یادرفتگاں: عبداللہ حسین اردو کا عہد ساز ناول نگار

تحریر : محمد عاصم بٹ


تعارف: عبداللہ حسین 14اگست 1931ء کو راولپنڈی میں ایکسائز انسپکٹر محمد اکبر خان کے گھر پیدا ہوئے، وہ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے، ان کا نام محمد خان رکھا گیا، ان کے آباؤ اجداد کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے تھا۔ والد کی سرکاری نوکری کی وجہ سے 5سال کی عمر میں راولپنڈی سے گجرات چلے گئے اور اگلے 16برس گجرات میں قیام پذیر رہے۔

 ابتدائی تعلیم عبداللہ حسین نے اپنے گھر ہی میں حاصل کی۔ 9سال تک مذہبی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ گریجویشن تک تعلیم گجرات میں مکمل کی۔ زمیندار کالج گجرات سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ پہلی نوکری جہلم میں ایک سیمنٹ فیکٹری میں اپرنٹس کیمسٹ کے طور پر کی، پھر داؤد خیل، میانوالی کی سیمنٹ فیکٹری میں بطور کیمسٹ تقرر ہوا۔زندگی کے کئی سال انگلینڈ میں گزارے۔

محمد خان نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز مختلف جرائد میں کہانیاں لکھنے سے کیا اور اپنے لئے قلمی نام عبداللہ حسین کا انتخاب کیا۔ 1963ء میں ان کا شہرہ آفاق ناول ’’اداس نسلیں‘‘ منظر عام پر آیا۔افسانوی مجموعہ ’’نشیب‘‘ 1981ء، ’’باگھ‘‘  1982ء میں ، ’’ قید‘‘1989ء میں، ’’رات‘‘ 1994ء میں، ’’ نادار لوگ‘‘1996ء میں، ’’فریب‘‘2012ء میں شائع ہوا۔عبد اللہ حسین کو ان کے کلاسیک ناول ’’اداس نسلیں‘‘ پر’’آدم جی ادبی انعام‘‘ اور اکادمی ادبیات پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے صلے میں ’’کمال فن ادب انعام‘‘سے نوازا۔4جولائی 2015ء کو84برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔

اردو ادب کی اصناف میں ناول نگاری نظر انداز کی جانے والی صنف شمار ہوتی ہے۔ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں وہ ناول جو اردو کی مختصر عمر میں لکھے گئے۔ فسانہ آزاد کو ناول کے زمرے میں شمار کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کی جاتی ہے۔ تاہم پہلا ناول ڈپٹی نذیر احمد کے ’’مراۃ العروس‘‘ کو مانا جاتا ہے جو 1869ء میں منظر عام پر آیا تھا۔ یوں اردو میں ناول کی عمر ڈیڑھ صدی سے بھی کم بنتی ہے۔ اس عرصے میں جو ناول سامنے آئے ، ان میں سے اگر عالمی معیار کے الگ کر دیئے جائیں تو لامحالہ تعداد مزید سکڑ جائے گی۔ اردو میں جن چند ناول نگاروں نے عالمی ادبی معیار کی تحریروں سے ادب کے چمن زار کی رونق کو بڑھایا اور عالمی سطح پر شہرت حاصل کی، ان میں ایک نہایت اہم اور معتبر نام عبداللہ حسین کا ہے۔

عبداللہ حسین کاشمار ادرو کی نابغہ روزگار شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو فکشن پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ جب ہم دنیا کی بڑی ادبی شخصیات کی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ عام طور پر بڑی ادبی شخصیات ایک طویل ریاضت کے بعد ادبی عظمت کی بلندیوں کو چھو پاتے ہیں۔ بہر کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی پہلی ہی تخلیق سے قدرو منزلت حاصل کر لیتے ہیں۔ عبداللہ حسین کا شمار بھی ایسے ہی محدودے چند لوگوں میں ہوتا ہے۔ ان کا پہلا ناول ’’اداس نسلیں‘‘ اردو کا رجحان ساز ناول قرار پایا ۔ بعض نقادوں کے بقول ’’اداس نسلیں‘‘ پاکستان کا پہلا بڑا ناول ہے۔ 

عبداللہ حسین نے اپنی ساری زندگی اردو ادب کیلئے وقف کی اور کئی ناول، ناولٹ اور افسانوی مجموعے یادگار چھوڑے۔ ان کی تخلیقات کے کئی بین الاقوامی زبانوں میں ترجمے ہوئے اور یوں وہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی پہچان بنے۔ انہیں کئی ملکی و غیر ملکی اعزازات سے نوازا گیا جن میں اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ملک کا سب سے بڑا ادبی اعزاز ’’کمال فن‘‘ بھی شامل ہے۔ تاہم ان کا اصل اعزا زان کی وہ تخلیقات ہیں جو آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔  

عبداللہ حسین نے ’’اداس نسلیں‘‘ کے ذریعے اردو کے منظر نامے میں اپنی پہچان بنائی۔ اردو کے ساتھ ساتھ انہوں نے انگریزی میں بھی لکھا۔ اپنے ہی دو ناولوں ’’اداس نسلیں‘‘ اور ’’واپسی کا سفر‘‘ کے انگریزی زبان میں خود ہی تراجم کئے جو ’’The Weary Generations‘‘ اور ’’Emigre Journeys‘‘  کے عنوان سے شائع ہو چکے ہیں جبکہ ایک ناول ’’The Afghan Girl‘‘ ہنوز زیر طبع ہے۔

سرکاری نوکری کی وجہ سے ان کے والد محمد اکبر خان کو مختلف شہروں میں رہنا پڑا، ان شہروں کی رہتل نے عبداللہ حسین کی بچپن کی یادوں کو مہکائے رکھا۔ ہمیں ان کی تحریروں میں انہی شہروں اور دیہاتوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ان کے والد نے ریٹائرمنٹ کے بعد زراعت کا پیشہ اختیار کیا، عبداللہ حسین کے ہاں دیہاتی زندگی کے مناظر گجرات میں کھیتی باڑی سے جڑے ہوئے ان کے تجربات کی دین ہیں۔

اپنے باپ سے محبت اور ان دونوں کا گہرا قلبی تعلق بعدازاں عبداللہ حسین کے ناولوںاور کہانیوں میں باپ اور بیٹے کے نویکلے تعلق کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ان تحریروں میں ہمیں ایک باپ دکھائی دیتا ہے جو بیٹے کی راہنمائی کرتا ہے، عملی زندگی کے تجربات بیٹے کو منتقل کرتا ہے، اپنی عمر بھر کی دانش سے اس میں فہم و آگہی کی روشنی بھر دیتا ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران عبداللہ حسین اپنے والد سے متعلق یادوں کو کھنگالتے اور ان کی شخصیت کے خود پر اثرات پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’میں اب بھی شعوری طور پر اپنے والی اور ان کے ساتھ گزاری ہوئی زندگی سے سروکار رکھتا ہوں، اس لئے کہ میں نے ان کو دیکھا، ان کے ساتھ زندگی بسر کی اور مجھے ان کی ایک ایک بات یاد ہے‘‘

عبداللہ حسین خود کو ان فکشن نگاروں میں شمار کرتے ہیں جو محض تخیل کی بنا پر فکشن تخلیق نہیں کرتے بلکہ حقیقت کے مشاہدے سے اپنے لئے مواد حاصل کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں!

’’فکشن اصل میں حقیقت ہی کی توسیع ہے، سو جب تک حقیقی اجزا نہیں لئے جائیں گے، فکشن کی کوئی تصویر مکمل نہیں ہو سکتی‘‘

عبداللہ حسین کے ہاں تجربے کی فراوانی ہے اور اس تجربے کو اس کی باریک ترین جزئیات سمیت اپنی گرفت میں کرنے کی بے پایاں خواہش کا اظہار ملتا ہے۔ خود اپنے تخلیقی تجربے کے بارے میں کہتے ہیں!

’’مجھ میں تخیل کی کمی ہے، میرے لئے یہ ممکن نہیں کہ میں اپنے گھر میں بیٹھے آرام دہ کرسی پر لیٹے لیٹے ایسی چیزوں کی مدد سے کہانی گھڑ لوں جنہیں میں نے کبھی سونگھا، چکھا، دیکھا یا چھوا نہ ہو‘‘ 

عبداللہ حسین نے جزئیات نگاری کو اپنے فکشن کی تعمیر کیلئے بنیادی اکائی قرار دیا ۔ کرداروں کی تشکیل ہویا منظر کی، یا کوئی واقعہ بیان کیا جا رہا ہو، وہ جزئیات کی مدد سے اسے صفحے پر یوں زندہ کر دیتے ہیں کہ قاری خود کو اس صورت حال میں سانس لیتا محسوس کرتا ہے۔چاہے وہ ’’اداس نسلیں‘‘ میں جنگ کے مناظر ہوںیا جلیانوالہ باغ میں ہونے والی قتل و غارت، قاری ان گولیوں کی بوچھاڑ کی گڑاگڑہٹ محسوس کئے بغیر نہیں رہتاجو وہاں مرنے والوں کو ہوا میں معلق کر دیتی ہے۔ 

عبداللہ حسین کے بارے میں یہ بات بہت اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ انہوں نے زندگی اپنی شرائط پر گزاری، جیسا وہ جینا چاہتے تھے ، ویسے وہ جئے، جیسا وہ لکھنا چاہتے تھے ، کسی مصلحت کو درمیان میں لائے بغیر انہوں نے لکھا اور اس کے جیسے بھی نتائج برآمد ہوئے ان کا انہوں نے سامنا کیا۔

محمد عاصم بٹ اردو کے ناول نگار، افسانہ نگار، مدیر، نقاد اور مترجم ہیں

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

فتح کی نئی داستان ،ٹرافی پاکستان کے نام

ٹرائی نیشن سیریز 2026:پاکستان 18سال بعد ون ڈے فریقی سیریز کا ٹائٹل جیتنے میں کامیاب: فخرزمان اور سعد بیگ نے تیسری وکٹ پر 149 رنزکی شاندار شراکت قائم کی،عرفات منہاس نے31 گیندوں پر61 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی

پاکستان میں بیس بال کابڑھتا ہوا رجحان

27واں خاور شاہ مینز بیس بال چیمپئن شاہ کا میلہ 2تا 8نومبر قاسم باغ سٹیڈیم میں سجے گا:پاکستان ویمنز بیس بال ٹیم 20سے 23نومبر تک ملائشیا کے شہر کوالالمپور میں ملائشیا 2026ویمنز بیس بال چیمپئن شپ‘‘ میں شرکت کرے گی

خوشیاں بانٹنا !

آج چھٹی کا دن ہونے کے باوجود فرحان بہت اداس بیٹھا تھا۔ اس کی اداسی کو دیکھ کر اس کی اماں نے پوچھا: کیا بات ہے ؟ کیوں اداس ہو؟ کل ٹیسٹ ٹھیک ہوا تھا ؟۔تو اس نے جواب دیا:جی سب ٹھیک ہے۔

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

کارمیلا چلری واٹسن:کم عمری میں خدمتِ خلق کا عظیم کارنامہ دینے والی کم عمر بچی

جادوئی خوشبو

نیلے شفاف پانیوں کی گہرائی میں جادوئی دنیا آباد تھی۔ اسی سمندری سلطنت میں چنبیلی نامی خوبصورت جل پری رہتی تھی۔ چنبیلی کا دل سمندر کی وسعت سے زیادہ اپنے پیارے پھولوں سے جڑا تھا۔

خلائی سوٹ کیوں ضروری ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ خلا باز جب زمین سے دور خلا میں جاتے ہیں تو وہ خاص قسم کا لباس کیوں پہنتے ہیں؟ خلائی سوٹ خلا بازوں کو خلا کے خطرناک ماحول سے محفوظ رکھتا ہے۔