عید الاضحیٰ قربانی کے شرعی مسائل

تحریر : مفتی ڈاکٹرمحمد کریم خان


قربانی اہم مالی عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔ اسی لئے اس عمل کو بڑی فضیلت اور اہمیت حاصل ہے، بارگاہ الٰہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ جد الانبیاء حضرت آدم علیہ السلام سے ہی چلا آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل و قابیل کے قصہ کا ذکر فرمایا ہے کہ دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کی،

 ہابیل نے عمدہ دنبہ قربان کیا اور قابیل نے کچھ زرعی پیداوار یعنی غلہ پیش کیا۔ اس وقت قربانی قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے ایک آگ آ کر قربانی کو کھا لیتی تھی، چنانچہ ہابیل کی قربانی کو آگ نے کھا لیا اور قابیل کی قربانی وہیں پڑی رہ گئی، یوں وہ قبولیت سے محروم ہو گئی۔ 

قربانی کا عمل ہر امت میں مقرر کیا گیا، سورۃ الحج آیت نمبر 34 میں ارشاد ربانی ہوتا ہے: ’’اور ہم نے ہر اُمت کیلئے قربانی اس غرض کیلئے مقرر کی ہے کہ وہ مویشیوں پر اللہ تعالیٰ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا، البتہ اس کے طریقے اور صورت میں کچھ فرق ضرور رہا ہے۔ انہی میں سے قربانی کی ایک عظیم الشان صورت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اُمت محمدیہ کو عیدالاضحٰی کی قربانی کی صورت میں عطا فرمائی ہے جو کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے۔ 

قربانی کالغوی وشرعی معنی

 ’’قربانی‘‘ عربی زبان کے لفظ ’’قُرب‘‘ سے ہے، جس کا مطلب ’’کسی شے کے نزدیک ہونا‘‘ ہے۔ ’’قُرب‘‘، دوری کا متضاد ہے۔ ’’قربان‘‘، ’’قرب‘‘ سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ امام راغب اصفہانی قربانی کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’قربانی وہ چیز ہے جس کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کیا جائے، شرع میں یہ قربانی یعنی جانور ذبح کرنے کا نام ہے‘‘(المفردات للراغب، 408)۔

قربانی کیلئے قرآن کریم میں تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

1۔قربانی: ’’(اے نبی مکرمﷺ!) آپﷺ ان لوگوں کو آدم ؑ کے دو بیٹوں (ہابیل و قابیل) کی خبر سنائیں جو بالکل سچی ہے۔ جب دونوں نے (اللہ کے حضور ایک ایک) قربانی پیش کی، سو ان میں سے ایک (ہابیل) کی قبول کر لی گئی اور دوسرے (قابیل) سے قبول نہ کی گئی تو اس (قابیل) نے (ہابیل سے حسداً و انتقاماً) کہا: میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا، اس (ہابیل) نے (جواباً) کہا: بیشک اللہ پرہیزگاروں سے ہی (نیاز) قبول فرماتا ہے۔ 

2۔منسک: یہ لفظ سورۃ الحج کی آیت نمبر 34 میں استعمال ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’اور ہم نے ہر امت کیلئے ایک قربانی مقرر کر دی ہے تاکہ وہ ان مویشی (چوپایوں) پر جو اللہ نے انہیں عنایت فرمائے ہیں (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں، سو تمہارا معبود ایک (ہی) معبود ہے پس تم اسی کے فرمانبردار بن جاؤ، اور (اے حبیبﷺ!) عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔  

3۔نحر: سورۃ الکوثر میں قربانی کیلئے لفظ نحر استعمال ہوا ہے۔ ’’بیشک ہم نے آپﷺ کو (ہر خیر و فضیلت میں) بے انتہا کثرت بخشی ہے۔ پس آپﷺ اپنے رب کیلئے نماز پڑھا کریں اور قربانی دیا کریں (یہ ہدیہ تشکرّ ہے)۔ بے شک آپﷺ کا دشمن ہی بے نسل اور بے نام ونشان ہوگا۔(الکوثر:1 تا 3)

قرآن کریم سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم پر قربانی لازم کی ہے۔ ٹھیک اسی طرح ہر امت پر نماز و روزہ فرض فرمائے۔

قربانی کی فضیلت 

احادیث مبارکہ کی روشنی میں

قربانی کی فضیلت کے بارے میں چند ایک ارشادات نبوی ﷺحسب ذیل ہیں: حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :عیدالاضحٰی کے دن قربانی کے جانور کا خون بہانے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو کوئی عمل محبوب نہیں ہے اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، اپنے بالوں اور اپنے کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے پاس پہنچ جاتا ہے سو تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔

امام ابو عیسیٰ ترمذی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ملے گی۔ (سنن الترمذی: 1493)

 حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ دس سال مدینہ میں رہے اور آپﷺ ہر سال قربانی کرتے تھے (سنن الترمذی، حدیث : 1507)۔

حضرت ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے فاطمہ ؓ! اپنی قربانی کے جانور کی نگہبانی کرو اور اس کے پاس موجود رہو کیونکہ اس کے خون کے ہر قطرہ کے بدلہ میں تمہارے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ اُنہوں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! کیا اس کا اجر صرف اہل بیت کے لئے خاص ہے یا ہمارے اور تمام مسلمانوں کیلئے ہے، آپﷺ نے فرمایا ہمارے اور تمام مسلمانوں کیلئے ہے۔ (مسندالبزار، حدیث: 5934)

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنی قربانیوں کیلئے عمدہ جانور تلاش کرو کیونکہ وہ پل صراط پر تمہاری سواریاں ہوں گے۔ (کنزالعمال،حدیث : 12177)

قربانی کا شرعی حکم

 احادیث مبارکہ کی روشنی میں

قربانی کے شرعی حکم کے بارے میں چند ایک ارشادات نبویﷺ حسب ذیل ہیں۔

حضرت مخنف بن سلیمؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ میدان عرفات میں وقوف کر رہے تھے، میں نے آپﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سُنا، اے لوگو! ہر گھر والے پر ہر سال میں اضحیہ (قربانی) اور عتیرہ ہے، کیا تم جانتے ہو عتیرہ کیا چیز ہے؟ یہ وہی ہے جس کو تم رجبیہ کہتے ہو۔ (سنن ابودائود، حدیث : 2788)، علامہ المبارک بن محمد ابن الاثیر الجزری لکھتے ہیں: عرب نذر مانتے تھے کہ اگر فلاں کام ہوگیا تو وہ رجب میں ایک قربانی کریں گے اس کو وہ عتیرہ اور رجبیہ کہتے تھے۔ 

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: کیا قربانی واجب ہے، انھوں نے کہا :رسول اللہ ﷺ نے قربانی کی ہے، اس نے اپنا سوال دہرایا: تو حضرت ابن عمرؓ نے کہا: کیا تم کو عقل ہے ! رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں نے قربانی کی ہے۔ (سنن الترمذی،حدیث :1506)

 

قربانی کے جانورمیں حصے

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (حجِ) تمتع کیا، ہم نے گائے کی قربانی کی اور اس میں سات آدمی شریک ہوئے۔ (صحیح مسلم:1318)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، پس عید الاضحی کا دن آ گیا، سو ہم گائے میں سات افراد شریک ہوئے اور اونٹ میں دس آدمی شریک ہوئے۔ (سنن الترمذی، حدیث: 905)،حضرت اسحٰق بن راھویہ نے اس ظاہر حدیث پر عمل کیا ہے اور وہ اونٹ میں دس آدمیوں کی شرکت کو جائز کہتے ہیں اور جمہور فقہا نے کہا ہے کہ اونٹ میں بھی صرف سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں اور ان کا استدلال درج ذیل حدیث سے ہے:حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گائے کی قربانی بھی سات افراد کی طرف سے ہو سکتی ہے اور اونٹ کی قربانی بھی سات افراد کی طرف سے ہوسکتی ہے۔ (سنن ابودائود: 2808)

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (نفلی) قربانی کی، اونٹ بھی سات آدمیوں کی طرف سے اور گائے بھی سات آدمیوں کی طرف سے۔ (سنن ابودائود: 2809)

قربانی کے جانور کی کم از کم عمر

قربانی کے جانوروں کی عمروں کے بارے میں چندایک ارشادات نبویﷺ حسب ذیل ہیں:

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم صرف ایک سال کا بکرا ذبح کرو، اگر وہ تم پر دشوار ہو تو چھ ماہ کا دنبہ (مینڈھا) ذبح کردو۔ (صحیح مسلم :1963)

حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا: قربانی کے جانور شنی یا اس سے زیادہ عمر کے ہونے چاہیں۔ (موطا امام مالک ،حدیث :870)، شنی سے مراد دو دانت والا (دوندا)، اور اس کا مصداق ایک سال کا بکرا ہے اور دو سال کی گائے اور پانچ سال کا اونٹ۔ (جامع الاصول، ج2، ص 250)

عیب دارجانورکی قربانی جائز نہیں

وہ عیوب جن کی وجہ سے کسی جانور کی قربانی جائز نہیں ہے ان کی تفصیل احادیث مبارکہ کی روشنی میں حسب ذیل ہے:

حضرت عبید بن فیروزؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت البراءؓ سے پوچھا: کون سے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے؟، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر فرمایا: چار جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے ایسا کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو، ایسا بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو، ایسا لنگڑا جس کا لنگ ظاہر ہو، میں نے کہا: جس کی عمر کم ہو وہ مجھے ناپسند ہے، انھوں نے کہا جو تم کو ناپسند ہو اس کی قربانی نہ کرو اس کو کسی اور کیلئے حرام نہ کرو۔ سنن ترمذی کی ایک روایت میں ہے نہ اتنی کمزور اور لاغر ہو جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو۔ ( سنن ابو داؤد، حدیث :2802،سنن الترمذی، حدیث : 1497)

حضرت علی بن ابی طالبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان کو اچھی طرح دیکھ لیا کریں، اور اس کی قربانی نہ کریں جس کے کان کا اگلا حصہ کٹا ہوا ہو اور نہ اس کی قربانی کریں جس کے کان کا پچھلا حصہ کٹا ہوا ہو، اور نہ اس کی قربانی کریں جس کا کان چرا ہوا ہو، اور نہ اس کی قربانی کریں جس کے کان میں سوراخ ہو اور نہ اس کی قربانی کریں جس کے سینگ کا نصف حصہ یا اس سے زائد ٹوٹا ہوا ہو۔ (سنن ابوداؤد،حدیث :2804، 2805، 2806)

نماز عید پڑھنے سے پہلے قربانی

نمازعیدپڑھنے سے قبل قربانی کرنے سے متعلق چند ایک ارشادات نبویﷺ حسب ذیل ہیں:حضرت جندب بن عبداللہ البجلیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں عیدالاضحیٰ کے دن رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، نماز عید سے فارغ ہونے کے بعد، آپ ﷺ نے دیکھا کہ کچھ لوگوں نے نماز عید سے پہلے قربانیاں کر دی ہیں، آپﷺ نے فرمایا : جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کی ہے وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے۔ (صحیح بخاری:985)

 قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کاطریقہ 

 قربانی کے جانورکوذبح کرنے کے طریقہ  کے متعلق ارشادات نبویﷺ حسب ذیل ہیں: حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سینگوں والے مینڈھے کو لانے کا حکم دیا، وہ آپ ﷺ کے پاس قربانی کرنے کیلئے لایا گیا۔ آپﷺ نے فرمایا: اے عائشہ چھری لائو، پھر فرمایا اس کو پتھر پر تیز کرو، پھر چھری لے کر مینڈھے کو پکڑ کر قبلہ رخ گرایا، پھر اس کو ذبح کرنے لگے اور پڑھا بسم اللہ ! اے اللہ اس کو محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ اور امت محمد ﷺ کی طرف سے قبول فرما، پھر اس کو ذبح کر دیا۔ (صحیح مسلم، حدیث:  1968)

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اور اصحابہ کرامؓ اونٹنی کو نحر کرتے تھے، اس کا الٹاپیر باندھا ہوا ہوتا تھا اور وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوتی تھی۔ (سنن ابودائود، رقم الحدیث :1767)

قربانی سے قصائی کواجرت دینا

قربانی کی کوئی چیز قصائی کو اجرت میں نہ دی جائے جیساکہ حدیث مبارکہ میں ہے:حضرت علی بن ابی طالبؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریمﷺ نے بھیجا میں نے قربانی کی اونٹنیوں کی نگہبانی کی اور ان کے گوشت کو تقسیم کیا، پھر مجھے حکم دیا کہ ان کی جھول ( قربانی کے جانور کے اوپر ڈالا ہوا کپڑا) اور ان کی کھال کو بھی تقسیم کردوں۔ ایک روایت میں ہے کہ ہمیں اس کے گوشت، کھال اور جھول کو صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اس میں سے قصاب کو اجرت دینے سے منع فرمایا اور ہم اپنے پاس سے اس کو اجرت دیتے تھے۔ (صحیح بخاری :1718، سنن ابو دائود: 1729)

قربانی کے متفرق مسائل

بال اور ناخن کاٹنا:حضور نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے ماہ ذی الحجہ کا چاند دیکھا اور اس کا قربانی کا ارادہ تھا تو ناخن اور بال نہ کٹوائے۔ (صحیح مسلم، حدیث 1977)، یعنی یکم ذی الحجہ سے دس ذی الحجہ تک یہ بال اور ناخن نہ کٹوائے بلکہ قربانی کے بعد کٹوائے۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ عمل مستحب ہے، کوئی اس پر عمل کرے گا تو ثواب ملے گا، نہ کرے گا تو گناہ نہیں ہے۔

قربانی کے بجائے پیسوں سے لوگوں کی مدد کرنا: حقداروں اور محتاجوں کی مدد کرنا ہمارا دینی و  ملی فرض ہے، مگر یہ جانور قربان کرنے کا متبادل نہیں ہے۔ قربانی کے جانور شعائر اللہ ہیں یعنی اللہ کی نشانیاں اور اسلام معاشرے کا اظہار ہیں۔ صدقاتِ نافلہ اور قربانی دونوں اپنی اپنی جگہ پر مستقل عبادات ہیں، ان میں سے کوئی بھی دوسرے کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

قربانی کا گوشت محرم الحرام سے قبل ختم کرنا:قربانی کاگوشت جب تک خراب نہ ہو رکھ سکتے ہیں، شرعی طور پر کوئی پابندی نہیں ہے کہ محرم الحرام سے پہلے ختم کیا جائے۔ ہاں ایثار کا یہ تقاضا ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ غریبوں تک پہنچایا جائے تاکہ جن کو سارا سال کچھ نہیں ملتا، ان تک بھی پہنچ جائے۔ لہٰذا شرعاً کوئی حکم نہیں ہے کہ محرم الحرام سے پہلے ختم کیا جائے۔

قربانی کے وجوب کیلئے مال کی مقدار: قربانی اسلام کا عظیم شعار اور مالی عبادت ہے جو ہر اس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان پر واجب ہے جو عید الضحیٰ کے ایام (10، 11، 12 ذوالحجہ) میں نصاب کا مالک ہو یا اس کی ملکیت میں ضرورتِ اصلیہ سے زائد اتنا سامان ہو جس کی مالیت نصاب کے برابر ہے۔ نصابِ شرعی سے مراد کسی شخص کا ساڑھے باون تولے (612.36گرام) چاندی یا ساڑھے سات تولے (87.48گرام) سونے یا اس کی رائج الوقت بازاری قیمت کے برابر مال کا مالک ہونا ہے۔ قربانی کے وجوب کے لیے محض مالکِ نصاب ہونا کافی ہے، زکوٰۃ کی طرح نصاب پر پورا سال گزرنا شرط نہیں ہے۔ لہٰذا اگر قربانی کے ایام میں کسی کے پاس مطلوبہ رقم موجود ہو تو اس پر قربانی کرنا واجب ہے۔

قربانی کی کھالوں کامصرف:قربانی کی کھال سے اگر کوئی شخص جائے نماز بنائے تو تمام فقہاء کرام کے نزدیک ایسا جائز ہے۔ اگر فروخت کریں تو اس کی قیمت مناسب مصرف میں استعمال کی جائے اور ہرگز اپنے پاس نہ رکھی جائے۔ یہ کھالیں کسی بھی فلاحی و دینی کام میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ مسجد، مدرسہ، رفاہی ادارے، غریب، یتیم، بیوہ وغیرہ کو دے سکتا ہے۔ امام مسجد اگر غریب ہے تو بطور اعانت اسے بھی کھال دے سکتے ہیں۔(بہار شریعت ، 148:15) غربا و مساکین کی فلاح وبہبود کیلئے کام کرنے والے بااعتماد فلاحی ادارے کو دی جا سکتی ہیں۔ غریب و مستحق طلبا کی تعلیم پر خرچ کی جا سکتی ہیں۔ بیمار لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے خرچ کی جا سکتی ہیں۔

حلال جانورکے حرام اعضاء: حلال جانور کے سب اجزا حلال ہیں مگر کچھ حصے حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں۔جیساکہ حدیث مبارکہ میں ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ بکری (وغیرہ) میں سات اعضاء کو مکروہ خیال کرتے تھے :پتہ،مثانہ، پچھلی اور اگلی شرمگاہ، کپورے، غدود، خون (وقتِ ذبح بہتا ہوا) (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث: 9480)

قربانی کے جانورکی اقسام:قربانی کاجانور تین میں سے کسی ایک جنس کا ہونا ضروری ہے۔ 1۔ بکری، 2۔ اونٹ، 3۔گائے۔ ہر جنس میں اس کی نوع داخل ہے۔ مذکر، مونث، خصی، غیر خصی سب کی قربانی جائز ہے۔ بھیڑ اور دنبہ بکری کی جنس میں اور بھینس گائے کی جنس میں شامل ہے۔ کسی وحشی جانور کی قربانی جائز نہیں۔

قربانی کے جانوروں کی عمریں:اونٹ پانچ سال کا،گائے، بھینس دو سال کی، بکری، بھیڑ ایک سال کی۔ یہ عمر کی کم از کم حد ہے۔ اس سے کم عمر کے جانور کی قربانی جائز نہیں۔ زیادہ عمر ہو تو بہتر ہے۔ ہاں دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ اگر اتنا موٹا تازہ ہوکہ دیکھنے میں سال بھر کا نظر آئے تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔ (ہدایہ،کتاب الاضحیٰ،ص345)

مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان صدر اسلامک ریسرچ کونسل ہیں، 20 سے زائد کتب کے مصنف ہیں، ان کے ایچ ای سی سے منظور شدہ25 آرٹیکلز بھی شائع ہو چکے ہیں

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بچوں کا ادب :غفلت کا شکار اہم شعبہ

کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہوتا ہے، اور بچوں کی فکری و اخلاقی تربیت میں ادب بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

غرور کا انجام

گھنے جنگل کے بیچوں بیچ بہت بڑی اور گہری نیلگوں جھیل تھی۔ مگرمچھ کو جھیل کا حکمران منتخب کیا گیا تھا۔

شمالی افریقا کی قوم۔۔۔ بَر بَر

بَر بَر شمالی افریقا کی ایک سفید فام قوم ہے جو مصر سے لے کر بحرِ اوقیانوس کے ساحل تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ علاقہ بر بر کہلاتا ہے اور ان کی زبان بربری ہے۔

’’کوے ہیں سب دیکھے بھالے‘‘

کوے ہیں سب دیکھے بھالےچونچ بھی کالی ، پر بھی کالے

سنہری باتیں

٭…تم خدا کو راحت میں نہ بھولو، وہ تمہیں مصیبت میں نہیں بھولے گا۔٭…ایمان کے ساتھ صبر کی وہی حیثیت ہے جو سر کی تن کے ساتھ۔

دریا ئوں کی تہہ میں پتھر کیوں ہوتے ہیں؟

ڈھلوان پہاڑوں پر کشش ثقل کی وجہ سے پانی نیچے کی طرف بہت تیزی سے بہتا ہے۔ پانی میں کاٹ دینے اور توڑ پھوڑ کرنے کی زبردست طاقت ہوتی ہے۔