نئی شاعری اور عصری رجحانات

جدید شاعری روح عصر کی شاعری ہے۔ آج کا دور انتشار اور نفسیاتی ہیجان کا دور ہے۔ جنگ، تشدد پسندی، اخلاقی انحطاط، مادیت پسندی، خود غرضی، جنسی خلفشار دور حاضر کی سوغات ہیں، چوں کہ ادب زندگی سے ماخوذ ہے۔ لہٰذا شاعر بھی اپنے ماحول سے مغائرت نہیں برت سکتا۔
شاعری کو حسن اور صداقت کا مرکب تسلیم کیا جاتا ہے۔ مصدق، حسن ہی کا پر تو ہے اور حسن کی صداقت کا کسے انکار ہو سکتا ہے، دراصل شاعری کی ایک روایت ہے جو لفظ و آہنگ کے ایک خوبصورت انضمام کی رہین ہے۔ جمالیاتی یا رومانی سطح پر اس کی درجہ بندی نہیں کی جا سکتی۔ فی زمانہ شاعروں نے اپنے کلام میں اپنے اپنے دور کے مخصوص رجحانات کی عکاسی کی ہے۔ روایت سے تواترو ارتقاء میں انفرادی ذہانت کا بڑا عمل دخل ہے، ایلیٹ کی نظر میں عصریت ادبی روایت کا خمیر ہے۔ اس تناظر میں پرانی شاعری بھی نئی شاعری کی ہمقدم نظر آئے گی۔
شعری فلسفہ کے پس منظر جمالیات، عمرانیات، شاعری کے Archetypesہیں جو جو شعر و ادب کے اجتماعی شعور سے مشروط و ملزوم ہیں۔ شاعری اور ادب میں ’’اصل‘‘ اور ’’تمثال‘‘ ہمرکاب ہیں۔بقول داغ:
کچھ تازگی ہو لذت آزاد کیلئے
ہر دم مجھے تلاش نئے آسماں کی ہے
غالبؔ کی عصریت حالیؔ کی عصریت سے جدا تھی۔ اقبالؔ کی عصریت فیضؔ کی عصریت سے مختلف اور مجیدؔ کی عصریت ظفر اقبال کی عصریت سے علاحدہ ہے۔ یہ تمام شعراء اپنی شاعری میں اپنے دور کے رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں۔
روح عصر کیلئے جرمن میں Zeitgeistاور انگلش میں Contemporaneityکے الفاظ مستعمل ہیں۔ غالبؔ کا دور برصغیر میں مسلم تہذیب و ثقافت کے زوال کا دور تھا۔ ان کے کلام میں ان کے عمرانی پس منظر کا عکس صاف نظر آتا ہے۔ حالیؔ کی مسدس مسلم قوم کی زبوں حالی کا شعری تذکرہ ہے۔ اقبالؔ کی شاعری فکر اور احساس کی شاعری ہے اس کا محور عصری رجحانات کے علاوہ ان کا فلسفہ حیات ہے جس کا ماخذ تصور خودی، یقین محکم اور عمل پیہم ہیں۔’’فیض‘‘دُکھ درد اور درمانگی کے علاوہ امید کے شاعر بھی ہیں۔ مجید امجد تنہائی، خود مرکزی اور دروں بینی کے شاعر ہیں ،زندگی کی نفسا نفسی ان کی شاعری کی تھیم ہے۔ فراز جمال سے ’’نشیب زینۂ ایام، کی طرف مراجعت ان کے شعور عصر کی دلیل ہے۔ ظفر اقبال لمحہ موجود میں ایک نئی شعری روایت کی تعبیر و تزئین میں مصروف نظر آتے ہیں:
حفاظت ہی ہمارا مسئلہ تھا روزِ اول سے
سو اپنے گرداب یہ چار دیواری زیادہ ہے
نئی شاعری فرد کی حسیات کے ساتھ ساتھ بہت سارے ایسے عوامل پر بھی محیط ہے جو ہمارے اجتماعی شعور و دانست پر اثر انداز ہو کر ہماری بے چینی اور بے یقینی میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس طرز عمل کی غمازی نئی شاعری میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ مثالیں دیکھئے۔
یہ ہم غزل میں جو حرف و بیاں سناتے ہیں
ہوائے غم کے لئے کھڑکیاں بناتے ہیں
ہنر کی بات جو پوچھو تو مختصر یہ ہے
کشید کرتے ہیں آگ اور دھواں بناتے ہیں
(احمد مشتاقؔ)
ہمارا عہد کیا ہے، درد کی خوانچہ فروشی ہے
زمیں ہے یا کہیں ہے؟
گلوبل گائوں تو نیلام گاہ وضع داری ہے
یہ چپٹا گنبد بس اقدار کی سوداگری کا بوجھ اٹھائے گھومتا ہے
( ڈاکٹر وحید احمد)
چھوٹ جائیں قید شب سے رسم خود سوزی کے بعد
آئو جگنو بن کے نکلیں روشنی اوڑھے ہوئے
(آنسِ معینؔ)
حادثہ ہے کوئی ہونے والا
دل کی مانند زمیں دھڑکتی ہے
(باقی صدیقیؔ)
مغل گل آئے خزاں آئے ہمیں کیا مطلب
ہم تو گھر ہی میں پڑے رہتے ہیں دفنانے سے
(شہر بخاریؔ)
بہت سستے میں انساں بک رہے ہیں
ہمارے ہاں تو مہنگائی نہیں ہے
(نصرت صدیقیؔ)
نئی شاعری کو ساعت موجود میں مقید نہیں کیا جا سکتا۔ نہ اسے جدت پسندی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ جمال دوست، شاعر اور دانشور اکثر جدت پسند ہوتے ہیں لیکن وہ جدت کو ابلاغ یا معانی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیتے۔ انہیں صوت و حرف کی قوت کا پورا ادراک ہوتا ہے۔ نیا شاعر خواب اور حقیقت کے درمیانی بعد سے پوری طرح آگاہ ہے۔ خزاں میں وہ بہار کا منظر اور یاس، الم پرستی اور سراسمیگی کے جلو میں اسے امید، انسباط اور ثمر آوری کا بھی گہرا شعور ہے۔ وہ خود نوشت نہیں، خود کلامی قلمبند کر رہا ہے۔ زندگی کا سراغ پانے کیلئے وہ باطن کے سفر پر رواں ہے۔ اس طرح آج کا شاعر ’کہی‘ اور ’ان کہی‘ کے درمیاں پہچان’رہوں، یا، نہ رہوں، کی کشمکش میں گم ہے۔ اور وہ بقول شاعر:
محبت کے چلن سے
آرزو کی نارسائی کے الم کی خوگری تک
کسی گمنام حیرت کے تصور سے
دل صد چاک کے سارے غموں کو بھول جاتا ہے!
……
میں اپنے حجرۂ جہاں سے نکلنا چاہتا ہوں
کہ میرا رقص مرے چار سو ضروری ہے
اس میں مرکز دل و جاں سے دوری اور مراجعت دونوں شامل ہیں۔ اس استعارے کی فصاحت و بلاغت کو محسوس تو کیا جا سکتا ہے، بیان نہیں اور یہی آج کی شاعری کی عصریت کا جواز بھی ہے!!۔
سید افسر ساجد بیوروکریٹ، ماہر ِتعلیم اور شاعر ہیں، ان کی متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں