آرائشی آئینے ، گھر کی خوبصورتی بڑھائیں

تحریر : زینب عرفان


اندرونی رہائش کی جدت طرازی کا ایک نمونہ آرائشی آئینے بھی ہو سکتے ہیں۔ گھروں کی آرائش کے ضمن میں کئی اشیاء نمایاں کردار ادا کرتی ہیں، ان میں فرنیچر، کمرے کا رنگ و روغن، فال سیلنگ لائٹنگ، پردے، چلمن یا قالین، آرائشی پودے، وال پیپرز، کافی ٹیبل اور ٹیبل لیمپس غرضیکہ ایک نہیں کئی اشیاء کو صحیح جگہوں پر تناسب سے رکھنا توجہ طلب کام ہے۔

 آج بطور خاص دیواروں پر تصاویر کے بجائے آرائشی آئینوں کی اہمیت پر بات کرتے ہیں۔ یہ آئینے مختلف خم، سٹائل اور ساخت کے دستیاب ہوتے ہیں۔ یہ ذوق جمال کے دلکش پہلو ہیں جنہیں آئینوں سے رغبت ہوتی ہے وہ پرانا فرنیچر بیچنے والوں کے پاس بارہا چکر لگاتے ہیں تاکہ اگر کوئی جھروکایا ایوان میں جڑا آئینہ دستیاب ہو سکے تو کیا بات ہے۔ کلاسیکی اور قدیم تہذیبی نقطہ نظر سے بنایا جانے والا فرنیچر آج بھی پالش کرکے استعمال کیا جا رہا ہے تاہم اس میں کسی نہ کسی جگہ کچھ نہ کچھ جدیدیت لانے کی کوششیں بھی اختیار کی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر آج کل ڈارک ٹون میں فرنیچر پینٹ کیا جا رہا ہے اسی طرح آئینوں کی شبیہیں بھی اب یکسر مغلئی یا دہلوی مکتبہ فکر سے میچ نہیں کر رہیں بلکہ خاتون خانہ کی اپنی انفرادی سوچ کے زاویے کو اہمیت دیتی ہیں۔

بازار میں ماڈرن اور کلاسیکی اور الٹر کلاسک ہر طرح کے آئینے دستیاب ہیں اور زاویوں میں افقی، عمودی، گولائی یا مستطیل آپ کسی بھی زاویے کے آئینے استعمال کر سکتی ہیں۔ ہر گھر میں ایک نہ ایک ایسا گوشہ موجود ہوتا ہے جو نسبتاً تاریک یا بے رونق سا معلوم ہوتا ہے۔ اس جگہ اگر آپ آئینہ نصب کرتی ہیں تو کمرے کی جاذبیت بڑھ جاتی ہے۔

عام طور پر مختصر رقبے کے مکانات یا فلیٹوں کی آرائش کیلئے آئینے ہی موثر دفاعی ہتھیار ہوتے ہیں کیونکہ ان سے کمروں میں کشادگی کا تاثر ملتا ہے تاہم چند نکات پیش نظر رہنا ضروری ہیں۔

روشنی کا انعکاس یا رنگوں کی بہار

 آپ ہر جگہ ٹیبل لیمپس تو نہیں رکھ سکتیں نہ ہی ہر کمرے کی روشنیاںہولڈر میں پرانی وضع قطع سے لگائی جا سکتی ہیں۔ لائٹس کے قریب آئینے رکھے جائیں یا آویزاں کئے جائیں تو روشنی کے انعکاس کے بعد کمرے میں ڈرامائی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

کھڑکیوں کے آس پاس بیرونی مناظر

اگر کھڑکی کے قریب آئینہ آویزاں کریں تو مقابل دیوار، راہداری یا باہر کا منظر آئینے سے جھانکتا بھلا لگے گا۔ اگر آئینہ دیوار کی پشت سے لگا کر کھڑا کر دیں تو چھت پر لگے فانوس کو فوکس کرے گا اور روشنیاں جلنے پر ہر شے منور ہوتی ہوئی اچھی لگے گی۔ یہ قد آدم آئینے جو دیوار سے ملحق کرکے رکھے جاتے ہیں۔ راہداریوں میں زیادہ بھلے معلوم ہوتے ہیں۔ 

 سادہ اور دلکش فریم والے آئینے

آئینے مختلف دھاتوں ، کھڑکی اور پلاسٹک کے فریموں میں نظر آئیں گے۔ یہ جتنے بڑے اور وسیع حجم کے ہوں گے اسی قدر کمرے روشن اور کشادہ نظر آئیں گے۔ وسعت نظری کی تعریف پر پورا اترنے والے یہ آرائشی آئینے ہمارے گھروں کی ویرانگی زائل کرنے کی خوبی رکھتے ہیں۔ 

آرٹ کے نمونے اور تصاویر کا خوبصورت متبادل

تجریدی، مغلیہ جدید انسٹالیشن اورتصاویر ہر چیز کے دام بڑھ گئے ہیں۔ ایسے میں یہ آرائشی آئینے حد نگاہ تک وسعت مہیا کرکے ان تصاویر کا خوبصورت متبادل ہو سکتے ہیں۔ یہ قیمتاً ارزاں بھی ہوتے ہیں اگر آپ گھر کے دو کمروں میں تصاویر آویزاں کرکے ایک کمرے میں آئینہ لگاتی ہیں تو ماحول کی انفرادیت نہایت پر تاثر اور دلفریب ہو گی۔ آئینہ خوبصورت فریم کا ہو تو یہ اپنی جگہ پر آرٹ کا نمونہ ہوتا ہے۔

زینب عرفان ، فائن آرٹس کی طالبہ ہیں

 اور فیشن ڈیزائنگ میں دلچسپی رکھتی ہیں 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

اچھے بچے نہیں لڑتے

راجو اور شانی ہمیشہ کسی نہ کسی بات پر جھگڑا کرتے نظر آتے تھے۔ ان دونوں کے گھر والے ان سے بہت تنگ تھے۔ دونوں ہمیشہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے لڑتے اور بدلا لیتے نظر آتے تھے۔

چاند پری

چاند پری ایک خوبصورت اور پراسرار مخلوق تھی جو چاند پر رہتی تھی۔ اس کی سفید ریشمی بال، چمکدار آنکھیں اور روشنیوں سے سجا ہوا لباس اسے واقعی جادوئی دنیا کی شہزادی بناتا تھا۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

مکڑیاں جالے کیسے بنتی ہیں؟ مکڑی کے جالے میں کچھ تار چپکنے والے اور کچھ نہ چپکنے والے ہوتے ہیں۔ مکڑی سب سے پہلے جالے کا ڈھانچہ نہ چپکنے والے تاروں سے تیار کر تی ہے جو ’’پاگاہ‘‘ (Foothold)کا کام کرتے ہیں۔اس کے بعد وہ باقی جال کو ایسے تاروں سے مکمل کرتی ہے جو انتہائی چپکنے والے ہوتے ہیں۔

حرف حرف موتی

٭… گناہ، کسی نہ کسی صورت میں دل کو بے چین رکھتا ہے۔ ٭… کامیابی کا بڑا راز خود اعتمادی ہے۔

ذرامسکرایئے

سخت سردی کا موسم تھا، ایک بیوقوف مسلسل پانی بھرے جارہا تھا۔ ایک صاحب نے پوچھا ’’ تم صبح سے اتنا پانی کیوں بھر رہے ہو، آخر اتنے پانی کا کیا کرو گے؟‘‘ بیوقوف بولا: ’’ پانی بہت ٹھنڈا ہے، گرمیوں میں کام آئے گا‘‘۔٭٭٭

پہیلیاں

مٹی سے نکلی اک گوری سر پر لیے پتوں کی بوری جواب :مولی