اسلام میں صبر کرنے والے کا مقام

تحریر : مولانا قاری محمد سلمان عثمانی


مصائب و آلام، مصیبتوں و پریشانیوں پر شکوہ کو ترک کر دینا صبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر کرنا مشکل کام ہے کیونکہ اس میں مشقت اور حوصلہ کی ضرورت ہو تی ہے لیکن اس کا انعام بہت زیا دہ ہے۔ صبر ایک عظیم نعمت ہے جو مقدر والوں کو نصیب ہوتی ہے۔ صبر کا دین اسلام میں بڑا مقام ہے اور اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کی منازل میں سے ایک منزل صبر کی بھی ہے۔

صبر کی اہمیت و افادیت اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے ہاں اس کا بے حساب اجر رکھا ہے۔آج ہم دین سے دوری کی وجہ سے اسلامی تعلیمات کو جانتے ہی نہیں اور ان تعلیمات کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہونے کی وجہ سے اپنا سب کچھ اس دنیا میں پورا کرنا چاہتا ہے۔ اگر ہم خالق کائنات کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق صبر سے کام لیں تو ہمارے زیادہ تر مسائل خود بخود ہی حل ہو جائیں گے۔ 

انسان معاشرے یا خاندان میں جس بھی حیثیت یا عہدے پر ہے، ضروری نہیں کہ وہاں سب کچھ ویسا ہی ہو رہا ہو جیسا وہ چاہتا ہے۔ جب کوئی کام انسان کی مرضی و منشا کے خلاف سرزد ہو تو یقینا انسان غصے میں آتا ہے۔ بعض اوقات غصے میں آ کر اس سے کچھ ایسی حرکات سرزد ہو جاتی ہیں جو اس کی شخصیت کو داغ دار بنا دیتی ہیں۔گویا گھرکے ایک عام فرد سے لے کر معاشرے کے ایک اہم رکن تک ہر شخص کو خلاف معمول امور کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر کامیاب اُس شخص کو گردانا جاتا ہے جس کی پریشانیوں سے دوسرے آگاہ نہیں ہوتے اور وہ مشکلات کو بھی ہنس کر برداشت کرنا جانتا ہے۔ایسا صرف وہی کر سکتا ہے جو صبر کی دولت سے مالا مال ہو۔اسی لئے خالق کائنات نے ارشاد فرمایا: ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا) ہے (البقرہ: 153)۔ 

آزمائش پر صبر اللہ تعالیٰ کی بشارت کا ذریعہ ہے،دنیا میں رہتے ہوئے انسان کو مختلف طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر ان مشکلات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے برداشت کر لیا جائے تو ایسے صبر والوں کو اجر کی خوشخبری اللہ خود دیتا ہے۔اللہ جل شانہُ فرماتے ہیں: ’’اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیبﷺ!) آپ ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں، جن پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم بھی اللہ ہی کا (مال) ہیں اور ہم بھی اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں‘‘ (البقرہ 155-156) ۔

 رب کی رضا کیلئے صبر کرنے والوں کو آخرت میں حسین گھر کی خوشخبری دی گئی ہے: ’’اور ہم نے اسے دنیا میں بھی بھلائی عطا فرمائی اور بے شک وہ آخرت میں بھی صالحین میں سے ہوں گے(رعد: 122)۔ صبر کرنے والوں کی حضور ﷺ سے حوض کوثر پر ملاقات ہو گی۔ غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے حضور ﷺ نے انصار سے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’عنقریب تم دیکھو گے کہ بہت سے معاملات میں لوگوں کو تم پر ترجیح دی جائے گی، تم اس پر صبر کرنا حتیٰ کہ تم اللہ اور اس کے رسولﷺ سے جا ملو کیونکہ میں حوض پر ہوں گا‘‘، انصار نے کہا ہم عنقریب صبر کریں گے۔حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’قیامت والے دن جب اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو اکٹھا کرے گا تو پکارنے والا پکارے گا! صبر کرنے والے کہاں ہیں؟ فرمایا: کچھ لوگ اُٹھیں گے جو تعداد میں کم ہوں گے اور وہ جلدی جلدی جنت کی طرف جائیں گے، راستے میں انہیں فرشتے ملیں گے جو اُن سے پوچھیں گے، ہم آپ لوگوں کو دیکھ رہے ہیں کہ آپ جنت کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں، آخر آپ ہیں کون؟ وہ لوگ جواب دیں گے کہ ہم اہل صبر ہیں، فرشتے پوچھیں گے کہ آپ نے کس بات پر صبر کیا؟ وہ جواب دیں گے ہم نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اور گناہوں سے بچنے پر صبر کیا ،اُس وقت اُن سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہو جائیں، بیشک صبر کرنے والوں کا یہی اجر ہے‘‘۔

حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنی زندگی کے بہترین اوقات حالت صبر میں پائے ہیں (امام احمد،کتاب الزہد)۔حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو قبر پر رو رہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور صبر کرو، عورت نے کہا کہ دور ہوجا، تجھے وہ مصیبت نہیں پہنچی جو مجھے پہنچی ہے۔ اس نے آپﷺ کو پہچانا نہیں، اس سے کہا گیا تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میں نے آپﷺ کو پہچانا نہ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ صبر ابتداء صدمہ کے وقت ہوتا ہے‘‘ (صحیح بخاری: 1206)۔

حضرت ابوسعید خدری ؓروایت کرتے ہیں کہ انصار کی ایک جماعت نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ مانگا۔ آپﷺ نے ان کو دے دیا یہاں تک کہ جو کچھ تھا آپﷺ کے پاس ختم ہوگیا، آپﷺ نے فرمایا میرے پاس جو کچھ بھی مال ہوگا، میں تم سے بچا نہیں رکھوں گا، اور جو شخص سوال سے بچنا چاہے تو اللہ اسے بچا لیتا ہے، جو شخص بے پروائی چاہے تو اسے اللہ تعالیٰ بے پرواہ بنا دے گا، اور جو شخص صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر عطا کرے گا اور کسی شخص کو صبر سے بہتر اور کشادہ تر نعمت نہیں ملی‘‘ (صحیح بخاری: 1382)۔

حضر ت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میں اپنے بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں یعنی دو آنکھوں کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کرتا ہوں اور وہ صبر کرتا ہے تو میں اس کے عوض اس کو جنت عطا کرتا ہوں‘‘ (صحیح بخاری: 613)۔

صبر کی شرائط میں سے ہے کہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم کیسے صبر کریں گے، کس کیلئے صبر کریں گے اور صبر سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ صبر کیلئے ہمیں نیت کو درست کرنا اور اس میں اخلاص لانا ہوگا ورنہ ہمارے اور جانور کے صبر میں کوئی فرق نہیں ہو گا کیونکہ اْس پر جب مصیبت آ جاتی ہے تو وہ بھی برداشت کرتا ہے مگر اسے اس بات کا پتہ نہیں ہوتا کہ اْ س پر مصیبت کیوں نازل ہوئی اور اْس سے کیسے نمٹنا ہے اور اس کا کیا فائدہ ہو گا،اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ مولائے کریم ہمیں صحیح معنوں میں صبر کی توفیق عطا فرمائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 07)

ساتویں پارے کا آغاز سورۃ المائدہ کی جس آیت سے ہوتا ہے اس میں نجاشی کے دربار میں موجود علماء اور راہبوں کی قرآن پاک سننے کے بعد ہونے والی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے کہ

خلاصہ قرآن(پارہ 07)

قرآنِ مجید فرقانِ حمید کے ساتویں پارے کے شروع میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے نرم دل اور ایمان شناس عیسائیوں کی جماعت کا ذکر کیا ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کے کلام کی تلاوت کی جاتی ہے تو حقیقت کو پہچاننے کی وجہ سے ایسے لوگوں کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑیاں لگ جاتی ہیں اور وہ لوگ حق کو پہچاننے کے بعد اس کو قبول کر لیتے ہیں‘ وہ کہتے ہیں:

خلاصہ قرآن(پارہ 06)

اللہ اور رسولوں پر ایمان :سورۃ النساء کی آیت 150 میں بتایا کہ جو لوگ ایمان لانے میں اللہ اور اُس کے رسولوں کے درمیان فرق کریں یا بعض رسولوں پر ایمان لائیں اور بعض کا انکار کریں یا ایمان اور کفر کے مابین کوئی درمیانی راستہ تلاش کریں‘ یہ سب لوگ پکے کافر ہیں۔ مومن صرف وہی ہیں جو اللہ پر ایمان لائیں اور بلا تفریق اُس کے سارے رسولوں پر بھی ایمان لائیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 06)

قرآن پاک کے چھٹے پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ سورۃ النساء میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ غلط بات کو پسند نہیں کرتا‘ مگر یہ کہ اگر کوئی مظلوم شخص اپنے اوپر کیے جانے والے ظلم کیخلاف آواز اٹھائے تو اسے ایسا کرنے کی اجازت ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 05): محرماتِ قطعیہ

پانچویں پارے کے شروع میں محرماتِ قطعیہ کے تسلسل میں بتایا گیا ہے کہ جب تک کوئی عورت کسی دوسرے شخص کے نکاح میں ہے‘ اس سے نکاح حرام ہے،

خلاصہ قرآن(پارہ 05):نکاح

چوتھے پارے کے آخر میں ان رشتوں کا ذکر کیا گیا ہے‘ جن سے نکاح کرنا حرام ہے۔