سبز جیو لری جوہر من بھائے!

تحریر : سائرہ جبین


کچھ خواتین کو ہرا رنگ بہت پسند ہوتا ہے، ایسی خواتین اکثر ہرے رنگ کے ملبوسات کے ساتھ ساتھ ہرے رنگ کی جیولری خریدنے کی طرف بھی زیادہ توجہ دیتی ہیں۔

 ان کے جیولری باکس میں ہرے رنگ کی جیولری بڑی تعداد میں دکھائی دیتی ہے۔ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ ایسی خواتین جنہیں ہرا رنگ زیادہ پسند ہوتا ہے وہ اپنے پیسوں اور حفاظت کے حوالے سے بہت حساس ہوتی ہیں، ساتھ ہی وہ ان دونوں معاملات کو زندگی میں سب سے زیاہ اہمیت دیتی ہیں۔ سبز یعنی ہرارنگ پسند کرنے والی خواتین کو دراصل فطرت سے بہت پیار ہوتا ہے۔ ماہر نفسیات کے مطابق وہ خواتین جنہیں سبز رنگ اچھا لگتا ہے، وہ خود کو اپنے معاشرتی حلقوں میں کامیاب، دولت مند اور ایک اہم شخص کی حیثیت سے دیکھنا چاہتی ہیں۔ 

مارکیٹ میں ہرے پتھر اونیکس کے زیورات بھی آسانی سے مل جاتے ہیں، اس کے علاوہ نقلی پتھروں کی مدد سے بھی زیورات تیار کئے جا رہے ہیں، جنہیں لڑکیاں بہ آسانی خرید سکتی ہیں اور یہ جیب پر اتنے بھاری بھی نہیں پڑتے۔اب اگر لڑکیوں کے ذہن میں یہ بات آئے کہ وہ صرف ہرے رنگ کے سوٹ کے ساتھ ہی شاید وہ ہرے رنگ کی جیولری پہن سکتی ہیں، لیکن ان کی یہ سوچ غلط ہے۔ اگر آپ نے کسی بھی رنگ کی ساڑھی زیب تن کی ہے تو اس پر ہرے رنگ کا کوئی بھی چوکر نیکلس پہن سکتی ہیں۔ یہ چوکر آپ کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دے گا۔

اگر کرتا سوٹ پہنا ہے یا سادہ سا سلک کی شلوار قمیض کسی تقریب میں پہننا ہے تو اس کے ساتھ مالا والا ہرے رنگ کا نیکلس پہن لیں، یقین مانیں آپ کی سادہ سی کرتی ہیں ایک جان سی آ جائے گی۔ اگر مغربی طرز کا گائون یا نیٹ تک فراک پہننی ہے تو پھر اس کے ساتھ ڈائمنڈ اسٹائل کی ہرے نگینوں والی جیولری زیادہ اچھی لگے گی، اگر غرارہ یا شرارہ پہننا ہے تو اس کے ساتھ بھی بڑے بڑے ہرے نگینوں کا چوکر نہایت خوبصورت لگے گا۔

اگر دن کی کوئی تقریب ہے تو صرف کانوں میں ہرے نگینوں والے بُندے پہن لیں اور ساتھ ہی سبز رنگ کی انگوٹھی پہن لیں۔ سفید کرتا شلوار کے ساتھ اگر ہرے اور سفید موتیوں کی مالا پہن لی جائے تو خواتین نفیس اور باوقار دکھائی دیں گی۔ اگر کسی لڑکی نے شادی کا سوٹ ہی ہرے رنگ کا منتخب کیا ہے تو اس کے ساتھ وہ اٹالین کٹ  اسٹائل میں نیکلس، ٹیکا، جھومر اور بالیاں خریدیں، ایسی لڑکیاں جن کے شرارے یا میکسی ہرے رنگ کے کسی بھی شیڈ پر مشتمل ہے، ان کے ساتھ ڈائمنڈ اور زمرد اسٹائل کی جیولری ہی اچھی لگے گی۔

بدلتے وقت نے دکانداروں کو بھی جیولری بیچنے کے نت نئے طریقے سکھا دیئے ہیں۔ آج کل اگر آپ کو حسب پسند ہرے رنگ کی جیولری نہ ملے تو دکاندار آپ سے کہیں گے کہ ’’میڈم! آپ کوئی بھی جیولری سیٹ پسند کر لیں، ہم اس سیٹ کے نگینوں کو ہرا رنگ کر دیں گے‘‘۔ دکانداروں نے اپنے پاس گلاس، پین، برش اور تھنر وغیرہ رکھا ہوا ہے، جب خواتین کوئی بھی سفید نگینوں والا سیٹ منتخب کر لیتی ہیں تو دکاندار ان سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سے نگینے ہرے رنگ کے کرنے ہیں، خواتین کے جواب کو مدنظر رکھتے ہوئے دکاندار ان نگینوں کو پینٹ برش کی مدد سے ہرا پینٹ کر دیتے ہیں۔10منٹ سکھانے کے بعد خواتین اپنی پسند کی ہرے رنگ کی جیولری خرید کر گھر لے جا سکتی ہیں۔

وہ خواتین جو لباس کی میچنگ کا خیال رکھتے ہوئے روایتی انداز کی جیولری خریدنے کی خواہشمند ہوتی ہیں، ایسی خواتین مینے والی جیولری کا انتخاب کریں تو زیادہ اچھا رہے گا۔ مینا کاری والی جیولری کو ہاتھ سے بھی پینٹ کیا جاتا ہے، یہ با آسانی ہرے رنگ کے مختلف شیڈز میں مل جائے گی، وہ لڑکیاں جنہیں چاند بالیاں پہننے کا شوق ہے، تو ان کیلئے خوشی کی خبر یہ ہے کہ مینا کاری والی چاند بالیاں بھی آسانی سے مل رہی ہیں۔ لڑکیوں کو چاہئے کہ وہ ہرے رنگ کی مینا کاری کی ایسی بالیاں خریدیں، جن میں نیلا اورمیرون رنگ کی مینا کاری کا ڈیزائن بھی موجود ہو، اس طرح یہ بالیاں کسی بھی لباس کے ساتھ میچنگ کرکے بھی پہنی جا سکیں گی۔کندن مینا کاری کے سیٹ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔

 دلہنوں کے لئے الگ سے سیٹ تیار کئے جاتے ہیں، ان کا نیکلس یا چوکر بہت بھاری ہوتا ہے، اس کے ساتھ ہی میچنگ کی سات لڑیوں، پانچ لڑیوں، یا تین لڑیوں والی مالائیں تیار کی جاتی ہیں۔ یہ مالائیں شراروں، غراروں کے علاوہ ساڑھی کے ساتھ بھی پہنی جا سکتی ہیں۔ سیٹ کے ساتھ کے جھمکے عام دنوں کی کسی قریب میں پہن لیں، غرض یہ ہے کہ ایک مرتبہ کندن مینا کاری کے ہری جیولری خرید لی جائے تو اسے مختلف مواقع پر تقریب کے حساب سے پہنا جا سکتا ہے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

صاف ستھرا گھر، پرسکون زندگی

آرگنائزیشن کے سنہری اصول

سونا مہنگا ہو گیا سستے اور دلکش متبادل

عالمی معاشی اتار چڑھاؤ، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

آج کا پکوان:لزانیا

اجزا: دودھ: 1 لٹر، میکرونی: ایک پیکٹ، میدہ: دو کھانے کے چمچ، نمک: حسب ذائقہ، پسی کالی مرچ: ڈھائی چائے کا چمچ، انڈے: 4 یا 5 عدد

جگر مراد آبادی اثر انگیز شاعر

ان کا طرز شعر خوانی اپنے دور میں بہت مقبول رہا یہاں تک کہ لوگوں نے نقل کرنا شروع کر دی :میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچےجگر شعر ترنم سے پڑھتے تھے اورموسیقی سے خوب واقفیت رکھتے تھے۔ آواز بڑی لوچدار اور دلفریب تھی اسی لئے جس محفل میں وہ اپنا کلام سناتے، اسے نغمہ زار بنا دیتے تھے: جگر نے شاعری کی ابتدا فارسی سے کی‘ کچھ غزلیں فارسی میں کہیں لیکن جیسے جیسے ان کا رنگ نکھرتا گیا وہ اردو کی طرف آتے گئے اور پھر تمام تر صلاحیتیں اردو غزل کی آبیاری پر صرف کر دی

رشید حسن خاں :تحقیق اورجدید اصول تدوین

بیسویں صدی کے نصف اول میں حافظ محمود شیرانی، قاضی عبد الود ود، مولانا امتیاز علی خاں عرشی اور سید مسعود حسن رضوی کے تدوین کرد ہ بعض متن اور تدوین کی روایت کے محض ابتدائی نقوش ہی نہیں بلکہ مثالی نمونے ہیں۔

نیا فارمیٹ، کڑا امتحان:جوش وخروش پر سوالیہ نشان

پاکستان سپرلیگ(پی ایس ایل)گیارہ: لیگ کے حوالے سے حالیہ فیصلے کرکٹ شائقین کیلئے حیران کن ہونے کیساتھ بحث طلب بھی ہیں: میچزلاہور اور کراچی تک محدود کرنا راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد اور پشاور کے شائقین کے لئے کسی دھچکے سے کم نہیں:جہاں 8 ٹیمیں لیگ کی عالمی ساکھ میں اضافہ کریں گی، وہیں تماشائیوں کی عدم موجودگی لیگ کے کمرشل ماڈل کو متاثر کر سکتی ہے