سٹریس: خواتین کا کامن پرابلم

تحریر : شازیہ کنول


’’سٹریس‘‘ اور’’ انزائٹی‘‘ کیا ہے؟ اکثر لوگ کہتے ہیں تم خوامخواہ پریشان ہو رہی ہو، کوئی مسئلہ نہیں سب ٹھیک ہو جائے گا، اتنی فکر نہ کرو لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ بات کہنا جتنا آسان ہے، اس پر عمل کرنا اتنا ہی مشکل۔ ’’سٹریس‘‘ کسی ایک مشکل یا پریشانی کا نام نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اکثر خواتین اس میں مبتلا ہوتی ہیں اور اس سے واقف بھی نہیں ہوتیں۔

 ایسی صورتحال میں یہ نہایت اہم ہے کہ ہم اپنا خیال رکھنا سیکھیں، اپنی پریشانی کو معمولی نہ سمجھیں اور اس پر بھرپور توجہ دے کر اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ ماہرین کے مطابق انزائٹی اور سٹریس کی بنیادی وجہ وہ بے پروائی ہوتی ہے جو ہم اپنی زندگی میں برت رہے ہوتے ہیں اور پھر یہ بے پروائی، آہستہ آہستہ سٹریس کی صورت زندگی کو متاثر کرنے لگتی ہے۔

 آج خواتین کی ایک بڑی تعداد سٹریس میں مبتلا ہے اور اس سے بچنے کا سب سے بہتر عمل یہ ہے کہ ہم اس کو پہچان لیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس سے بچا کیسے جائے؟ کیا کوئی طریقہ ہے کہ ہم اپنے ذہن پر سوار پریشانی سے نمٹ سکیں؟ ماہرین نے تحقیق و تجربے سے ایسے دس اصول ترتیب دیئے ہیں جن کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر آپ بھی ’’سٹریس‘‘ سے بچ سکتی ہیں۔ ان اصولوں میں مسکراہٹ اور گہرے سانس لینے جیسی عام ایکٹویٹی بھی شامل ہے، امید ہے آپ کو بھی یہ اصول آسان اور قابل عمل لگیں گے۔

میڈی ٹیٹ: آجکل ہر شعبے میں بہتر کارکردگی دکھانے کیلئے میڈی ٹیشن اپنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ دن میں چند منٹ صرف اپنے لیے وقف کیجئے۔ یہ آپ کی زندگی سے’’ سٹریس‘‘ اور ’’انزائٹی‘‘ جیسے بڑے مسائل نکال پھینکے گا۔ ایک تحقیق کے مطابق روزانہ میڈی ٹیشن کرنے والی خواتین کی ذہنی رو، سوچ کا سلسلہ اور انداز فکر بدل جاتا ہے۔ اس طرح دماغ کو دبائو برداشت کرنے کی زیادہ قوت حاصل ہوتی ہے۔

گہری سانس لینا: جب بھی ایسا محسوس ہو کہ ذہن پر فکر چھا گئی ہے، دل بوجھل ہے، پرسکون ہو کر بیٹھ جائیں اور گہری سانس لیں۔ہر اس تکلیف دہ خیال کو سانس کے ساتھ جسم سے نکال دیں جس نے آپ کا دل بوجھل کر رکھا ہے۔ یوں محسوس ہوگا جیسے ساری پریشانی اس ایک لمحے میں آپ کے ذہن و دل سے باہر نکل گئی ہو۔

 دوست جب پریشان ہوں تو بن بولے ہی سہارا بن جانا کتنا اچھا لگتا ہے، اس لئے جب آپ پریشان ہوں تو تب بھی ان کے پاس جاتے ہوئے فکر نہ کریں۔ان کا سہارا آپ کو اپنائیت کا احساس دلائے گا۔

ورزش: ماہرین کے مطابق ورزش کی وجہ سے جسم میں اینڈروفن ہارمون کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ ہارمون خوشی کے جذبات ابھارنے کیلئے مشہور ہے۔ چہل قدمی، قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کا وقت دیتی ہے اور جم میں کی جانے والی روز مرہ ورزش سے آپ منفی جذبات اور خیالات کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ اس لئے اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائے رکھیں۔

مسکراہٹ اور قہقہے: چلیں مان لیا کہ مسکراہٹ بہترین دوا نہیں لیکن اس میں ایسی خوبی ضرور موجود ہے جو سٹریس ہارمون کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مسکراہٹ ہمیشہ آپ کی زندگی کا حصہ رہے ، یہ روح کی غذا ہے۔

موسیقی: تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ خوشگوار اور دلفریب موسیقی سننے سے دل کی دھڑکن ہموار رہتی ہے، بلڈ پریشر نارمل رہتا ہے اور جب دل پرسکون ہو تو آپ کا موڈ بھی خوشگوار رہے گا۔ یہ خوشگواریت سٹریس میں کمی ہی نہیں، اسے ختم کرنے کا سبب بھی ہو گی۔

 مستقبل اور حال کو مٹھی میں بند نہیں کر سکتیں: یہ بہت سادہ سا اصول ہے۔ بس ایک بار دلی سکون کیلئے آنکھیں بند کر کے یہ طے کر لیں کہ آپ حالات کو قابو کرنے کی لا حاصل کوشش ترک کر دیں گی۔ ہمارا حال اور ہمارا مستقبل کیسا ہے اور کیسا ہوگا، یہ حالات اور واقعات پر منحصر ہے۔ آپ ان کا سامنا بہترین انداز میں کر سکتی ہیں لیکن اپنی من مرضی کے مطابق تقدیر کے فیصلے روک نہیں سکتیں۔ زندگی خوشی، غمی، کامیابی اور ناکامی کا نام ہے۔ اس لئے سب کچھ اپنے قابو میں رکھنے کی ناکام کوشش سے خود کو تکلف دینا بھی چھوڑ دیں۔

مثبت انداز فکر: ہمیشہ مثبت سوچنا آسان نہیں، لیکن اس کی کوشش ممکن ہے۔ جو لوگ زندگی میں ہمیشہ مثبت پہلو پر نظر رکھتے ہیں، مثبت طرز انداز تلاش کرتے ہیں، ان کی زندگی بھی مثبت رنگ میں ڈھل جاتی ہے۔

کچھ مستی بھی ہونی چاہئے: بڑی تو آپ ہو گئی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اب بچوں کی طرح بے فکر لمحات ہماری زندگی کا حصہ بھی نہیں بن سکتے۔ بچوں جیسی مستی کیجئے، ہنسئے، مسکرایئے، خوش رہئے، یہ کھکھلاہٹ آپ کی زندگی میں وہ خوشی واپس لے آئے گی جو کم ہو چکی ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

سپریم کورٹ،نئی روایات کے ساتھ

ملک کی سب سے بڑی عدالت میں بڑی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ نئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حلف لینے کے بعد کئی نئی روایات قائم کر دی ہیں۔ عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی روز اپنے اختیارات کا فیصلہ 15 رکنی فل کورٹ کے سپرد کر دیا۔

عام انتخابات،لیول پلینگ فیلڈ اور نواز شریف کی واپسی

ملکی سیاست میں سیاسی ہلچل شروع ہے اور لگتا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے انتخابات کی تاریخ ملنے سے پہلے ہی اپنی اپنی سطح پر انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف 21اکتوبر کو پاکستان آنے کا اعلان کرچکے ہیں اور ان کی آمدکے اعلان کے ساتھ ہی مسلم لیگ( ن) میں بھی جوش و جذبہ دکھائی دے رہا ہے۔

مہنگائی اور سیاسی بحران،عوام پریشان

ملک معاشی لحاظ سے ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں حکومت عوام کی سنے تو آئی ایم ایف ناراض اور آئی ایم ایف کی سنے تو عوام ناراض۔اس سنگین مالی بحران کے دور میں بھی آفرین ہے ہمارے سیاستدانوں پر جو بحران کا حل نکالنے اور کھینچا تانی کی سیاست سے گریز کے بجائے الزام اور انتقام کی سیاست پر کمر بستہ ہیں۔پوری قوم کو غیر ضروری مباحث میں الجھاکر حکمران طبقہ اپنی بہترین مراعات یعنی لاکھوں کی ،مفت پٹرول اور بجلی سے استفادہ کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی پی سرپرائزدے سکے گی ؟

خیبرپختونخوامیں طاقت کی رسہ کشی جاری ہے۔ کبھی ایک کا پلڑا بھاری تو کبھی دوسرے کاپلڑا۔پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہوئی تو اس وقت طاقت کے دو مراکز تھے جن میں ایک مسلم لیگ (ن) اور دوسرا جمعیت علمائے اسلام (ف) ، ایک سال کے دوران ان اتحادی جماعتوں کے مابین نورا کشتی بھی خوب ہوئی اور اختیارات کے مزے بھی ڈٹ کر لئے گئے۔

کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کا دنگل

کوئٹہ میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پرانی حلقہ بندیوں کے تحت ہی بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا شیڈول بھی آئندہ چند دنوں میں جاری کر دیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق صوبے کے بڑے شہروں میں ووٹرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے مگر دور دراز کے علاقوں میں یہ فرق اتنا نمایاں نہیں کہ حلقہ بندیوں پر اس سے اثر پڑے ۔ادھر کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کا بھی ڈول ڈال دیا گیا ہے۔

پہلے اشرافیہ پھر عوام سے وصولی کریں گے

وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق نے اعلان کیا ہے کہ پہلے اشرافیہ سے بل وصول کریں گے اس کے بعد عام نادہندگان سے بقایا جات وصول کئے جائیں گے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جب موجودہ اور سابق وزراے اعظم، وزرا، حاضر سروس اور ریٹائرڈ بیوروکریٹ بجلی کا بل دینا شروع کریں گے تومحکمہ برقیات کی طرف سے بلوں کی عدم ادائیگی پر عام آدمی پر کے خلاف بھی ایکشن کیا جاے گا۔