عید الاضحی اور خواتین کی تیاریاں

تحریر : عائشہ اکرم


عیدپر خواتین کی مصروفیات عام دنوں کی نسبت بہت زیادہ ہوتی ہیں ۔یہ وہ تہوار ہیں جن پر ایک دوسرے کے گھروں میں آنے جانے اور ملنے ملانے کو باقی ہر کام پر فوقیت دی جاتی ہے۔

عید الاضحی خصوصی طور پر قربانی سے منسوب ہے اس لئے ایسے میںخواتین کی کچن کی مصروفیات بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔اتنی مصروفیت کے باوجود خواتین اپنی تیاری سے غافل نہیں ہوتیں۔موسم کی مناسبت ملبوسات کی تیاری اور جیولری کا اہتمام پہلے سے ہی کر لیا جاتا ہے۔اس بار بھی چونکہ عید الاضحی گرمی کے موسم میں ہے ایسے میں لان کے خوبصورت ملبوسات خواتین کی اولین ترجیح ہیں۔

عید الاضحی کا دن بڑا مبارک دن ہے۔ اس دن کے استقبال کی تیاریاں خواتین چھوٹی عید کے فوری بعد سے شروع کردیتی ہیں۔ سب سے پہلے گھر کی صفائی ستھرائی اور سجاوٹ کی طرف دھیان دیا جاتا ہے پھر عید کے قریب، قربانی کے جانوروں کی خرید سے پہلے، نئے کپڑے اور زیورات کا خیال زور پکڑتا ہے۔ اب چونکہ عید کا موقع ہے یقینا خواتین بننا سنورنا پسند کریں گی اور عید کی مناسبت سے بننا سنورنا عید کی تیاریوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ قربانی کے جانوروں کے ساتھ اپنی تصاویر بنانا بھی اب فیشن بن چکا ہے۔ برانڈڈ کپڑوں کے علاوہ آج کل کی خواتین خود ہی نئے نئے ڈیزائن تیار کرلیتی ہیں۔ ایسے ہی تہوار ہوتے ہیں جن میں ان کی خفیہ صلاحیتیں نکھر کر سامنے آتی ہیں۔

جہاں تک بات چہرے کی حفاظت کی ہے تو اس کا خاص خیال رکھنا خواتین کیلئے بہت ضروری ہے۔ ہمیں اپنی خوراک میں پھل سبزیوں اور سلاد کا استعمال بڑھا دینا چاہیے جو چہرے کو پر نور اور نرم و ملائم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سلاد نہ صرف خون کو صاف کرتا ہے بلکہ اس سے چہرے پر چمک بھی آتی ہے۔ پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال بھی چہرے کو رونق بخشتا ہے اور اس سے چہرے کے داغ دھبے اور دانے بھی صاف ہو جاتے ہیں۔

چہرے کے ساتھ ساتھ ہاتھ اور پائوں کا بھی خاص خیال رکھا جانا چاہئے۔ جب ذکر ہو ہاتھ اور پائوں کو سنوارنے کا تو فوراً مہندی کا خیال ذہن میں آتا ہے۔ عید پر مہندی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہاتھوں میں مہندی کے دیدہ زیب ڈیزائن بنوائے بغیر خواتین کا بنائو سنگھار اور عید کی خوشیاں ادھوری ہیں۔ یوں تو خواتین مہندی لگانا اور لگوانا پسند کرتی ہیں۔ مگر پچھلے کچھ سالوں سے خواتین بیوٹی پارلر سے مہندی لگوانے کو ترجیح دیتی ہیں۔ جہاں عید سے چند ہفتے پہلے ہی بکنگ کروا لی جاتی ہے۔عید پر زیادہ تر خواتین سوڈانی، انڈین، راجستھانی، عریبین ڈیزائن کی مہندی لگوانا پسند کرتی ہیں۔ 

 اگر آپ چاہتی ہیں کہ عید کے موقع پر آپ کے ہاتھوں پر مہندی کا رنگ گہرا چڑھے تو اس کیلئے آپ کو چاہیے کہ لیموں کو مہندی سوکھنے کے بعد ہاتھوں میں لگا کر ایک گھنٹے کیلئے چھوڑ دیں۔ لیموں کی جگہ سرسوں کے تیل کا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سانولی رنگت والی خواتین مہندی کی آئوٹ لائن گہری بنوائیں اس سے مہندی کے ڈیزائن اور رنگت میں نکھار آ جاتا ہے۔

عیدالاضحی پر خواتین کی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ انہیں اپنی، گھر، باورچی خانے، بچوں،  اور مہمانوں کی فکر لاحق ہوتی ہے اور اسی ادھیڑ بن میں ان کے دن کا بیشتر حصہ گزر جاتا ہے۔ عید کا شوروغوغا عید کی نماز کے فوری بعد شروع ہو جاتا ہے۔ جس گھر میں قصاب جلد وارد ہو جائیں اس گھر کے مکین اپنی ذمہ داریوں سے فوری سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ گوشت بن جاتا ہے تو اس کی تقسیم کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ 

گھر میں خواتین کیلئے باورچی خانہ سب سے زیادہ اہم قرار پاتا ہے۔ کہیں قربانی کے جانوروں کا گوشت بھونا جاتا ہے، کہیں پلاؤ اور بریانی تیار کی جاتی ہے۔ ٹی وی چینلوں پر کھانے پکانے کے پروگراموں نے خواتین کے تجربوں میں خوب اضافہ کیا ہے۔ نئے نئے پکوان تیار کئے جاتے ہیں جو دیکھنے میں بھلے لگیں اور لذت میں ایسے کہ کھانے والے انگلیاں چاٹتے رہ جائیں۔

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

کام اور رشتوں میں توازن مضبوط تعلقات کیسے قائم رکھیں؟

آج کی خواتین زندگی کے کئی میدانوں میں کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ وہ بیک وقت ملازمت، کاروبار، گھر، بچوں کی تربیت اور سماجی ذمہ داریوں کو نبھا رہی ہیں۔

عید الاضحیٰ کے فیشن ٹرینڈز

گرمیوں میں عید کیلئے ہلکے اور خوبصورت ملبوسات

آج کا پکوان:کلیجی مصالحہ

اجزا: بکرے کی کلیجی: آدھا کلو ، ہری پیاز، ہری مرچ :4،6 عدد، ادرک لہسن پیسٹ :1،1 چمچ، آئل :3،4 چمچ، نمک، گرم مصالحہ، کٹی لال مرچ، کالی مرچ اور لیموں کا رس۔کلیجی کی بُو ختم کرنے کے لیے اسے دھونے کے بعدلیموں کا رس اور تھوڑا سا خشک آٹا چھڑک کر کچھ دیر رکھ دیں پھر دھو کر پکائیں۔

عالمتاب تشنہ حسبِ حال کے شعور سے ہم آہنگ

ان کی شاعری کا خمیرکشمکشِ حیات اور کرب سے اٹھا:تشنہ ؔکے یہاں بکھرنے کا نہیں بلکہ سمٹ کر ایک اکائی بن جانے کا احساس ہوتا ہے‘ وہ ایک طرف روایت سے وابستہ نظر آتے ہیں اور دوسری طرف اسے جدید شعور میں ڈھالنے کی قوت بھی رکھتے ہیں:احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں کہ عالمتاب تشنہ نے ہجوم ِجمال میں شاعری کا آغاز کیا تھا‘ میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ آغاز بہت مبارک ثابت ہوا کیونکہ ان کی شاعری پر اسی جمال کا پر تو ہے

مجید امجد کی شاعری، پنجاب کے ثقافتی تناظرمیں

مجیدامجد نے پنجابی زبان کے الفاظ کو اُردو نظم کے تخلیقی پیرائے میں اس طرح برتا ہے کہ جو پنجابی زبان سے نا واقف ہیں وہ پنجابی زبان کے مذکورہ الفاظ کو اُردو ہی کے کھاتے میں شمار کریں گے۔

خواتین کرکٹ کانیا عالمی ریکارڈ قائم

آئی سی سی ویمنز ٹی 20ورلڈ کپ 2026 ء:ٹکٹوں کی فروخت نے ایونٹ کو اب تک کا سب سے بڑا خواتین کا ورلڈ کپ ثابت کر دیا:ٹورنامنٹ کا باضابطہ آغاز 12جون کوبرمنگھم میں انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان ہونے والے مقابلے سے ہوگا: پاکستان اپنے سفر کا آغاز 14 جون کو بھارت کے خلاف ایجبسٹن، برمنگھم میں ہونے والے مقابلے سے کرے گا