فیشن وہی جو ہر من بھائے ڈیجیٹل پرنٹس نسل میں بے پناہ مقبول

تحریر : قراۃ العین


نیٹ اور شیفون کا استعمال بھی آج کل خاص طور پر دیکھنے میں آرہا ہے

برصغیر میں فیشن کی اصطلاح ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام کے وقت روشناس ہوئی۔ ایسے برطانوی خاندان جو بھارت میں سکونت اختیار کر رہے تھے اپنے ہمراہ بین الاقوامی رجحان کا نظام متعارف کرا رہے تھے مثلاً وہ چھینٹ جیسا سستا مگر شوخ رنگوں پر مشتمل مخصوص کپڑا پہن رہے تھے۔ اس کے بعد پنجاب میں چھینٹ بنانے کے کارخانے قائم ہو گئے۔ وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب کا گہوارہ کوٹ ڈیجی اب بے شک دور دراز کا پسماندہ علاقہ سہی مگر وہاں کے ثقافتی نقوش اور ڈیزائن آج پورے پاکستان میں ہر دوسرے ڈیزائنر کے انتخاب میں نظر آ رہے ہیں۔ یہ خمیدہ پروں کے نقوش ہر برانڈ کا حصہ ہے۔ اسی طرح جما وارموٹف بھی سوتی کپڑے پر کندہ دیکھے جا سکتے ہیں۔ ڈیزائنرز کا کہنا ہے کہ ان ملبوسات کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی۔

 آج کا ایک مقبول ڈیزائن’’ڈیجیٹل پرنٹس‘‘ ہیں۔ جسے نئی نسل کی فوری طور پر پذیرائی ملی۔ جہاں ہمیں نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ قدیم تواریخ کا الحاق ہوتا نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ پھلکاری ، پختون اور بلوچی ثقافت کے امتزاج کے ساتھ کمپیوٹرائزڈ پرنٹنگ کا یہ رجحان کپڑا مارکیٹوں میں سیلاب کی طرح آمڈ آیا ہے۔ تاہم ان کا انداز بہت ہی باوقار ہے۔ نوجوان لڑکیاں کرتیاں پہن رہی ہیں جبکہ خواتین نے بھی اسے اپنا لیا ہے۔

نامور ڈایزانئر ز کی نظر میں فیشن ایک مختصر المدت قائم رہنے والی اصطلاح ہے گو کہ مغربی دنیا میں ہر روز فیشن اختراع کرتا ہے مگر ایشیائی ملکوں اور مشرقی افق پر اس نظریئے کی توضیح نہیں ہوتی۔ ہم میں سے کئی خواتین آج بھی اپنی امی ، نانی، دادی کے زمانے کے Patternsکو پہنتے اوڑھتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔

پاکستانی کپڑے پر اب بھی 18ویں اور 19ویں صدی کے اثرات اور رجحانات کا تاریخی حوالہ ملتا ہے۔ اگر آج ریشمی کپڑے پر اجرک اور سوسی کے مخصوص نقوش اور خطوط دکھائی دیتے ہیں تو جان لیجئے کہ روائیتوں نے وقت کی گرد تلے خود اپنی میراث قائم رکھی ہے۔عام طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیری بنت کاری اکبر اعظم کی پیداوار ہے اور اکبر نے کپڑا بانی کی صنعت میں مغلیہ دور کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے مگر دراصل ترقی کی اس رفتار میں چین، مشرقی وسطیٰ اور بھارتی رجحانات کا بھی اتنا ہی عمل دخل ہے۔ کشمیری خطوط اور لکیروں کے خاص Paisleہمیشہ سے اس پیٹرن کے نہیں رہے۔ کپڑوں کی صنعت بیرونی حملہ آوروں اور حکمرانوں کی بدلتی ہوئی حکمت عملی بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ کشمیری شالوں کے مخصوص ڈیزائن کلیتاً مغلیہ عہد کے ترجمان نہیں یہ قدیم ادوار میں پتوں، جڑ اور تنے کی ایک شکل کے تھے مگر آج کشمیری شال جدید انداز سے دیکھنے میں آ رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ برٹش راج میں یہ شال برطانیہ برآمد کی گئی جہاں ڈیزائنر نے ان کی نقول تیار کرتے وقت Motifsکو یکسر تبدیل کر دیا جسے بعد ازاں اہل کشمیر نے بھی اپنا ورثہ جان کر قبول کر لیا۔ گویا تخلیقی جہت اور تجارتی فائدے فیشن کی دوڑ تھامے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں‘‘۔

عید، شادیوں اور دیگر خوشی کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ اگر آپ کسی شادی میں شرکت کریں تو نوجوان بچیوں کے لباس پر ضرور نظر ٹھہرے گی۔خاص کر گھر کی شادیوں میں لباس کے جدید انداز اپنائے جاتے ہیں۔ ان دنوں گوٹہ پٹی پھر فیشن میں ہے۔ستارے اور دبکے کے کام کی بیلیں اور موٹفز بھی ریشمی اور سوتی کپڑے پر لگائی جا رہی ہیں۔

غرارے، لہنگے اور شرارے پہنے جا رہے ہیں اور کپڑوں کی سادگی کو مدنظر رکھتے ہوئے زیورات قدرے بھاری لئے جا رہے ہیں۔ جھمکے مہندی اور مایوں کی تقریبات میں پہنے جانے والا مقبول زیور ہے۔لہنگوں کے ساتھ لمبی قمیض بھی پسند کی جا رہی ہیں جنہیں Peplumیعنی چولی کہہ سکتے ہیں ۔ کھیرا دار لہنگے اور گائون کے اسٹائل سے سلی ہوئی قمیض بھی اچھی چھب دکھلاتی ہے اگر آپ انگرکھے کے اسٹائل سے شرارے کی قمیض سلواتی ہیں تو وہ بھی اچھی لگتی ہے۔اب لمبی قمیضوں کا فیشن نہ ہونے کے برابر ہی نظر آ رہا ہے اس کی جگہ چھوٹی اور درمیانی قمیضیں دوبارہ متعارف کروائی جا رہی ہیں جو کہ بیل باٹم پاجاموں، پینٹس اور شلواروں کے ساتھ دلفریب لگتی ہیں۔ 

اگر لان سے ہٹ کر بات کی جائے تو نیٹ اور شیفون کا استعمال آج کل خاص طور پر دیکھنے میں آ رہا ہے جس میں گوٹہ، لیس اور تلے کے کاموں کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ شادی بیاہ جیسی تقریبات کے موقع پر انڈین طرز کی لمبی فراکس، پلازواور سگریٹ پینٹ کے ساتھ درمیانی قمیض، چھوٹی فراکس کے ساتھ پاجامے، ڈبل شرٹ گائون یعنی Cape جس میں روایتی اور جدید کٹس شامل ہیں اس سال تمام خواتین کا ہر دل عزیز انداز رہا ہے تو پھر دیر کس بات کی آج سے ہی ان فیشن ٹرینڈز کو اپنا کر بن جائیں منفرد اور حسین کہ آپ پر پڑنے والی ہر نظر آپ کے فیشن اپنانے کے شعور کو داد دے گی۔

قراۃ العین اسلام آباد میں مقیم ایک

 نوجوان فیشن ڈیزائنر ہیں، وہ دنیا بھر 

کے فیشن پر گہری نظر رکھتی ہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

سفارتی کامیابیاں مگر معاشی محاذ پر مشکلات

پاکستان نے حالیہ مہینوں میں سفارتی محاذ پر غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے دوران پاکستان نے نہ صرف متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اپنے کردار کو بھی نمایاں کیا۔

مجوزہ 28ویں ترمیم اوراپوزیشن کی سیاست

ملک کے سیاسی حلقوں میں سرگوشیاں ہیں کہ حکومت آنے والے دنوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 28 ویں ترمیم کی منظوری کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔

منشیات مافیا اور طاقت کے سائے

یونانی فلسفی اناکارسس نے کیا خوب کہا تھا کہ قانون مکڑی کاوہ جالا ہے جس کو طاقتور؍امیر توڑتے ہوئے نکل جاتا ہے جبکہ کمزور؍غریب اس میں پھنس جاتا ہے۔

خیبر پختوا کے جنوبی اضلاع غیر محفوظ کیوں؟

خیبرپختونخوامیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پردہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

بلوچستان: چیلنجز کے باوجود استحکام کی نئی امید

بلوچستان میں ایک طرف دہشت گردی، بیرونی مداخلت، سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں اور خصوصاً خواتین کو گمراہ کرنے کی منظم سازشیں ہیں تو دوسری جانب ریاست، سکیورٹی ادارے، سیاسی قیادت اور صوبائی حکومت ایک مربوط حکمت عملی کے ذریعے امن، ترقی اور قومی وحدت کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

آزاد کشمیر: انتخابات سے قبل سیاسی کشمکش تیز

آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ قانون ساز اسمبلی کی پانچ سالہ مدت اسی سال دو اگست کو مکمل ہو جائے گی۔