شبِ قدَر:توبہ اور دعائوں کی قبولیت کے بابرکت لمحات

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک مکمل سورۃ نازل فرما کر اس کی عظمت و رفعت پر مہر تصدیق ثبت فرمائی

رمضان المبارک کا پورا ماہ منور برکتوں اور رحمتوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس میں گناہگاروں کی مغفرت و معافی عام ہوتی ہے، گویا یہ نیکیوں کا موسم بہار ہے۔ اس کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے نجات ہے۔ اس ماہ کامران میں مومن کا رزق فراخ کر دیا جاتا ہے، نیکیوں کے اجر کو سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔

غرض یوں تو پورا رمضان ہی باعث شفاعت و نجات ہے لیکن لیلۃالقدر جو صرف سرکار کونینﷺکے صدقے میں آپﷺ ہی کی امت کے حصہ میں آئی ہے۔ اس کی تو شان ہی نرالی و منفرد ہے یہ جب آتی ہے تو اپنے جلو میں بے پناہ رحمتیں اور برکتیں لے کر آتی ہے۔ اس شب کی عبادت کو ہزار ماہ کی عبادت سے افضل قرار دیا گیا ہے اور ہزار ماہ تقریباً 83 برس4ماہ بنتے ہیں۔گویا کہ جو خوش نصیب اس میں رات بھر عبادت میں مصروف رہتا ہے، وہ 83 برس چار ماہ کی عبادت سے کہیں زیادہ اجر و ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے۔

 لیلۃ القدر کی عظمت و فضلیت کیلئے یہی بات کافی ہے کہ اس ضمن میں قرآن کریم کی پوری سورہ’’سورۃ القدر‘‘ نازل ہوئی ہے۔

قدر کے ایک معنی شرف و منزلت کے ہیں چنانچہ علامہ قرطبی اس معنی کے لحاظ سے اس رات کو لیلۃ القدر تعبیر کرنے کی وجہ سے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ایک بڑی قدر و منزلت والی کتاب (قرآن مجید) بڑی قدر و منزلت والے رسول اللہ ﷺ پر اور بڑی قدرو منزلت والی امت کیلئے لوح محفوظ سے نازل فرمائی اور پھر اسے 23 برس کی مدت میں مکمل فرمایا۔

 علامہ زہری لکھتے ہیں کہ اسے لیلۃ القدراس لئے کہتے ہیں کہ اس میں نیک بندوں اور عبادت گزاروں کی اللہ تعالیٰ اور عالم بالا کے ساکنان کے نزدیک بڑی قدرو منزلت ہے۔ بلکہ اہل صفا جن کا ظاہر و باطن آئینہ کی طرح صاف و شفاف ہوتا ہے سے مصافحہ بھی کرتے ہیں اور عام ایمانداروں کو بھی چھوتے ہیں جو مصروف عبادت ہوتے ہیں گو ان کو چھونے میں دقت محسوس نہ ہو مگر اس چھونے کا اثر رقت قلبی،گریہ و زاری، گناہوں پر نادم ہونے، آنسو بہانے اور دعا و استغفار کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس رات میں ان کے اعمال صالحہ کی قدر ومنزلت باقی راتوں کے مقابلہ میں ہزار درجہ زیادہ ہوتی ہے۔ 

قدر کا معنی تنگی بھی آتا ہے اور قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اسی معنی میں استعمال ہوا ہے اس معنی کے اعتبار سے اسے لیلۃ القدر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس رات آسمان سے فرش زمین پر اتنی کثرت کے ساتھ فرشتوں کا نزول ہوتا ہے کہ زمین باوجود بے پناہ وسعتوں کے تنگ ہو جاتی ہے۔

 امام ابو راق فرماتے ہیں کہ یہ رات عبادت میں مصروف بندے کو چونکہ صاحب قدر بنا دیتی ہے اگرچہ وہ پہلے اس لائق نہ تھا اس لئے بھی اس کو شب قدر کہتے ہیں۔ اس رات کا ہر ہر لمحہ قیمتی ہے اور سلامتی ہے حتیٰ کہ اس شب سانپ،بچھو اور دیگر آفات و بلیات اور شیاطین سرکش جنات سے بھی ہم محفوظ کر لیے جاتے ہیں۔

 ایک روز سرکار مدینہ ﷺ اپنے حجرہ مبارک سے جلوہ گر ہوئے تو لوگوں کو مناجات میں مشغول پایا۔ ارشاد فرمایا میں تمہارے پاس اس ارادہ سے آیا تھا کہ تمہیں شب قدر کی اطلاع کروں مگر مجھے خوف ہے کہ تم اسے ضبط نہ کر سکو گے۔ تم اسے رمضان کے آخری عشرہ کی 9 راتوں میں تلاش کیا کرو۔

بلاشبہ شب قدر اللہ کا امت رسولؐ پر ایک عظیم انعام ہے جو فقط امت رسولؐ کی ہی خصوصیت ہے، کسی اور امت کو یہ عطا نہیں ہوئی۔ جب رسول کریم ﷺ کو سابقہ لوگوں کی عمروں پر آگاہ کیا گیا تو آپﷺ نے ان کے مقابلے میں اپنی امت کے لوگوں کی عمر کو دیکھتے ہوئے یہ خیا ل فرمایا کہ میری امت کے لوگ اتنی مختصر عمر میں سابقہ امتوں کے برابر عمل کیسے کر سکیں گے؟ جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے مقدس دل کو اس معاملہ میں ملول و پریشان دیکھا تو آپﷺ کو لیلۃ القدر عطا فرما دی، جو صدقہ میرے آقا کریم ﷺکا ہے۔ 

دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ بارگاہ رسالت ﷺ میں بنی اسرائیل کے ایک ایسے شخص کا تذکرہ کیا گیا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میں جہاد میں مصروف رہا تو حضور پاکﷺ نے اس پر تعجب فرمایا اور اپنی امت کیلئے آرزو کرتے ہوئے جب یہ دعا کی کہ اے میرے اللہ! میری امت کے لوگوں کی عمریں کم ہونے کی وجہ سے نیک اعمال بھی کم ہوں گے تو اس پر اللہ نے یہ شب قدر عنایت فرمائی۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ ایک بار حضور اکرمﷺ کے سامنے مختلف شخصیات حضرت ایوبؑ حضرت زکریاؑ، حضرت حزقیلؑ، حضرت یوشعؑ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان حضرات نے 80،80 سال متواتر اللہ کی عبادت کی ہے اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کی۔ صحابہ کرامؓ کو ان برگزیدہ ہستیوں پر رشک آیا تو اسی وقت جبرائیل ؑ حضور کی پاک بارگاہ عالیہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپؐ کی امت کے افراد ان سابقہ لوگوں کی 80،80 سالہ عبادت پر رشک کر رہے ہیں تو آپؐ کے رب نے آپﷺ کو اس سے بہتر عطا فرمادیا ہے اور پھر سورۃ القدر کی تلاوت کی۔ اس پر رسول خدا ﷺ کا چہرہ اقدس مسر ت سے چمک اٹھا۔ 

گویا لیلۃ القدر امت رسولؐ کو خدائی تحفہ ملا جو حضور پاکﷺ کا صدقہ ہے۔ اس رات کی بہت فضلیت ہے،حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ جس شخص نے ایمان اور احتساب کے ساتھ شب قدر میں عبادت کے لئے قیام فرمایا اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 27)

انسانی شکل میں فرشتے:اس پارے کے شروع میں اس بات کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے والے اجنبی انسان نہیں تھے بلکہ بشری شکل میں فرشتے تھے، تو ابراہیم ؑ نے اُن سے پوچھا کہ آپ کا مشن کیا ہے، اُنہوں نے کہا: ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ اُن پر مٹی سے پکے ہوئے پتھر برسائیں، جو آپ کے رب کے نزدیک حد سے تجاوز کرنے والوں کیلئے نشان زدہ (Guided) ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی کہاکہ ہم اہل ایمان کو صحیح سلامت اُس بستی سے باہر نکال دیں گے اور اُس میں مسلمانوں کا ایک ہی گھر ہے، یعنی حضرت لوط علیہ السلام کا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 27)

مقصدِ تخلیقِ انسان و جن:قرآن پاک کے ستائیسویں پارے کا آغاز سورۃ اَلذَّارِیَات سے ہوتا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں اور جنات کی تخلیق کے مقصد کا بھی ذکر کیا ہے کہ جنات اور انسان کی تخلیق کا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نہ تو مجھے ان سے رزق کی طلب ہے اور نہ میں نے کبھی ان سے کھانا مانگا ہے۔

لیلۃ القدر:اجرِ عظیم کی بابرکت رات

جس شخص نے ایمان اور اخلاص کے ساتھ ثواب کے حصول کی غرض سے شب قدر میں قیام کیا تو اس کے سارے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے(صحیح بخاری و مسلم شریف)

خلاصہ قرآن(پارہ 26)

سورۃ الاحقاف:اس سورہ میں ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا تاکیدی حکم ہے اور ماں نے حمل اور وضع حمل کے دوران جو بے پناہ مشقتیں اٹھائیں، ان کا ذکر ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 26)

سورۃ الاحقاف:قرآن پاک کے چھبیسویں پارے کا آغاز سورۃ الاحقاف سے ہوتا ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ مشرک کے پاس شرک کی کوئی دلیل نہیں ہے اور جو شرک کرتے ہیں‘ ان کو کہیے کہ اگر وہ سچے ہیں تو کوئی سابقہ کتاب یا علم کا ٹکڑا اپنے موقف کی دلیل کے طور پر لے کر آئیں۔

چوکوں چھکوں کی بہار،6میدان تیار

پاکستان سپرلیگ سیزن10:11روز بعد شروع ہونیوالے پی ایس ایل11میں8ٹیمیں شرکت کریں گی:ہر ٹیم لیگ مرحلے میں 10 میچ کھیلے گی، پلے آف مرحلہ 28 اپریل سے شروع ہوگا، لیگ میں 12 ڈبل ہیڈرز کھیلے جائیں گے