تھیں،اپنے بھائی مرتضی بھٹو کی ناگہانی موت اورشوہر کی قید و  بند کو ثابت قدمی سے برداشت کیا۔

 بینظیر بھٹو اپنے باپ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی پنکی اور سیاسی میدان کی بی بی کہلائیں۔ سیاسی پنڈتوں نے یہ پہلے ہی جان لیا تھا کہ ایشیاء کے ایک بڑے سیاسی رہنما کی بیٹی مستقل کی سیاستدان ہوں گی۔پنکی اب محترمہ بے نظیر بھٹو بننے کے سفر پر نکل چکی تھیں۔ یہ وہی زمانہ تھا جب ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو پاکستان میں صاحب اقتدار تھے۔ پھر حالات بدلے مسٹر بھٹو کی حکومت جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں ختم ہو گئی اور 1979ء میں ذوالفقار علی بھٹو پھانسی چڑھا دیئے گئے اور یوں بھٹو خاندان کا شیرازہ بکھرنے لگا، سبھی ملک سے باہر چلے گئے۔

پہلے والدہ نصرت بھٹو نے پارٹی کی کمان سنبھالی لیکن بعد میں یہ کمان بینظیر بھٹو کے ہاتھوں میں آ گئی۔ ملک سے باہر بیٹھ کر وہ پارٹی بھی چلاتی رہیں اور ملک میں مارشل لاء کے کارناموں کا مشاہدہ بھی کرتی رہیں۔ 1985ء میں ضیاء الحق نے ظاہر مارشل لاء ختم کر دیا تو طویل جلا وطنی کے بعداپریل 1986ء میں بینظیر بھٹو وطن واپس آ گئیں، عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر نے ان کا استقبال کیا۔

انہوں نے ملک بھر کا دورہ کیا اور عوام ایک مرتبہ پھر سیاست کے میدان میں آ گئیں۔ اگست1988ء میں ضیاء الحق کا طیارہ تباہ ہونے کے ساتھ ہی ایک غیر عوامی دور ختم ہو گیا۔ عام طور پر خیال تھا کہ بینظیر بھٹو کی قیادت ولولہ انگیز قیادت ہوگی۔ سیاست کے فرسودہ اصولوں سے نجات اور ملک ترقی اور روشن خیالی کے نئے دور میں داخل ہو جائے گا مگر دسمبر1988ء میں سادہ اکثریت حاصل ہونے والی حکومت شوہر آصف علی زرداری اور کچھ ساتھیوں کی مبینہ کرپشن کی وجہ سے 6اگست 1990ء کو ختم ہو گئی۔18جولائی 1993ء کو ایک مرتبہ  پھر اقتدار کا ہما بینظیر بھٹو کے سر بیٹھا۔5نومبر 1993ء کو ملنے والے اقتدار کی بساط 5نومبر 1996ء کو لپیٹ دی گئی، الزامات وہی پرانے تھے، یعنی کرپشن اور اقربا پروری ۔

ملک کی سیاست پر اُس وقت سب سے بڑا نام محترمہ بینظیر بھٹو کا تھا تاہم 27دسمبر کو بینظیر کے جاں بحق ہونے کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان کا ایک اور فرد سیاست کے راستے میں زندگی کی جنگ ہار گیا۔

لیاقت باغ جلسے میں ان کا آخری خطاب ایک مفکرانہ اور بلیغ تصورات زندگی رکھنے والے قومی رہنما جیسا تھا۔ اس جلسے کی کامیابی سے وہ بہت خوش تھیں۔ غالباً انہیں امید ہو چکی تھی کہ جب وہ تیسری مرتبہ اقتدار میں آئیں گی تو اپنے لئے وہ تجربات اور ان کی ناکامیوں کو نہیں دہرائیں گی۔ 

جب وہ تقریر ختم کرنے کے بعد اسٹیج کی سیڑھیوں سے اتر رہی تھیں تو ان کی باڈی لینگویج سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ ایک فاتح کی حیثیت سے جلسہ گاہ چھوڑ رہی ہیں۔ کسے معلوم تھا کہ چند لمحوں بعد کیا ہونے والا ہے۔ کسے خبر تھی کہ یہ محترمہ کا آخری خطاب ہوگا اور اس کے بعد انہیں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے موت کی نیند سلا دیا جائے گا۔ 

سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ لیاقت باغ کیا ہے؟ اس باغ میں قیام پاکستان سے لے کر آج تک اس دھرتی کے عظیم پھولوں کا لہو بھی شامل ہے۔ یہ باغ نہیں کوئی قتل گاہ لگتی ہے۔ یہ زرخیز زمین ہے یا خونخوار وادی ہے۔ یہ تشنہ لہو سرزمین ہے، یہ زمین دھواں اور بارود بھی اگلتی ہے۔ اسے باغ کیوں کہا جاتا ہے، اس نے چمن وطن کے لائق دماغ چھینے ہیں۔ قائد ملت شہید لیاقت علی خان جیسا بڑا لیڈر نگل جانے کے بعد اس کی تشنگی کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی۔ قائد اعظم کے اس ساتھی اور ملک کے پہلے وزیر اعظم کا خون چوس کر اس کی تشنگی سیراب نہیں ہوئی، اسے ایک اور عظیم شخصیت کی تلاش تھی۔ یہ باغ اسے اپنی جگہ تو نہ دے سکا لیکن تھوڑے ہی فاصلے پر ملک کے ایک منتخب وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ اسی لیے محترمہ اپنے خطاب میں یہ کہہ رہی تھیں کہ راولپنڈی نے مجھے بہت سی خوشیاں اور بہت سے غم بھی دیئے۔

ہو سکتا ہے کہ بینظیر کے قاتلوں کو یہ یقین ہو کہ ان کے بعد پیپلز پارٹی ختم اور بھٹو کا نام مٹ جائے گا لیکن وقت نے دیکھا کہ بھٹو ازم ایک نئے عزم کے ساتھ زندہ ہوا۔ آج محترمہ بینظیر بھٹو کا صاحبزادہ بلاول بھٹو اپنے نانا اور والد کی میراث لے کر سیاست کے میدان میں سرگرم ہے وہ ایک مدبر اور مکمل سیاستدان کی طرح آگے بڑھ رہا ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھٹو زندہ ہے۔ بھٹو نے عوامی راج کا سفر 1969ء میں شروع کیا تھا وہ دوسری صدی اور تیسری نسل تک پہنچ چکا ہے اور کامیابی کے ساتھ منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

ارشد لئیق سینئر صحافی ہیں، ملک کے موقر جریدوں 

میں ان کے سیکڑوں مضامین شائع ہو چکے ہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

سفارتی کامیابیاں مگر معاشی محاذ پر مشکلات

پاکستان نے حالیہ مہینوں میں سفارتی محاذ پر غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے دوران پاکستان نے نہ صرف متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اپنے کردار کو بھی نمایاں کیا۔

مجوزہ 28ویں ترمیم اوراپوزیشن کی سیاست

ملک کے سیاسی حلقوں میں سرگوشیاں ہیں کہ حکومت آنے والے دنوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 28 ویں ترمیم کی منظوری کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔

منشیات مافیا اور طاقت کے سائے

یونانی فلسفی اناکارسس نے کیا خوب کہا تھا کہ قانون مکڑی کاوہ جالا ہے جس کو طاقتور؍امیر توڑتے ہوئے نکل جاتا ہے جبکہ کمزور؍غریب اس میں پھنس جاتا ہے۔

خیبر پختوا کے جنوبی اضلاع غیر محفوظ کیوں؟

خیبرپختونخوامیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پردہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

بلوچستان: چیلنجز کے باوجود استحکام کی نئی امید

بلوچستان میں ایک طرف دہشت گردی، بیرونی مداخلت، سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں اور خصوصاً خواتین کو گمراہ کرنے کی منظم سازشیں ہیں تو دوسری جانب ریاست، سکیورٹی ادارے، سیاسی قیادت اور صوبائی حکومت ایک مربوط حکمت عملی کے ذریعے امن، ترقی اور قومی وحدت کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

آزاد کشمیر: انتخابات سے قبل سیاسی کشمکش تیز

آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ قانون ساز اسمبلی کی پانچ سالہ مدت اسی سال دو اگست کو مکمل ہو جائے گی۔