خلاصہ قرآن(پارہ 30)

تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر


تیسویں پارے میں چونکہ سورتوں کی تعداد زیادہ ہے اس لیے تمام سورتوں پر گفتگو نہیں ہو سکے گی بلکہ پارے کے بعض اہم مضامین کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائے گی۔

سورۃ النباء

 تیسویں پارے کا آغاز سورۂ نباء سے ہوتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کیا ہے کہ قیامت کی آمد ایک بہت بڑی خبر ہو گی کیونکہ اس کی آمد سے قبل بہت سے لوگوں کو اس کے واقع ہونے کے بارے میں شبہات اور اختلافات تھے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کی سزا کا بھی ذکر کیا کہ وہ کس طرح صد ہا ہزار سال جہنم کی قید میں پڑے رہیں گے۔

 سورۃ النازعات

اس سورۂ مبارکہ میں پروردگار عالم ارشاد فرماتے ہیں: جو اپنے پروردگار کے مقام سے ڈر گیا اور اس نے اپنے آپ کو خواہش سے بچا لیا تو اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔ بنیادی طور پر انسان کی ہلاکت کا بڑا سبب اس کی خواہشات ہی ہوتی ہیں، اگر وہ اپنی خواہشات پر قابو پا لے تو وہ یقینا کامیاب اور کامران ہو سکتا ہے۔

سورۂ عبس

سور ۂ عبس میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو بھائی اپنے بھائی سے دوڑے گا اور بیٹا اپنے والدین سے دوڑے گا اور بیوی اپنے شوہر سے بھاگے گی اور والدین اپنے بیٹے سے بھاگیں گے۔ ہر کسی کی خواہش ہو گی کہ وہ آگ سے کسی بھی طور پر بچ جائے، چاہے اس کے بدلے کسی دوسرے عزیز کو پکڑ لیا جائے۔

 سورۃ التکویر

 سورۃ التکویرمیں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن مجید کل کائنات کے ان لوگوں کیلئے نصیحت ہے جو صراط مستقیم پر چلنا چاہتے ہیں اور کوئی بھی انسان اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر صراط مستقیم پر گامزن نہیں ہو سکتا ۔

 سورۃ الانفطار

اس میں اللہ تعالیٰ نے جہاں قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کیا ہے وہیں دنیا میں انسانوں کے حساب و کتاب کو نوٹ کرنے والے فرشتوں کا بھی ذکر کیا جن کو کراماً کاتبین کہا جاتا ہے۔ کراماً کاتبین انسانوں کے عمل کو نوٹ کرتے ہیں اور یہی اعمال نامہ قیامت کے دن انسانوں کو پیش کیا جائے گا۔

 سورۃ المطففین

 اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اپنے حق میں تو ترازو کو پوری طرح استعمال کرتے ہیں لیکن دوسروں کیلئے ترازو میں کمی کرتے ہیں۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں کو تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سورۃ الانشقاق 

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ انسان محنت و مشقت کا خوگر ہے اور اس کو چاہیے کہ اپنے پروردگار کیلئے محنت کرے جس سے اس نے ملاقات کرنی ہے۔ اگر انسان اپنے پروردگار کے لیے محنت کرے گا تو اس کو آسان حساب کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ اپنے اہل خانہ کی طرف مسرت کے ساتھ پلٹے گا۔

 سورۃ البروج

اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اخدود کی بستی کا ذکر کیا کہ جنہوں نے ایک صاحبِ ایمان بچے کی دعوتِ تبلیغ کی وجہ سے اسلام قبول کر لیا تھا مگر اسلام قبول کرنے کی پاداش میں ان کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور وہاں کے بے دین بادشاہ نے خندقیں کھود کر ان تمام افراد کو خندقوں میں جلا دیا تھا۔ بستی کے اہلِ ایمان افراد نے ہر طرح کی اذیت کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا لیکن دعوتِ توحید سے دستبردار ہونا گوارا نہیں کیا۔

سورۃ الطارق 

 اس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کیا کہ کس طرح انسان کو پانی کے معمولی قطرے سے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا اور جو اللہ تعالیٰ انسان کو پانی کے معمولی قطرے سے پیدا کر سکتا ہے وہ انسان کو اس کی موت کے بعد بھی آسانی سے زندہ کر سکتا ہے ۔ اس لیے انسان کو اپنی حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

سورۃ الاعلیٰ

 سورۃ الا علیٰ میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا کہ لوگوں کی نگاہ تو دنیا کی زندگی پر ہوتی ہے لیکن حقیقی اور باقی رہنے والی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ اس حقیقت کو صرف اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہی بیان نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ تمام حقائق ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی بیان فرما دیے ہیں۔

سورۃ الفجر

 اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ اقوام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ تعالیٰ مومن کو مخاطب ہو کر کہیں گے: اے مطمئن جان! اپنے پروردگار کی طرف راضی ہو کر پلٹ جا اور میرے بندوں اور میری جنت میں داخل ہو جا۔

سورۃ البلد

 سورۃ البلد میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر اپنے انعامات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دو آنکھیں، زبان اور دوہونٹ عطا فرمائے اور اس کی رہنمائی دو راستوں کی طرف کی ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ وہ کس راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ جو صحیح راستے پر چلے گا جنت میں جائے گا اور جو غلط راستہ اختیار کرے گا تو وہ جہنمی ہو گا۔ 

سورۃ الشمس

اس سورت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نفس کو تخلیق کیا اور اس میں نیکی اور برائی کی سمجھ کو الہام کر دیا تو جو اپنے نفس کو نیکی کے راستے پر چلائے گا وہ جنتی ہو گا اور جو اپنے نفس کو آلودہ کرے گا‘ وہ تباہ و برباد ہو جائے گا۔

سورۃ اللیل

 سورۂ لیل میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس نے صدقہ دیا اور نیکی کی تائید کی اس کیلئے اللہ تعالیٰ آسان راستے کو ہموار کر دیں گے اور جس نے بخل کیا اور اچھی بات کی تکذیب کی اللہ تعالی اس کیلئے مشکل راستے یعنی جہنم کے راستے کو ہموار کر دیں گے۔

سورۃ الضحیٰ

 سورۂ ضحی میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کی تلقین کی ہے کہ پروردگار کی نعمتوں کا اعتراف کرنا چاہیے اور ان کا اظہار بھی کرنا چاہیے۔ 

سورۂ الم نشرح

 سورۂ الم نشرح میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے رسو ل اللہﷺ کے تذکروں کو بلند کر دیا ہے۔

سورۃ التین

 اس سورت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے انسانوں کو بہترین تقویم میں پیدا کیا مگر جو لوگ ایمان اور اعمالِ صالح کے راستے سے ہٹ گئے ان کو اللہ تعالیٰ نے بدترین مخلوق میں تبدیل کردیا۔ 

سورۃ العلق

 اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں حبیبﷺ کو اپنے پروردگار کے نا م سے پڑھنے کا حکم دیا کہ اس نے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ 

 سورۃ القدر

اس سورت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو قدر والی رات میں نازل کیا اور قدر والی رات ہزار مہینوں سے زیادہ فضیلت کی حامل ہے اوراس رات میں جبرائیل امینؑ ہر امر کا فیصلہ لے کر فرشتوں کے ساتھ نازل ہو تے ہیں اور یہ رات طلوع فجر تک سلامتی والی رات ہے۔ 

سورۃ العصر

اس میں اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم اٹھا کر انسان کو ناکام کہا ہے کہ ہر انسان نا کام ہے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ایمان اور عمل صالح کو اختیار کیا اور جو حق بات اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔

 سورۃ الکوثر

سورۃ الکوثر میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو حوضِ کوثر کی بشارت دی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتلایا ہے کہ آپ کا دشمن بے نام و نشان رہے گا۔ ان کے بعد آخری تین قل نہایت اہم ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی پناہ طلب کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآنِ مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 30)

سورۃ النباء:’’نبا،، خبر کو کہتے ہیں۔ سورت کے شروع میں فرمایا گیا ہے کہ لوگ ایک عظیم خبر کے متعلق، جس کے بارے میں یہ باہم اختلاف کر رہے ہیں، ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں، یعنی قیامت، اس کے وقوع اور حق ہونے کے بارے میں کچھ لوگوں کو اختلاف ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 29)

سورۃ الملک: حدیث پاک میں سورۃ الملک کے بڑے فضائل بیان کیے گئے ہیں، اسے ’’المنجیہ‘‘ (نجات دینے والی) اور ’’الواقیاہ‘‘ (حفاظت کرنے والی) کہا گیاہے۔ اس سورۂ مبارکہ کی تلاوت عذاب قبر میں تخفیف اور نجات کا باعث ہے، اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے موت وحیات کی حکمت بیان فرمائی کہ اس کا مقصد بندوں کی آزمائش ہے کہ کون عمل کے میزان پر سب سے بہتر ثابت ہوتا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 29)

سورۃ الملک:انتیسویں پارے کا آغاز سورۃالملک سے ہوتا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں حکومت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے زندگی اور موت کو اس لیے بنایا تاکہ جان لیں کہ کون اچھے عمل کرتا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 28)

سورۃ المجادلہ: اس سورۂ مبارکہ کا پسِ منظر یہ ہے کہ صحابیہ خولہؓ بنت ثعلبہ کے ساتھ ان کے شوہر اوسؓ بن صامت نے ظِہار کر لیا تھا۔ ظِہارکے ذریعے زمانۂ جاہلیت میں بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی تھی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 28)

سورۃ المجادلہ:قرآنِ پاک کے 28ویں پارے کا آغاز سورۃ المجادلہ سے ہوتا ہے۔ سورۂ کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ذکر کیا ہے کہ جن کے شوہر نے ناراضی میں ان کو کہہ دیا تھا کہ تم میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہو۔

خلاصہ قرآن(پارہ 27)

انسانی شکل میں فرشتے:اس پارے کے شروع میں اس بات کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے والے اجنبی انسان نہیں تھے بلکہ بشری شکل میں فرشتے تھے، تو ابراہیم ؑ نے اُن سے پوچھا کہ آپ کا مشن کیا ہے، اُنہوں نے کہا: ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ اُن پر مٹی سے پکے ہوئے پتھر برسائیں، جو آپ کے رب کے نزدیک حد سے تجاوز کرنے والوں کیلئے نشان زدہ (Guided) ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی کہاکہ ہم اہل ایمان کو صحیح سلامت اُس بستی سے باہر نکال دیں گے اور اُس میں مسلمانوں کا ایک ہی گھر ہے، یعنی حضرت لوط علیہ السلام کا۔