قراردادپاکستان کا متن کس نے لکھا؟

تحریر : ڈاکٹرزاہدمنیر عامر


قراردادِ پاکستان کا مصنف یا مصنفین کون تھے ؟اس سوال نے بہت سی بحثوں کو جنم دیا اور ’’لائے ہیں بزم ناز سے یار خبر الگ الگ‘‘ کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ ہندو مصنفین کی بات تو چھوڑیے،خودوطنِ عزیز میں بعض حضرات نے اسے خوابِ پریشاں بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

وطن عزیز کے نادان دوستوں کی جانب سے ایک خیال یہ ظاہرکیاگیاہے کہ ’’یہ قرارداد انڈیا کے وائسرائے لارڈ لنلتھگو (Lord Linlithgow )نے چودھری محمد ظفر اللہ سے لکھوائی، جنھوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، بعد میں یہ مسودہ قائداعظم محمدعلی جناحؒ اوربرطانوی حکومت کی توثیق کے بعد 23مارچ1940ء کو مسلم لیگ کے لاہور میں ہونے والے جلسۂ عام میں پیش کیاگیا‘‘ ۔

تاریخ کے طالب علم یہ جانتے ہیںکہ ہندوستان میں برطانیہ کی آمد کے بعد ہندوستان کے سیاسی مسئلے کے حل کے لیے مختلف اوقات میں مختلف اصحاب کی طرف سے بیسیوںتجاویز پیش کی گئیں جو قارئین ان کی تفصیل جاننا چاہیں وہ مشہورمؤرخ کے کے عزیز صاحب کی چار جلدوں پرمشتمل کتاب ’’اے ہسٹری آف دی آئیڈیا آف پاکستان‘‘ (A History of the Idea of Pakistan) ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔ 

سرظفراللہ نے برطانوی وائسرائے لارڈ لنلتھگو کی ہدایت پر ایک نوٹ تیار کیا تھا۔ یہ نوٹ ہندوستان کے لیے تقسیم یاآزادی کی تجویز کاحامل نہیں تھا بلکہ برطانوی اقتدار کے زیرسایہ ڈومینین سٹیٹس کی تجویز کاحامل تھا۔ یہ نوٹ لارڈ لنلتھگو نے اپنی طرف سے مختلف اصحاب کو بھجوایا جس کااظہار اس نے مارکوئس آف زیٹلینڈکے نام اپنے 12مارچ 1940ء کے خط میںکیا ہے ۔پہلے تویہی بات کافی وضاحت کیے دیتی ہے کہ اس نوٹ کا قراردادِ پاکستان سے کوئی تعلق نہ تھا کہ یہ نوٹ ڈومینین سٹیٹس کی تجویز کاحامل ہے اورقراردادِ پاکستان میں تقسیم ہند کامطالبہ کیا گیا۔جن لوگوں نے اس نوٹ کارشتہ قراردادِ پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی ان کی تردیدخود سرظفراللہ نے کردی تھی ۔سید شریف الدین پیرزادہ نے اپنی کتاب ’’پاکستان کا ارتقاء‘‘ Evolution of Pakistan,  میں واضح طورپر اس بات کی تردیدکی ہے کہ اس قراردادمیں ظفراللہ خان کا کوئی ہاتھ تھا۔خود چودھری ظفراللہ خان کی خود نوشت ’’تحدیث نعمت‘‘ میں، جس میں انھوں نے اپنی زندگی کے نہایت معمولی اور چھوٹے چھوٹے واقعات بھی محفوظ کردیے ہیںاور لارڈز زٹلینڈ سے ہونے والی اپنی گفتگو میں وہ رائے بھی محفوظ کی ہے جس میں ’’چون (54) فیصدی مسلمانوں کو صرف اٹھائیس فیصدی نیابت‘‘ دی گئی تھی،تحدیث نعمت میںقراردادِ پاکستان یا اس کی تصنیف سے ان کے تعلق کاکوئی تذکر ہ نہیں ۔ 

ایک مدت کے بعد خان عبدالولی خان نے تحریک حریت سے متعلق اپنی کچھ تحقیقات پیش کرنا شروع کیں تو انھوں نے یہ ’’انکشاف‘‘ کیاکہ برطانوی وائسرائے لارڈ لنلتھگوکے کہنے پر سر ظفراللہ نے ایک یادداشت لکھی اور’’ مسلم لیگ نے یہی منصوبہ لاہورمیں قرارداد پاکستان کے نام سے اپنے سالانہ اجلاس میں منظور کرلیا‘‘۔ اس وقت تک سرظفراللہ خان حیات تھے ۔انھوںنے ولی خان کی اس ’’تحقیق‘‘پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاتھاکہ ’’ ولی خان مجھے قرارداد پاکستان کا جھوٹاکریڈٹ دینے پر کیوں مصر ہیں ؟‘‘ قرارداد پاکستان کے حوالے سے سرظفراللہ کا تردیدی بیان روزنامہ ’’ڈان ‘‘کے 25 دسمبر 1981ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ اس بیان کا عنوان ہی ’’Zafrullah denies submitting any partition formula‘‘ تھا۔

ڈان میں سرظفراللہ کے اس تردیدی بیان کی اشاعت کے بعد ایک دوسرے انگریزی روزنامہ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ نے اپنی 23جنوری 1982ء کی اشاعت میں سر ظفراللہ کے اس نوٹ کا مکمل متن شائع کردیا جو انھوںنے وائسرائے لارڈ لنلتھگو کی فرمائش پر تیارکیاتھا اور اس نوٹ کا عنوان Zafrullah's note give Wali Khan the lieقائم کیا اس طویل نوٹ کے ساتھ جو اخبار کے دو صفحات کو محیط تھا لارڈ لنلتھگو کی وہ تحریربھی شائع کی گئی جو اس نوٹ کے حوالے سے زٹلینڈ کو لکھی گئی تھی۔

سرظفراللہ خان نے پہلے تو اس بات کی تردید کی کہ ان کاقرارداد پاکستان سے کوئی تعلق تھا لیکن بعدازاں انھوں نے روزنامہ  ’’پاکستان ٹائمز‘‘کوایک تحریرارسال کی جسے اخبار نے ’’چوہدری ظفر اللہ خان ایکسپلینز‘‘ (Ch. Zafrullah Khan explains)کے عنوان کے تحت 13فروری 1982ء کو شائع کیا۔اس تحریر کا آغاز قائداعظم ؒکی خدمات کے اعتراف سے کیا گیااور اپنے بارے میں قائداعظمؒ کے اعتمادکی تفصیلات پیش کی گئیں لیکن آخر تک پہنچتے پہنچتے ان کے قلم سے یہ الفاظ تراوش ہوئے :

The separation scheme set out in the note was most certainly not rejected by me. As will presently appear. I set it forth as the only satisfactory and acceptable solution of the constitutional problem.(Note to Linlithgow: Ch Zafrullah Khan explains The Pakistan Times Lahore 13 February 1982)

گویا سرظفراللہ جو اب تک قرار داد پاکستان سے اپنے تعلق کی تردیدکرتے رہے تھے اب اس سے اپنے نوٹ کا رشتہ جوڑنے پر مائل دکھائی دینے لگے۔اس پر پروفیسر وارث میر مرحوم نے گرفت کی اور سرظفراللہ کے محولہ بالا موقف پر تنقیدکرتے ہوئے لکھاکہ ’’انھوںنے جوابی حملے میں ایک منجھے ہوئے سیاستدان اور قانون دان کی ساری ’’فن کاریوں‘‘کو استعمال کرڈالا‘‘ پروفیسر وارث میرنے اپنے ساتھ ہونے والی سرظفراللہ کی ملاقات اور گفتگو نیز سرظفراللہ کے مضمون میں پیش کیے گئے نئے مؤقف میں پائے جانے والے تفاوت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بڑی تکلیف اور حیرت کے ساتھ لکھا کہ ’’سب سے پہلی اور بڑی حقیقت تو یہی ہے کہ بڑے سے بڑا شخص بھی تضاد بیانی سے کام لے سکتا ہے‘‘۔اس ساری تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سرظفراللہ کے نوٹ کا قراداد پاکستان سے کوئی تعلق نہیں تھا جیساکہ خود ظفراللہ خان نے اپنے بیان میں اس امر کی تردید کرتے ہوئے ان واقعات کے زمانی تناظرمیں اس بات کو ناممکن الوقوع قرار دیا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی اس بات پر مُصر رہے کہ قرارداد پاکستان سرظفراللہ کی تخلیق تھی تو ایسے اصحاب کی کورچشمی کی دادہی دی جاسکتی ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ قراردادِ پاکستان کا ابتدائی ڈرافٹ تیار کرنے کے لیے مسلم لیگ کے ستائیسویں سالانہ اجلاس سے پہلے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں قائداعظمؒ، سرسکندر حیات خان، ملک برکت علی اور نواب اسماعیل خان شامل تھے۔سر سکندر حیات خان نے تجویز کا ڈرافٹ  تیار کیا۔ سر سکندرحیات خان نے 11مارچ 1941ء کو پنجاب اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اس تاریخی حقیقت کو واضح طورپر محفوظ کرتے ہوئے کہاتھاکہ مجھے اس حقیقت کا اظہارکرنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ قرارداد پاکستان کا ڈرافٹ میں نے تیار کیا تھا البتہ ورکنگ کمیٹی نے اس میں معتد بہ ترامیم کردی تھیں ۔ 

ہمیں سر سکندرحیات کا یہ ڈرافٹ اور اس پرکی گئی بیسیوں تبدیلیاںبہ چشم سر دیکھنے کاموقع ملا ہے۔ اصل ڈرافٹ کل دو ٹائپ شدہ صفحات پر مشتمل تھا جو 22 مارچ 1940ء کو سبجیکٹ کمیٹی میں پیش کیا گیا ۔ لیاقت علی خان نے اسے پڑھ کر سنایا ۔سات گھنٹے کی بحث و تمحیص کے بعد اس ڈرافٹ میں تبدیلیاں کی گئیں ، یہ تبدیلیاں قائداعظمؒ، ملک برکت علی، محمدنعمان ، رضوان اللہ ، زیڈ ایچ لاری ، نواب چھتاری ، حسن امام ، عزیز محمد، مشتاق احمد گورمانی، ظہیرالدین فاروقی ، عبدالحمید خان، پیرعلی محمدراشدی کے قلم سے ہیں۔ یہ تبدیلیاں اتنی زیادہ ہیں کہ سر سکندر حیات کا تیارکردہ ڈرافٹ کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ٹائپ شدہ ڈرافٹ پر کی گئی ان قلمی تبدیلیوںنے ڈرافٹ کو تیرہ صفحوں تک پھیلادیاہے ۔ قرارداد کامتن انگریزی میں تھا اور سب لوگ انگریزی نہیں جانتے تھے اس لیے مولاناظفر علی خان نے،جنھیں انگریزی سے اردو ترجمہ کرنے پرغیرمعمولی قدرت حاصل تھی، اسی وقت قرارداد کااردو میں ترجمہ کر دیا۔عاشق حسین بٹالوی کے مطابق جب مولانا ،قرارداد کا ترجمہ کررہے تھے توسر سکندر حیات دور سے اٹھ کر مولاناظفرعلی خان کے پاس آکر بیٹھ گئے اور ان کے کیے ہوئے ترجمے کے ایک ایک لفظ پر غور کرتے رہے ۔اگر ہمارے محقق اور اسکالر اس مسودے کو دیکھ لیں تو ان کے تمام اشکالات خود بخود رفع ہوجائیں گے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا مستقبل ؟

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے 13 سالہ حکومتی تسلسل کا خاتمہ ہو گیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے ایسے سیاسی فیصلوں کے باعث اپنے آخری مورچے کو بھی وفاق کے حوالے کر دیا ہے۔

کے پی میں آئینی اقدامات، قومی سیاست پر اثرات

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے اثرات قومی سیاست پر نظر آ رہے ہیں۔ حکومت مذکورہ اقدامات کی بنیادی وجہ خیبر پختونخوا کی سابق حکومت کے رویے خصوصاً دہشت گردی کے سدباب میں عدم سنجیدگی کو قرار دیتی ہے۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ سندھ میں بھی…

ملک میں ہر طرف خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا چرچا ہے‘حکومت کی بھی ساری توجہ اسی طرف ہے البتہ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار نے پیپلز پارٹی کو مخاطب کر تے ہوئے کہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ سندھ میں بھی صدرمملکت آصف علی زرداری کے دستخط سے گورنر راج لگ جائے۔

اور گورنر راج لگ گیا!

گورنر راج لگ گیا،خیبر پختونخوا اسمبلی معطل اور پی ٹی آئی کی دو تہائی اکثریت والی حکومت ختم کردی گئی۔ وزیراعلیٰ معزول قرار پائے، اختیارات چھن گئے، پی ٹی آئی کی راجدھانی ختم ہوگئی، پاکستان تحریک انصاف کے روپوش رہنماؤں کا آخری محفوظ ٹھکانہ بھی چھن گیا۔

قومی مفاد مقدم!

بلوچستان سمیت ملک بھر میں پائیدار امن، آئین کی بالادستی، سیاسی استحکام اور عوامی خوشحالی اہم قومی تقاضے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی اقدامات ہوں، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر سیاسی اختلافات ہوں، بلوچستان کے قدرتی وسائل پر اختیار کی بحث ہو یا نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے منصوبے، ان تمام معاملات کا اصل تعلق عوام کے مستقبل سے ہے۔

آزاد کشمیر، سیاست میں اتفاقِ رائے کی ضرورت

آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کو اقتدار کی سیاست، جماعتی اختلافات اور روایتی سیاسی بیانات سے آگے بڑھ کر آزاد کشمیر کے مفادات، عوامی حقوق اور خطے کے امن و استحکام کو ترجیح دینا ہو گی۔