دکھی انسانیت کا لکھاری چارلس ڈکنزایلن
چارلس ڈکنز نے ساری زندگی ایک جن کی طرح تحقیقی کام کیا۔ اس نے طویل ناول لکھے۔ رسالے نکالے، کچھ رسالوں کی ادارت کی، کچھ عرصہ ایک روزنامے کو بحیثیت مدیر چلایا کچھ سہ ماہی رسالوں میں قسط وار مضامین لکھے۔
محفلوں میں تقاریر کیں۔ ادبی تقریبوں میں مقالے پڑھے۔ جلسوں میں اپنے ناولوں کے مناظر کی ڈرامائی تشکیل کی ان اجلاس کو ’’ریڈنگ شوز‘‘ (Reading Shows)کا نام دیا گیا تھا۔ یہ شوز کرنے اس نے دوبار امریکہ کا دورہ کیا جہاں اس کا ایک سربراہ مملکت کی طرح استقبال کیا گیا۔ 20میل روزانہ گھڑ سواری کی، محفلوں میں ڈانس کیا، بچوں کو خوش کرنے کیلئے کرتب سیکھے اور پھر محفلوں میں یہ کرتب دکھائے۔ تھیڑ میں اداکاری کی، اس نے اپنے ایک اداکار دوست ولکی کولنز سے باقاعدہ اداکاری سیکھی۔ لمبے لمبے سین زبانی یاد کئے۔ ولکی کولنز کے ساتھ مل کر اس نے ایک ڈرامہ’’The Frozen Deep‘‘تیار کیا جسے ملکہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس ڈرامے میں چارلس ڈکنز کی بیٹی نے بھی کام کیا تھا۔ جب اس ڈرامے کو دوبارہ دہرائے جانے کی نوبت آئی تو ایک نئی لڑکی کو ڈکنز کی بیٹی کی جگہ کاسٹ کیا گیا۔ اس کا نام ایلن ٹرنن تھا۔ 16سال کی اس خوبصورت لڑکی کو جب چارلس ڈکنز نے دیکھا تو اس پر وہی قیامت ٹوٹی جو گوئٹے پر آخری عمر میں ٹوٹی تھی۔ چارلس ڈکنز ایلن پر عاشق ہو گیا۔ ڈرامے کی ریہرسل چارلس ڈکنز کے گھر ہوتی تھی۔ چارلس ڈکنز ایلن کیلئے ایک خوبصورت بریسلٹ لے کر آیا۔ جب ایلن کو دینے لگا تو اس کی بیوی کیٹ نے دیکھ لیا اور ایک طوفان کھڑا کر دیا اور پھر دونوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا گیا۔ میاں بیوی کے درمیان جو دوری پیدا ہوئی وہ چارلس ڈکنز کی موت تک کم نہ ہوئی۔
چارلس ڈکنز کے تخلیقی کام کی فہرست بہت طویل ہے۔ میں یہاں اس کے عالمی شہرت یافتہ ناول’’ ڈیوڈ کوپر فیلڈ‘‘ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ چارلس ڈکنز نے بھی اسے اپنا بہترین ناول قرار دیا ہے۔ اپنی تخلیق کے بارے میں مصنف کا فیصلہ اکثر درست نہیں ہوتا لیکن واقعی چارلس ڈکنز کا یہ بہترین ناول ہے۔ ’’ڈیوڈ کو پرفیلڈ‘‘ ایک آٹو بائی گرافیکل ناول ہے جس کا مواد ڈکنز نے اپنی زندگی سے لیا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے اس نے ناول کو بائیو گرافی نہیں بننے دیا۔ ڈکنز نے وہ تمام لوگ جو اس کی زندگی میں اسے ملے یا جن سے ان کا واسطہ رہا اس ناول میں کردار بن کر آ گئے ہیں۔ کچھ کردار ڈکنز نے تشکیل دیئے جو اگرچہ حقیقی نہ تھے لیکن زندہ کردار بن گئے۔
یہ ناول چارلس ڈکنز کے بچپن کی ناکامیوں اور محرومیوں کا آئینہ دار ہے۔ بچپن کی جتنی سچی، حقیقی عکاسی اس ناول میں کی گئی ادب میں شاید اور کہیں نہیں کی گئی۔ اس کی ساری کہانی چارلس ڈکنز کی زندگی کے گرد گھومتی ہے۔ بچپن میں اس نے فیکٹری میں کام کیا۔ چارلس ڈکنز نے وکیل کے ہاں نوکری کی شارٹ ہینڈ سیکھ کر اخبار میں نوکری کی، کہانیاں لکھیں اور مشہور مصنف بن گیا۔ ڈیوڈ کوپرفیلڈ نے بھی یہی کام کئے۔ ڈورا کا کردار چارلس ڈکنز کی بیوی کیٹ کا کردار ہے۔ ڈورا مر جاتی ہے۔ کیٹ کوڈکنز نے زندہ رکھا۔ ایگنز کا کردار کیٹ کی بہن میری کا کردار ہے۔ جو چارلس ڈکنز کی بانہوں میں مرتی ہے۔ اس ناول میں چارلس ڈکنز نے اسے زندہ رکھا اور اس خواہش کو پورا کیا جو وہ حقیقی زندگی میں پورا نہ کر سکا۔ مسٹر مکائو برکا کردار سارے کا سارا ڈکنز کے باپ کا کردار ہے۔ یہ سب کردار ڈکنز کے قلم نے زندہ جاوید کردار بنا دیئے ہیں۔ روسی ناول نگار دوستویفسکی جو چارلس ڈکنز سے بے حد متاثر تھا اس نے بھی اپنے ناولوں میں یہی طریقہ استعمال کیا ہے۔ اپنے باپ کے کردار کو اس نے ہر جگہ استعمال کیا۔ یورپ کی سیر میں ایک تند خو ماڈل سے ملاقات ہوئی، محبت کا اظہار کیا اس نے اس اظہار کو جھٹک دیا، لیکن دوستویفسکی نے اسے ’’براڈرز کرما ژوف‘‘ کی ہیروئن میں ڈھال دیا۔
چارلس ڈکنز نے اس ناول کی بے شمار خوبیاں ہیں، اس ناول میں اس نے اکہرے پلاٹ پر کہانی بنی ہے اور دلچسپی میں کہیں فرق نہیں آیا۔ فیکٹری، دفاتر اور سکولوں میں کام کرنے والوں کو درپیش مسائل اور مشکلات کو بیان کیا ہے۔ یتیموں، کشتی پر کام کرنے والے بچوں کے حقوق کی بات کی اور Child Labourکی مذمت کی ہے۔ اشرافیہ کے بناوٹی انداز کا مذاق اڑایا ہے۔ اس کے حقیقی اسلوب میں آکر یہ سب چیزیں قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ اس ناول کے کچھ حصوں کو سوشل اور سماجی ناانصافیوں پر ایک تنقید کہا جا سکتا ہے۔ وکٹورین عہد میں ظاہر ہونے والی غربت کو ڈکنز نے بے نقاب کیا ہے۔ لندن کے مضافات میں ہونے والے جرائم اور ناانصافیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ عدالت میں انصاف کے نام پر ہونے والی برائیوں کا پردہ فاش کیا ہے۔(یہ سب کچھ اس کے ناول بلیک ہائوس اور اولیورٹوسٹ میں بھی موجود ہے)۔ اس ناول میں (بلکہ اس کے سارے ناولوں میں) لندن اور سا کے گردو نواح کا سارا علاقہ سانس لیتا دکھائی دیتا ہے۔
رچرڈ ڈبلیو لونگ نے ایک طویل مضمون ’’انگلینڈ اور چارلس ڈکنز‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے ڈکنز کے ناولوں میں انگلینڈ اور لوگوں کے مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے’’ڈاکٹر خود فیکٹری میں کام کرتا رہا، کلرکی کی عدالت میں رپورٹر رہا، اخبار میں کام کیا، ہوٹلوں میں مزدوری کی، اسے چائلڈ لیبر اور بچوں کو در پیش مسائل اور زیادتیوں کا ذاتی تجربہ تھا چنانچہ اس نے اپنے ناولوں میں کھل کر اس کے خلاف آواز اٹھائی اور (Reform Laws)کے لئے راستہ ہموار کیا‘‘۔
اس کے اسی پہلو کو دیکھ کر اس کے بائیو گرافر جان فاسٹر کا کہنا تھا کہ چارلس ڈکنز لوگوں کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے اور اس کے دکھ اور سکھ سے پوری طرح واقف ہے۔ بنی نوع انسان کو درپیش مسائل سے آگاہ ہے اور اس کی کوشش ہے کہ ان مسائل کا ازالہ کیا جائے۔
چارلس ڈکنز نے بالزاک ، سروانٹیز، وکٹر ہیوگو اور شیکسپیئر سے فیض حاصل کیا۔ ان کی تحریروں سے متاثر ہوا اور دوستویفسکی، تھامس ہارڈی، ایڈ گرایلن پو، ٹالسٹائی اور جارج اور ویل پر اپنے اثرات مرتب کئے۔ ڈکنز نے چند دولت مند لوگوں کی مدد سے لاوارث عورتوں کیلئے گھر بنائے جہاں انہیں زندگی کی پوری سہولتیں دی جاتی تھیں۔ دکھی انسانیت کا لکھاری، لاوارث بچوں کی آواز، مچھیروں، چرچ کے فقیروں، گلی میں گھاس بیچنے والی اندھی بڑھیا کے دکھ کا رازداں، لندن کا آئینہ، بنی نوع انسان کی کیفیات کو سب سے زیادہ جاننے والا مصنف چارلس ڈکنز جو لندن کے نام سے جانا جاتا تھا۔ لندن کی گہری دھند ہی میں کہیں گم ہو گیا۔لیکن لندن کے لوگوں نے اسے گم نہیں ہونے دیا۔ ڈکنز کی رہائش گاہ کو میوزیم بنا دیاگیا۔ ڈکنز سنٹر قائم کئے۔ ہر سال ڈکنز کے نام پر فیسٹیول ہوتا ہے۔ کرسمس کے موقع پر اس کے نام سے کیک کاٹا جاتا ہے ۔ 76.500مربع گز پر ’’ڈکنز دنیا‘‘ ہے جہاں ایک سینما، ہوٹل اور لائبریری بنائی گئی ہے۔ ڈکنز کے نام پر نوٹ چھپے ہیں جن پر اس کی تصویر اور ’’ پکوک پیپرز‘‘ کے کرداروں کے عکس بنائے گئے ہیں۔
ٹیلی ویژن پر اس کی تقریباً سب ناولوں کے سیریل بن چکے ہیں اور فلمیں بنی ہیں۔ چارلس ڈکنز کی پبلسٹی اور شہرت سے بہت پیار تھا۔ وہ اسے مرنے کے بعد بھی مسلسل مل رہی ہے۔
پروفیسر احمد عقیل روبی شاعر، نقاد، مترجم، ڈرامہ نویس، فلمی کہانی نویس، ناول نگار، سوانح نگار اور معلم تھے، زیر نظر مضمون ان کی کتاب ’’علم و دانش کے معمار‘‘ سے ماخوذ ہے
چارلس ڈکنز کی مشہور کتابیں
1- Sketches By Boz
2- Olive Twist
3- A Chrismas Coral
4- A Tale of Two Cities
5- David Copperfield
6- Great Expectation
7- Bleak Hous
8- Hard Times
9- Our Mutial Friend