حمایت علی شاعرکی قابل رشک داستان حیات
ہر شخص کی یہ فطری خواہش ہے کہ وہ ایک بھرپور زندگی گزارنے کے بعد اس جہان رنگ بو سے رخصت ہو لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص کی اس خواہش کی تکمیل ہو۔ لوگ خواب دیکھتے ہیں، بعض کو ان کی تعبیرمل جاتی ہے اور بعض اپنے خوابوں کے محل چکنا چور ہوتے دیکھتے ہیں۔ مایوسی کے سمندر میں ڈوبے ہوئے یہ لوگ آخر اسے مقدر کا لکھا جان کرصبر سے کام لیتے ہیں۔ بہرحال قسمت بھی تو کوئی چیز ہے۔ بعض لوگوں کا اعتقاد ہے کہ قسمت ہی سب کچھ ہے۔
حمایت علی شاعر کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے بڑی بھرپور زندگی گزاری ہے۔ بہت کام کیا، بہت نام کمایا اور ان کے راستے میں ناکامیوں کے کانٹے نہیں بلکہ کامیابیوں اور مسرت کے پھول بکھرے پڑے ہیں۔ بہت کم ہوتے ہیں ایسے لوگ۔ یقینا بہت کم۔ وہ سر سے پائوں تک ایک فنکار ہیں ایک کثیر الجہات (Multi-faceted) فنکار۔ ہم اپنے قارئین کو اس نادر روزگار شخصیت کے ہر گوشے کے متعلق بتائیں گے۔
حمایت علی شاعر 14 جولائی اورنگ آباد (بھارت) کے ایک فوجی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام حمایت طراب ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے افسانہ نگاری کی اور بعد میںشعر کے میدان میں قدم رکھا۔ 1950ء کے اوائل میں حمایت علی شاعر نے کراچی آ کر ریڈیو پاکستان میں ملازمت اختیار کرلی۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان میں مختلف ذمہ داریاں نبھائیں۔60ء کے عشرے میں وہ فلمی نغمہ نگار کی حیثیت سے پاکستانی فلمی صنعت سے وابستہ ہوگئے۔ ان کی یہ وابستگی 15 برس تک جاری رہی۔ فلم ’’آنچل‘‘ اور ’’دامن‘‘ کے گیتوں پر انہیں دوبار نگار ایوارڈ سے نوازاگیا۔ 1966ء میں انہوں نے اپنی ذاتی فلم ’’لوری‘‘ بنائی جو سپرہٹ ثابت ہوئی۔ کراچی میں اس فلم نے گولڈن جوبلی منائی۔ انہوں نے ایک عمدہ غزل گو کی حیثیت سے بھی اپنے آپ کو منوایا۔
وہ اردو کے سکہ بند شاعر، گیت نگار، اداکار اور ریڈیو ڈرامہ آرٹسٹ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اتنا ہمہ جہت فنکار واقعی کوئی کوئی ہوتا ہے۔ ایک زمانہ ان کی خداداد صلاحیتوں کا معترف ہے۔ پاکستان آنے سے پہلے وہ آل انڈیا ریڈیو میں کام کرتے تھے۔ ان کی شاعری کی پہلی کتاب ’’آگ میں پھول‘‘ 1956ء میں شائع ہوئی اور 1958ء میں اسے صدارتی ایوارڈ دیا گیا۔ ان کے دیگر شعری مجموعوں میں ’’مٹی کا قرض، تشنگی کاسفر، اور ’’ہارون کی آواز‘‘ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے شعری مجموعے ’’حرف حرف روشنی‘‘ نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی۔ وہ مشاعروں کے بھی بڑے کامیاب شاعر تھے اور ان کے تنقیدی مضامین کے بھی تین مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔
حمایت علی شاعر اردو ادب کی تاریخ کے واحد شاعر ہیں جن کی خودنوشت 3500 اشعار پر مشتمل ہے۔ 2007ء میں ان کے کلیات ’’کلیات شاعر‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئے۔ ان کی شاعری کے مختلف زبانوں میں ترجمے بھی ہوئے۔ 1976ء میں انہوں نے سندھ یونیورسٹی میں اردو ادب کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے پڑھانا شروع کیا۔ جب ان کے بچے بڑے ہوئے تو انہوں نے فلمی صنعت کو خیرباد کہا۔ دراصل ان کی اہلیہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کے بچے اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فلمی صنعت سے وابستہ ہو جائیں۔ 1989ء میں حمایت علی شاعر کو دہلی میں مخدوم محی الدین انٹرنیشنل ایوارڈ ملا۔ 2001ء میں انہیں واشنگٹن میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ملا۔ ذیل میں ہم اپنے قارئین کی خدمت میں ان کی غزلیات کے چند اشعار پیش کر رہے ہیں جو ان کی شعری عظمت کا بین ثبوت ہیں۔
اس کے غم کوغم ہستی تو مرے دل نہ بنا
زیست مشکل ہے اسے اور بھی مشکل نہ بنا
ہمارے سامنے زیبا نہیں غرور تمہیں
جہاں پہ بیٹھے ہو تم وہ جگہ ہماری ہے
میں نے کہا کہ یار تجھے کیا ہوا ہے یہ
اس نے کہا کہ عمر رواں کی عطا ہے یہ
تجھ سے وفا نہ کی تو کسی سے وفا نہ کی
کس طرح انتقام لیا اپنے آپ سے
جو کچھ بھی گزرنا ہے مرے دل پہ گزر جائے
اترا ہوا چہرہ مری دھرتی کا نکھرجائے
ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ
دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ
ازل سے ایک عذاب قبول درد میں ہوں
کبھی خدا تو کبھی ناخدا کی زد میں ہوں
آج کی شب بھی ہو جو ممکن تو جاگتے رہنا
کوئی نہیں ہے جان کا ضامن جاگتے رہنا
وہ ایک رومانوی شاعر ہیں لیکن انہوں نے اپنی شاعری کے کینوس کو محدود نہیں رکھا۔ ان کی غزلیات میں ہمیں معروضی حالات کی عکاسی بھی ملتی ہے۔ وقت کے ساتھ وہ اپنا شعری اسلوب بھی تبدیل کرتے رہے۔ ان کے اشعار میں ہمیں شعری طرز احساس اور جدید طرز احساس کا بڑا خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔
حمایت علی شاعر نے فلمی گیت نگاری میں بھی کمالات دکھائے۔ انہوں نے اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔ ان کے فلمی گیتوں کا معیار بہت بلند تھا اوروہ ادبی چاشنی سے مزین ہوتے تھے۔ ان کی فلم ’’لوری‘‘ کے اداکاروں میں محمد علی، زیبا اور سنتوش کمار شامل تھے۔ اس فلم کی ہدایتکاری کے فرائض بھی انہوں نے سرانجام دیئے۔ ان فلم کے گیت لاجواب تھے۔ انہوں نے مزاحیہ گیت بھی لکھے اور لوریاں بھی تخلیق کیں جو بے حد مقبول ہوئیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ حمایت علی شاعر کے زیادہ تر فلمی نغمات کی موسیقی خلیل احمد نے ترتیب دی۔ خلیل احمد کے ساتھ ان کی دیرینہ دوستی تھی۔ حمایت صاحب کو اپنے ہم عصر نغمہ نگاروں میں ممتاز مقام حاصل تھا۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت کے مشہور فلمساز و ہدایتکار آنجہانی یش چوپڑا نے انہیں اپنی فلم میں نغمہ نگاری کی پیشکش کی لیکن وہ نجی مصروفیات کی وجہ سے ممبئی نہ جاسکے۔ انہوں نے ’’لوری‘‘ کے علاوہ دو اور فلمیں بھی بنائیں جن کے نام تھے ’’گڑیا‘‘ اور ’’منزل کہاں ہے تیری‘‘۔
اب ہم حمایت علی شاعر کے چند شاندار فلمی نغمات کا ذکر کریں گے جن کی شہرت اور اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ فلموںکے نام بھی دیئے جا رہے ہیں۔
1- جب سے دیکھا ہے تمہیں دل کا عجب عالم ہے (جب سے دیکھا ہے تمہیں)
2-نہ چھڑا سکو گے دامن (دامن)
3- اپنے پرچم تلے ہرسپاہی چلے (اک تیرا سہارا)
4- جب رات ڈھلی تم یاد آئے (کنیز)
5- میں نے تو پریت نبھائی (خاموش رہو)
6- نوازش کرم شکریہ مہربانی (میں وہ نہیں)
7- دور ویرانے میں اک شمع ہے روشن (نائیلہ)
8- چندا کے ہنڈولے میں (لوری)
9- ہر قدم پر نت نئے سانچے (میرے محبوب)
10- ہم بھی مسافر تم بھی مسافر(بدنام)
حمایت علی شاعر نے ملی نغمے بھی تحریر کیے جن میں سب سے مشہور ’’جاگ اٹھا ہے سارا وطن‘‘ بھی شامل ہے۔ یہ نغمہ 1965ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’مجاہد‘‘ کیلئے لکھا گیا تھا۔ مسعود رانا کا گایا ہوا یہ نغمہ آج بھی فوجی جوانوں کا لہو گرماتا ہے۔
حمایت علی شاعر 15جولائی 2019ء کو کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں اس دنیا سے رخصت ہوئے مگر وہ کام کی بدولت ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔