نبی کریمﷺکے تشریعی اختیارات

تحریر : مفتی ڈاکٹرمحمد کریم خان


اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو شارع بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔ امر و نہی اور تحلیل و تحریم جس طرح قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں، اسی طرح نبی کریم ﷺ نے قرآن کے علاوہ بھی امر و نواہی اور تحلیل و تحریم کو بیان فرمایا ہے، جوکہ احادیث کی صورت میں محفوظ ہیں۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو عطا کردہ تشریعی اختیارات کی بناء پر ہے۔

اس لیے یہ سب بھی قانون خداوندی کا ایک حصہ اور قرآن ہی کی طرح واجب الاتباع ہیں۔ قرآن کے بعد حدیث و سنت اسلامی شریعت کا دوسرا بنیادی ماخذ ہے، اس مضمون میں نبی کریم ﷺ کے تشریعی اختیارات کو بیان کیا گیا ہے۔ 

تشریعی امور سے مراد ہے حضور کریم ﷺ کے وہ اقوال وافعال جن کا تعلق عبادات سے ہے یا ایسی چیزوں کو منع کرنے سے ہے، جن سے دین کے اصولوں کو ضعف پہنچتا ہے۔ان میں ایسے حقوق مادیہ اور معنویہ کا بیان ہے جن کے ادا کرنے کا ہمیں حکم ہے جیسے وراثت ،اقارب کے نفقہ اور میاں بیوی کے حسن معاشرت کے احکام یا ایسے حقوق جن کی پابندی کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ ایسے تمام اقوال و افعال تشریعی ہیں اور ان کی اطاعت تمام امت پر فرض ہے۔حضورنبی کریم ﷺ کا منصب شارع پر فائز ہونا امت محمدیہ کا اجماعی عقیدہ ہے، جس پر قرآن وحدیث عمل شاہد ہے۔

قرآن مجید: حضور نبی کریم ﷺ کے شارع ہونے کے حوالے سے قرآنی آیات اور ان کا مفہوم درج ذیل ہے۔

1:۔ ’’وہ انہیں اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں، اور بری باتوں سے منع فرماتے ہیں، اور ان کیلئے پاکیزہ چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور ان پر پلید چیزوں کو حرام کرتے ہیں، اور ان سے بارگراں اور طوق ساقط فرماتے (اور انہیں نعمت آزادی سے بہرہ یاب کرتے) ہیں‘‘ (الاعراف: 157) ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ جن پاک چیزوں کو انہوں نے اپنی خواہش سے حرام کر لیا ہے، انہیں آپﷺ حلال کریں گے، اور جن ناپاک چیزوں کو انہوں نے اپنی مرضی سے حلال کر لیا ہے، انہیںحرام کریں گے۔(تبیان القرآ ن، ج 4، ص 375)۔اس آیت سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حلال اور حرام کرنے کا منصب عطا فرمایا ہے۔

2۔’’اورجوکچھ رسولﷺتمہیں عطا فرمائیں سواسے لے لیا کرو ، اورجس سے تمہیں منع فرمائیں سو(اس سے ) رک جایاکرو،اوراللہ سے ڈرتے رہو(یعنی رسول ﷺ کی تقسیم وعطاپرکبھی زبان طعن نہ کھولو) ، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والاہے‘‘(سورۃ الحشر:7)

3۔ ’’آپﷺ فرما دیں کہ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو پھر اگر وہ روگردانی کریں تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا‘‘(سورہ آل عمران:32)

4۔ ’’اے ایمان والو!تم اللہ کی اطاعت کیا کرو ،اور رسولﷺ کی اطاعت کیا کرو، اور اپنے اعمال برباد مت کرو‘‘ (سورہ محمد: 33)۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ ساتھ نبی کریم ﷺ کی اطاعت نہ کرنے کو اعمال کی بربادی کا سبب قرار دیا، گویا آپ ﷺ کی اطاعت واجب ہوئی، اور اس سے ردگرانی باعث عتاب ہے۔ 

احادیث مبارکہ:اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو قرآن وشرع بیان کرنے کے ساتھ ساتھ واضح اورشارع کامنصب بھی عطافرمایاہے، اس لیے احکام شرعیہ کوبیان کرنے کے ساتھ احکام شرعیہ کو مقرر کرنا ، تحلیل وتحریم ،عمومات شرعیہ میں احکام اورافراد کی تخصیص کرنا اور مخصوصیات شرعیہ میں تعمیم کرنا بھی آپ ﷺ کے منصب نبوت میں شامل ہے۔ اس بارے میں احادیث مبارکہ سے چند استشہاد درج ذیل ہیں۔

حضرت مقدام بن معدیکربؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے ارشادفرمایا: ’’سن لو! بیشک مجھے کتاب اوراس کی مثل دی گئی ہے۔ عنقریب ایک شکم سیر شخص (یعنی آسودہ آدمی) اپنے بستر پر لیٹا ہوا کہے گا کہ تم لوگ اس قرآن کریم ہی کو اختیار کرو، اور تم قرآن کریم میں جو حلال پاؤ اس کو حلال سمجھو، اور قرآن کریم میں جو حرام پاؤ اس کو حرام سمجھو۔ یاد رکھو! گھریلو گدھے کا گوشت تمہارے لیے حلال نہیں ہے اورنہ ہی درندوں میں سے دانت والا جانور حلال ہے (یعنی شیر، چیتا، بھیڑیا وغیرہ)، اور نہ ذمی شخص کا پڑا ہوا مال، لیکن جب اس مال کا مالک مستغنی ہو۔ اور جو آدمی کسی قوم کے پاس مہمان ہو تو اس قوم کے ذمہ اس شخص کی مہمانداری کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی قوم اس کی مہمانداری نہ کرے تو اس مہمان کوحق حاصل ہے کہ اس قوم سے اپنی مہمانداری کاحق وصول کرے‘‘ (ابو داؤد:  4604) 

اس حدیث مبارکہ میں حضور نبی کریم ﷺ نے صرف قرآن مجید کو ماننے اور حدیث وسنت کے نہ ماننے والے کی مذمت بیان فرمائی، اور خود چار چیزوں کی حلت وحرمت کو بیان فرمایا ، جس سے واضح ہوا کہ چیزوں کی تحلیل و تحریم کا منصب نبی کریم ﷺ کو عطا فرمایا گیا ہے۔

حضرت مقدام بن معدیکربؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جان لو! عنقریب ایسا وقت آنے والا ہے کہ کسی شخص کو میری حدیث پہنچے گی اور وہ تکیہ لگائے ہوئے اپنی مسند پر بیٹھا ہوا کہے گا کہ: ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب (کافی) ہے۔ پس ہم جوکچھ اس میں حلال پائیں گے اسے حلال سمجھیں گے، اور جو حرام پائیں گے اسے حرام سمجھیں گے۔ جبکہ (حقیقت یہ ہے کہ) جسے اللہ کے رسولﷺ نے حرام کیا وہ بھی اسی چیز کی طرح ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے‘‘(ترمذی:2664)

اس حدیث مبارکہ میں بھی نبی کریمﷺ نے صرف قرآن مجید کے ماننے اور حدیث وسنت کے نہ ماننے کی مذمت بیان فرمائی، اور ساتھ ہی یہ وضاحت بھی فرما دی کہ خود نبی کریم ﷺ کو بھی چیزوں کے حرام اور حلال قرار دینے کا اختیار ہے، اور وہ ایسے ہی حرام و حلال ہوں گی جیسے اللہ تعالیٰ نے انہیں حرام و حلال قرار دیا ہو۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، تم ان دونوں کو جب تک مضبوطی سے تھامے رکھو گے، کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ ان میں سے ایک اللہ کی کتاب اوردوسری میری سنت ہے۔ یہ دونوں کسی صورت میں الگ الگ نہیں ہوں گی اور حوض کوثر پر یہ دونوں میرے پاس اکٹھی ہوں گی۔ (مستدرک:324)

اس حدیث مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے امت کیلئے قرآن کے ساتھ ساتھ سنت پر عمل اور تھامے رکھنے کو لازمی قرار دیا ہے، اور گمراہی سے بچنے کا راستہ قرآن وسنت دونوں کو قرار دیا ہے۔ جس سے حدیث وسنت کے شارع ہونے کی وضاحت ہوتی ہے۔ 

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

سفارتی کامیابیاں مگر معاشی محاذ پر مشکلات

پاکستان نے حالیہ مہینوں میں سفارتی محاذ پر غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے دوران پاکستان نے نہ صرف متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اپنے کردار کو بھی نمایاں کیا۔

مجوزہ 28ویں ترمیم اوراپوزیشن کی سیاست

ملک کے سیاسی حلقوں میں سرگوشیاں ہیں کہ حکومت آنے والے دنوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 28 ویں ترمیم کی منظوری کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔

منشیات مافیا اور طاقت کے سائے

یونانی فلسفی اناکارسس نے کیا خوب کہا تھا کہ قانون مکڑی کاوہ جالا ہے جس کو طاقتور؍امیر توڑتے ہوئے نکل جاتا ہے جبکہ کمزور؍غریب اس میں پھنس جاتا ہے۔

خیبر پختوا کے جنوبی اضلاع غیر محفوظ کیوں؟

خیبرپختونخوامیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پردہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

بلوچستان: چیلنجز کے باوجود استحکام کی نئی امید

بلوچستان میں ایک طرف دہشت گردی، بیرونی مداخلت، سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں اور خصوصاً خواتین کو گمراہ کرنے کی منظم سازشیں ہیں تو دوسری جانب ریاست، سکیورٹی ادارے، سیاسی قیادت اور صوبائی حکومت ایک مربوط حکمت عملی کے ذریعے امن، ترقی اور قومی وحدت کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

آزاد کشمیر: انتخابات سے قبل سیاسی کشمکش تیز

آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ قانون ساز اسمبلی کی پانچ سالہ مدت اسی سال دو اگست کو مکمل ہو جائے گی۔