اپنا مساج آپ
اپنے ہاتھوں سے جسم کا مساج کرنے سے نہ صرف تمام عضلات کو سکون ملتا ہے بلکہ یہ بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات کو بھی روکتا ہے۔
اس سے دوران خون میں بہتری آتی ہے۔ چہرے کی جھریاں دور کرنے کے علاوہ رگوں کی سختی کم کرنے اور درد میں مبتلا اعضا کو آرام پہنچاتا ہے۔مساج کے دوران جسم پر ضربیں لگانے سے آرام ملتا ہے۔
انگریزی زبان میں اسے Strokingکہا جاتا ہے۔ دونوں ہاتھوں کے ذریعے جسم کے مختلف حصوں مثلاً پیروں، ٹانگوں، بازوئوں یا سر پر ہلکی ہلکی ضربیں لگانے سے جسم میں خون کی گردش بہتر اور رواں رہتی ہے۔ انگلیوں کی پوروں یا انگوٹھے سے بھی ضربیں لگائی جا سکتی ہیں۔
رگڑ پیدا کرکے دیکھئے
Frictionنہایت عمدہ مشق ہے۔ اس عمل میں اپنی ہتھیلیوں کو جسم کے مختلف حصوں پر رگڑا جاتا ہے۔ ہفتے میں دو سے تین مرتبہ جسم کی ہلکی پھلکی رگڑائی کر لینے سے مردہ جلد کی تہہ اتر جاتی ہے اور جلد نکھر سی جاتی ہے۔ رگڑائی کرنے کیلئے بے بی آئل، سرسوں کا تیل یا بادام کی کھلی بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ جلد کے سخت حصے مثلاً ایڑھیاں گھٹنے اور کہنیاں اس طرح صاف بھی ہوں گی اور نرم بھی ہو جائیں گی۔ اس سے موئسچرائزنگ کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔ سکرب کو گردن ، بغل اور گھٹنوں جیسے حساس حصوں پر استعمال نہ کریں تو بہتر ہے۔
نہانے کے بعد کے مراحل
نہانے کے بعد نم آلود جسم کے جن اعضا پر ضروری سمجھیں سکرب لگائیں اور ہر حصے پر کم از کم دو منٹ تک رگڑائی کریں لیکن بہت زیادہ سختی نہ کی جائے تو اچھا ہے جسم کے نکھار کیلئے بہت اچھا ہو اگر رگڑائی کے بعد بھی ایک بار غسل کر لیا جائے۔
ٹشوز کو دبانا، مساج کا اہم مرحلہ
Kneadingایک ایسا عمل ہے جس میں ہم ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کے ٹشوز کو دباتے ، گھماتے اور ٹٹولتے ہیں۔ اس عمل کو انگلیوں یا انگوٹھے کی مدد سے مساج کرنا کہتے ہیں۔ اس عمل سے ٹشوز مضبوط ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے آرام دہ پوزیشن میں بیٹھ کر تیل یا موئسچرائزر ہاتھوں پر مل لیا جائے۔ ہاتھوں کو گھٹنے کے گرد لپیٹا جائے اور اوپر کے رخ مساج کرنا شروع کیا جائے۔ اپنے ہاتھوں کو دائرے کی شکل میں حرکت دی جائے۔ پانچ مرتبہ ایسا کرنے کے بعد اسی انداز میں دوسرے ہاتھ یا دوسری ٹانگ کا بھی مساج کیا جا سکتا ہے۔ آٹھوں انگلیاں گھنٹے کے عقبی حصے میں پیچھے کی جانب رکھی جائیں اور اوپر کی جانب کھینچی جائیں اس طرح جسم کے نظام اخراج پر اچھا اثر ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہی عمل دوسرے ہاتھ کی مدد سے کیا جائے۔ اسی طرح بازوئوں کو دبائیں، کمر کے بل لیٹ کر اپنے پیٹ کو انگلیوں اور انگوٹھوں کی مدد سے گوندھنے کے انداز میں دبائیں اس کے بعد کروٹ لے کر لیٹ جائیں اور اسی انداز میں اپنے جسم کے مختلف حصوں کو دبائیں۔ یہی عمل دوسرے پہلو کے بل لیٹ کر دہرایا جا سکتا ہے۔