سسرال کو اپنا ہمنوابنانا مشکل نہیں

تحریر : سارہ خان


جب بھی کوئی لڑکی بابل کا انگنا چھوڑ کر پیا دیس سدھارتی ہے تو جہاں زندگی کے اس نئے موڑ پر بہت سی خوشیاں اس کی منتظر ہوتی ہیں وہیں کچھ مسائل اور الجھنیں بھی حصہ میں آتی ہیں۔ نئے گھر اور نئے ماحول میں خود کو ایڈجست کرنا آسان کام نہیں، کیونکہ لڑکی کی شادی تو محض ایک فرد سے ہوتی ہے لیکن مشرقی روایات کے مطابق گزارہ اسے پورے کنبے کے ساتھ کرنا ہوتا ہے۔

یوں تو بظاہر سب سسرال والے اس کے ساتھ اچھے ہوتے ہیں لیکن موقع ملتے ہی چٹکی لینے سے باز نہیں آتے۔ ہر بات کا خیال رکھنے اور سنبھل سنبھل کر چلنے کے باوجود ساس، نند یا کوئی اور سسرالی رشتہ دار، بہو پر تنقید کا موقع نکال ہی لیتے ہیں۔ ہر نئی بہو یہ چاہتی ہے کہ کسی نہ کسی طور سسرال والوں کی خوشنودی حاصل کر کے انہیں اپنا ہمنوابنالے یہ کام گو مشکل تو ضرور ہے لیکن ناممکن بہر حال نہیں، آیئے،کچھ ایسی تدبیروں کا جائزہ لیتے ہیں جو ماہرین کی آرا کی روشنی میں آپ کیلے ترتیب دی گئی ہیں۔

کبھی کبھی سسرال والوں کا رویہ آپ سے محض اس لئے بھی تلخ اور اکھڑ اکھڑا سا ہوتا ہے کہ وہ آپ سے حسد محسوس کرتے ہیں۔ ساس،نند، دیورانی یا جٹھانی اس معاملے میں ہمیشہ پیش پیش دکھائی دیتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ساس اور نند کو بالترتیب اپنے بیٹے اور بھائی میں ایک نئے آنے والی کی شراکت برداشت نہیں ہوتی جبکہ دیورانی، جٹھانی کا مسئلہ نئی آنے والی دلہن سے اپنا مقابلہ اور موازنہ ہوتا ہے کہ مجھے تو بَری میں اتنے جوڑے آئے تھے اور اس کیلئے اتنے، یا میرا زیور اتنا ہلکا تھا اور…وغیرہ وغیرہ۔اکثر اوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ گھرانوں میں آنے والی نئے دلہن کے ساتھ ساس، نندے کے بجائے دیگر سسرالی عزیزوں کا رویہ اچھا نہیں ہوتا۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی خاص سبب کے باعث دلہن سے ناراض لگتے ہیں۔ مثلاً ان میں سے کوئی اپنی بہن یا بیٹی کو اس گھرانے میں بیاہنے کا خواہش مند تھا لیکن جب اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہو پاتی تو آنے والے دلہن کا مخالف بن جاتا ہے یا بن جاتی ہے۔ ایسے افراد جن میں اکثریت خواتین ہی کی ہے، دلہن کے سسرال والوں کو کسی نہ کسی بہانے بھڑ کانے سے باز نہیں آتے۔ ایسے لوگ اپنی کینہ پروری اور سازشی طبعیت کے باعث جلد پہچانے جاتے ہیں۔ لیکن اگر وہ آپ کیلئے مستقل مسئلہ بن جائیں تو آپ اپنے شوہر اور دوسرے گھر والوں سے اس سلسلے میں بات کر سکتی ہیں اور پیش آنے والے مختلف واقعات کی نشاندہی کرکے سب گھر والوں کو اپنے حق میں ہموار کرسکتی ہیں۔

لوگوں کا دل جیتنا عام طور پر اتنا مشکل نہیں ہوتا جتنا کہ سمجھتے ہیں۔ سسرال والے بھی آخری اسی دنیا کے باسی ہوتے ہیں، ان کے بھی محسوسات ہوتے ہیں اور وہ بھی اچھے برے کا شعور رکھتے ہیں لہٰذا اگر آپ ان سے ضد نہ باندھیں اور اپنے حسن سلوک پر قائم رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک دن وہ آپ کے گرویدہ نہ بن جائیں۔ اس لئے زیادہ قربانی بہو کو ہی دینی پڑتی ہے کیونکہ نئی زندگی کی شروعات آسان نہیں، لیکن اگر آپ ابتدا میں سمجھ داری اور صبر  و تحمل سے کام لیں تو رفتہ رفتہ سب کچھ ٹیک ہو جاتا ہے اور یہی سسرال والے آپ کے گن گاتے نظر آتے ہیں۔

سب گھر والوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آئیں۔ مختلف مواقع پر ان کیلئے تحفے و تحائف خرید کر انہیں دیتی رہیں۔ چھوٹے چھوٹے کاموں کو بوجھ تصور نہ کریں بلکہ خود سے آگے بڑھ کر ان کاموں کو انجام دیں۔سب سے بڑھ کر یہ کہ شکوک و شبہات کو اپنے دل میں ہرگز جگہ نہ دیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید کے بعد حکومت کے تین امتحان

وطنِ عزیز کے سیاسی منظر نامے پرآئندہ چند ماہ میں تین عوامل اثر انداز ہو تے دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک معاشی، ایک عدالتی جبکہ ایک عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلی ہے۔ سب سے پہلے معاشی معاملے کی بات کرلیتے ہیں۔آئندہ چند روز میں وفاقی بجٹ منظور کر لیا جائے گا اور یکم جولائی سے نئے بجٹ کا باقاعدہ اطلاق ہو گا۔

مفاہمت کی سیاست کا ایجنڈا

پاکستان کی قومی سیاست کو موجودہ حالات میں جو چیلنجز درپیش ہیں ان کی نوعیت سنگین ہے اور اس بحران سے نکلنے کا راستہ کسی ایک کے پاس نہیں ۔جب تک تمام سیاسی قوتیں، جن میں حکومت اور اپوزیشن جماعتیں شامل ہیں، باہمی اختلافات کو ختم نہیں کرتیںاور حالات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار نہیں کی جاتی مسائل کا حل ممکن نظر نہیں آتا۔

اونٹنی پر سیاست،وڈیرے کی طاقت

سندھ کی سیاست اس وقت صرف ایک چیز کے گرد گھوم رہی ہے اور وہ ہے اونٹنی کی ٹانگ کاٹے جانے کا واقعہ۔ یہ واقعہ گزشتہ ہفتے سانگھڑ کے علاقے منگلی میں پیش آیا جہاں ایک وڈیرے نے اپنے کھیت میں گھسنے والی اونٹنی کو غیظ و غضب کا نشانہ بناڈالا۔ وڈیرے کو غصہ تھا کہ اونٹنی کی یہ ہمت کہ وڈیرے کے مال پر منہ مارے اور وہ بھی سرعام۔ وڈیرے نے اونٹنی کو مثالِ عبرت بنا ڈالا کہ آئندہ کوئی اس کی یا اس کے مال کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہ کرے۔

لوڈ شیڈنگ کا سیاسی ہتھکنڈا

بجلی صرف عام صارفین کو ہی نہیں تڑپارہی بلکہ یہ پاکستان کا ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔ ہرسال موسم گرما میں جوں جوں شدت آتی ہے بجلی کی لوڈشیڈنگ بڑھتی چلی جاتی ہے، ساتھ ہی صوبائی حکومتوں کا پارہ بھی چڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ خیبرپختونخوا اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے لیکن پھر بھی اسے پوری بجلی نہیں ملتی۔ یہی وہ موقف ہے۔

بلوچستان کا بجٹ،صحت اور تعلیم ترجیح

بلو چستان کاآئندہ مالی سال کا بجٹ 22جون کو پیش کیا جائے گا ۔اس حوالے سے بلوچستان حکومت نے اپنی تیار یاں مکمل کر لی ہیں۔ گزشتہ دنوں صوبائی وزرامیر ظہوراحمد بلیدی اورمیر شعیب نوشیروانی نے اس حوالے سے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ بلوچستان حکومت 22جون کو 850ارب روپے سے زائد کا سرپلس اور عوام دوست بجٹ پیش کرنے جارہی ہے۔

کیا اتحادی جماعتوں میں پھوٹ پڑچکی؟

آزاد جموں و کشمیر میں اتحادی جماعتوں کے ارکان وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کررہے ہیں، لیکن انفرادی طور پر یہ اراکین حکومت سے نہ صرف ترقیاتی فنڈز وصول کررہے ہیں بلکہ اپنے انتخابی حلقوں میں من پسند تعیناتیاں اور تبادلے بھی کروارہے ہیں۔ اس سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ اتحادی جماعتوں میں پھوٹ پڑ چکی ہے۔