رہنمائے گھر داری،گھر میں نرم تکے کیسے بنائیں؟
عید پر تکہ پارٹی کرنے والوں کا کامن مسئلہ عید الاضحی کے دنوں میں گوشت کے پکوان کھانے کی روایت شاید اتنی ہی قدیم ہے، جتنی قربانی کی سنت۔ گھر میں قربانی ہو یا نہ ہو،نت نئے پکوان ضرور بنتے ہیں۔
عید الاضحی کے بعد اکثر گھروں کی چھتوں پہ تکہ بوٹی کی پارٹیاں سجنا شروع ہوجاتی ہیں۔ یوں تو تکوں کو رات کے کھانے میں پیش کیاجاتا ہے ،مگر اس کی تیاری سہ پہر سے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ سب سے پہلے گوشت کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر ان پر تکوں کا مصالحہ لگایا جاتا ہے۔ گوشت کو گلانے کیلئے مصالحے میں ہی کچا پپیتا یا ’’کچری‘‘ملادی جاتی ہے۔ اس کے بعد مصالحہ لگے تکوں کو کچھ گھنٹوں کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ مصالحہ اچھی طرح گوشت کے ساتھ مکس ہو جائے۔مغرب ہوئی نہیں کہ گھر کے مرد کھلے صحن میں یا چھت پر جاکر انگیٹھی جلانے میں لگ جاتے ہیں، بھلے ہی وہ سارا سال چولہے کے پاس نہ جاتے ہوں۔
انگیٹھی کیلئے کوئلے لانا یا منگوانا، مٹی کے تیل کا انتظام ، کوئلوں کو سلگاتے وقت ہوا کرنے کی غرض سے ہاتھ کے پنکھے کا بندوبست کرنا، سیخیں لانا، انہیں دھونا، سیخوں پر بوٹیاں لگانا، گرما گرم تکے اُتار کر پلیٹوں میں رکھنا، اس پر پیاز اور لیموں چھڑکنا،ساتھ میں کولڈ ڈرنک، دہی، رائتہ اور چٹنی کا انتظام وغیرہ وغیرہ ایسے کام ہیں جو عید کے بعد عموماً ہر گھر میں ہونے والی تکہ پارٹی میں مردوں کی جانب سے بڑے چائو کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔
یہ پارٹیاں صرف تکوں تک ہی محدود نہیں رہتیں بلکہ ان میں بریانی، کباب، کوفتہ، بھنا گوشت، بھنی ران، ہنٹر بیف، بہاری بوٹی، ریشمی کباب، چپلی کباب، شامی کباب، غرض کے ڈھیرسارے گوشت کے پکوان پیش کیے جاتے ہیں۔ان پارٹیوں کے حوالے سے لوگوں کا کہنا ہے کہ بقرعید پر پکوانوں اور پارٹیوں کا خصوصی انتظام نہ ہو،تو پھر عید کس چیز کی؟تہوار نام ہے معمول کی زندگی سے ہٹ کر کچھ کرنے کا، مزے اُڑانے کااور تہوار پر ہی یہ اہتمام نہ ہوں تو پھر عام دنوں اور تہواروں میں فرق کیا رہ جائے گا۔
اکثر لوگوں کو شکایت ہوتی ہے کہ گھر میں جوتکہ پارٹی کی جاتی ہے تو تکے ویسے نہیں بنتے جیسے بازار کے ہوتے ہیں۔بہت سے لوگ کے پی، افغانی سٹائل یاتھوڑا سخت گوشت کھانا پسند کرتے ہیںجبکہ اکثر گلا ہوا ملائم گوشت پسند کرتے ہیںجو کہ آسانی سے گل جائے اور آسانی سے کھایا جائے۔ ایسے میں ہر کسی کی پسند و ناپسند کا خیال رکھنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن آپ صرف چند تدابیر سے اپنے گھر کی تکہ پارٹی یا کھانے کی دعوت کو انتہائی لذیز بنا سکتی ہیں ۔ 3 طریقے ہیں گوشت کو نرم کرنے کے۔ ایک طریقہ ہے کہ برانڈڈ پیک میں آپ کو پاؤڈر بھی ملتا ہے جسے آپ ٹینڈرائزر کہتے ہیں۔ وہ مختلف برانڈز کے پاکستان میں ملتے ہیں ۔وہ آپ گوشت پر لگاتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لیے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ نرم ہو جائے۔ اس میں ٹینڈرائزر کچھ دیر لگا رہنے کے بعد اس گوشت پر مصالحے لگا کر آدھے سے ایک گھنٹے تک فریج میں رکھیں اور پھر پکائیں۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ پپیتا استعمال کریں۔ پپیتا لگا کرآپ گوشت کو چھوڑ دیں، پپیتے کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا ذائقہ گوشت یا مصالحے کے ذائقے پر حاوی ہوجاتا ہے، جس سے تھوڑی کڑواہٹ آجاتی ہے۔ گوشت گلانے کیلئے کچا پپیتا زیادہ تر کراچی میں استعمال کیا جاتا ہے۔
تیسرا طریقہ جو کہ افغانی سٹائل ہے اور تھوڑا ازبک سٹائل بھی ہے۔ اس میں آپ پانی میں تھوڑا سرکہ ملا کر گوشت کو آدھے گھنٹے سے دو گھنٹے تک اس میں چھوڑ دیں تو وہ گوشت کو نرم کرتا ہے۔ اس سے دم والا گوشت بنتا اور اس طرح کے گوشت کے دیگر آئٹمز بنتے ہیں۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جو فوری گوشت کو نرم کر دے گا اور آپ کے مزے مزے کے کھانے اس سے بن سکتے ہیں۔ کباب میں اتنا مسئلہ نہیں بنتا۔ اس میں ٹینڈرائزر استعمال کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے اس میں صرف قیمے کا سائز ہوتا ہے۔ کچھ لوگ موٹا قیمہ پسواتے ہیں اور کچھ باریک۔ موٹا قیمہ چپلی کباب کیلئے استعمال ہوتا ہے جبکہ باریک قیمہ سیخ کباب کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ پنجاب میں زیادہ تر لوگ باریک قیمے کے کباب پسند کرتے ہیں۔
منیرا کرن معروف شیف اور
کلنری کنسلٹنٹ ہیں، مقامی فائیو سٹار ہوٹل سے وابستہ ہیں