خالدہ حسین
خالدہ حسین کا شمار اردو کے ممتاز فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ علامتی، تجریدی، استعاراتی اور وجودی فکر کی حامل افسانہ نگار ہیں۔
گزشتہ نصف صدی میں انہوں نے ادب کی مختلف جہات ناول، افسانہ، تراجم، ڈرامہ اور تحقیق میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ 18 جولائی 1938ء کو پیدا ہونے والی خالدہ حسین کا بچپن ادبی اور پڑھے لکھے ماحول میں پروان چڑھا۔ خالدہ حسین نے میٹرک کا امتحان لیڈی میکلگن اسکول لاہور سے پاس کیا۔ ایف اے اور بی اے کے امتحانات لاہور کالج برائے خواتین سے اچھی پوزیشن میں پاس کیے۔ ادبی ماحول میسر ہونے کی وجہ سے انہوں نے بی اے میں اردو اور فلسفہ کو اہمیت دی اور ان مضامین میں وظیفہ حاصل کیا۔1962ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا امتحان پاس کیا۔ ایم اے میں ادبی لگن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبادت بریلوی کی زیرنگرانی بعنوان ’’اردو غزل 1947ء کے بعد‘‘ کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھا۔
خالدہ حسین نے جب 1956ء میں لکھنا شروع کیا تو ان کے ہم عصروں میں انتظار حسین، انور سجاد، سمیع آہوجہ، ذکاء الرحمن، سریندر پرکاش، رشید امجد اور بلراج منرا تھے۔ خالدہ حسین کے والد شاعری کے دلدادہ اور ادبی نثر کے بھی رسیا تھے۔ ان کی بڑی بہن پنجاب پبلک لائبریری کی رکن تھیں۔ وہ انہیں ساتھ لے جاتیں جس کی بدولت ان کا ادبی ذوق مزید پروان چڑھا۔
وہ ابتدا میں مختلف قلمی ناموں سے لکھتی رہیں، جس میں خالدہ اصغر اور خالدہ اقبال شامل ہیں۔ ان کا پہلا افسانہ ’’نغموں کی طنابیں ٹوٹ گئیں‘‘ 1956ء کو ادبی جریدے ’’قندیل‘‘ میں شائع ہوا۔ جس کو ادبی و افسانوی دنیا میں خاصی پذیرائی ملی۔ دوسرا افسانہ ’’ادب لطیف‘‘ میں 1960ء میں شائع ہوا۔ جس کے بعد انہوں نے مسلسل افسانے تخلیق کیے اور ان کے اندر رہ کر وجود کی تلاش میں سرگرداں ہو گئیں۔ وہ اپنے افسانوں کا مواد اردگرد کے ماحول سے اخذ کرتی ہیں اور کمال مہارت سے افسانے کے قالب میں ڈھال کر بات کہہ لیتی ہیں۔ خالدہ حسین خاتون مصنفہ ہونے کے ناطے گہرا تانیثی شعور لئے ہوئے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں عورت کے دکھ درد حقوق و فرائض، معاشرے میں اس کے ساتھ ناروا رکھے جانے والے سلوک اور اس کی بے بسی کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ وہ عورت کے ثقافتی وجود کو بھی تلاشتی ہیں۔
ان کے علامتی اور تجریدی افسانوں میں تقسیم ہند کے نتیجے میں ہونے والی بربادی، افرا تفری اور جانی و مالی نقصان کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ وہ جلاوطنی کے دکھ کو برابر سمجھتی ہیں۔ دہشت گردی جو نائن الیون کے بعد سے اب تک ہمارا پیچھا کیے ہوئے ہے اور کس طرح ترقی یافتہ ممالک ترقی پذیر ممالک پر بمباری کرتے ہیں اور قیدیوں پر نام نہاد سیکولر کس طرح سلوک کرتے ہیں۔ افسانہ سمندر، تریاق،جزیرہ اور ابن آدم اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ علاوہ ازیں سرمایہ داری، جاگیرداری، تصوف، نفسیات، فلسفہ، مذہب، تاریخ اور معاشرت جیسے موضوعات بھی ہیں۔
خالدہ حسین کی انفرادیت ’’وجودیت‘‘ ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں تلاش ذات و شناخت کا سفر جاری رکھتی ہیں۔ وہ خارج کے بجائے داخل میں غوطہ زن ہوتی ہیں۔ وہ اپنی کہانیوں میں ان تمام مسائل و مصائب کا ذکر کرتی ہیں جو وجودیت کا باعث بنتے ہیں اور یہی حالات ان کے افسانوں میں استعمال ہو کر ان کے وجودی نقطہ نظر کو جلا بخشتے ہیں۔ وہ ذات کی آرزو مند ہیں اور اس کی شناخت چاہتی ہیں۔ وہ انسان کیا ہے؟، دنیا میں کیوں آیا ہے؟،اس کے حقوق و فرائض کیا ہیں؟،وہ اس دنیا میں تنہا اور لاوارث کیوں ہے؟ اس قسم کے سوالات کو جنم دیتی ہیں اور ان کے جوابات تلاشتی ہیں۔
ان کی تخلیقات میں ایک ناول ’’کاغذی گھاٹ‘‘ اور چھ افسانوی مجموعے ہیں۔ افسانوی مجموعہ ’’پہچان‘‘ میں 17 افسانے شامل ہیں۔ ’’ہیں خواب میں ہنوز‘‘ 20 افسانوں اور ایک ترجمے پر مشتمل ہے۔ ’’جینے کی پابندی‘‘ میں 18 افسانے اور 2 تراجم ہیں۔ ’’دروازہ‘‘ میں شامل افسانوں کی تعداد 24 اور افسانوی مجموعہ ’’مصروف عورت‘‘ میں 18 افسانے شامل ہیں۔ ’’میں یہاں ہوں‘‘ 15 افسانوں اور 4 تراجم پر مشتمل ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے کچھ ڈرامے تخلیق کیے اور ایک آدھ افسانے کی ڈرامائی تشکیل بھی ہوئی۔ خالدہ حسین نے فکشن کے ساتھ ترتیب و تالیف میں بھی خامہ فرسائی کی۔
حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں ’’تمغہ برائے حسن کارکردگی‘‘ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ان کا 11 جنوری 2019ء کو اسلام آباد میں انتقال ہوا۔ ان کے ادبی کارناموں پر ایم اے اور ایم فل کی سطح پر تحقیقی و تنقیدی کام ہو چکا ہے مگر افسوس جس پذیرائی اور داد کی وہ مستحق تھیں اس سے انہیں محروم رکھا گیا۔
افسانوی مجموعے
٭…پہچان (1981ء)
٭…دروازہ (1982ء)
٭…مصروف عورت (1989ء)
٭…ہیں خواب میں ہنوز (1995ء)
٭…میں یہاں ہوں(2005ء)
٭…مجموعہ خالدہ حسین (2008ء )
٭…جینے کی پابندی(2017ء)
ناول
٭…کاغذی گھاٹ (2005ء)
اردو ادب میں ایم فل حافظ اعجاز حسین
کا تعلق چنیوٹ سے ہے اور وہ شعبہ
درس و تدریس سے وابستہ ہیں