5فروری،یوم یکجہتی کشمیر

تحریر : ارشاداحمد ارشد


اظہار یکجہتی کشمیرکا دن 1990ء میں جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم کی اپیل پر منانے کاسلسلہ شروع ہوا تھا ۔ اس مناسبت سے ہمیں یہ دن مناتے ہوئے 33برس ہوچکے ہیں۔

آج ہماری قوم34واں اظہار یکجہتی کشمیراس حال میں منارہی ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کاخاتمہ ہوئے ساڑھے پانچ برس ہوچلے ہیں، حریت کانفرنس کی ساری قیادت جیلوں میں ہے ، قابض فوج کی تعداد 12لاکھ ہو چکی ہے ، مقبوضہ جموں کشمیرکی سرکاری عمارتوں پر کشمیرکے پرچم کی بجائے بھارتی ترنگا لہرا رہا ہے ، اردو کی بجائے ہندی سرکاری زبان قرار دے دی گئی ہے، کم وبیش تیس لاکھ بھارتی شہریوں کو مقبوضہ جموں کشمیر کی شہریت مل چکی ہے ۔

ان حالات میں آج جبکہ ہم ایک بار پھر اظہار یکجہتی کشمیر منارہے ہیں ہمیں جائزہ لینا ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہمارے کشمیری بھائی کس کرب واذیت سے گزررہے ہیں؟ ہماری کشمیر پالیسی کیا ہے؟ اور 33برس سے اظہار یکجہتی کشمیر منانے کے کیا اثرات ونتائج اور فوائد ہیں؟  

بات یہ ہے کہ اظہار یکجہتی کرنا بذات خود ایک اچھا عمل ہے ۔لیکن اظہار یکجہتی کے مختلف مدارج اور طریقے ہوتے ہیں۔جب دشمن آپ کے سینے پر بیٹھا گردن کو دبوچ رہاہو اور شہ رگ کو کاٹ رہا ہوتو پھر زبانی کلامی اظہار یکجہتی کی بجائے عملی اقدام اٹھانے اور دشمن کے ہاتھوں کو توڑنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ایسی حالت میں دشمن کے ہاتھ نہ توڑے جائیں تو دشمن آپ کے جسم اور روح کے رشتے کوتوڑ دے گااور یقینی موت کوآپ کا مقدر کردے گا ۔ کشمیر بھی ہمارے لئے شہ رگ ہے ، ہماری زندگی ہے اور ہمارے تحفظ وبقا کی ضمانت وعلامت ہے ۔المیہ یہ ہے کہ کشمیر ہمارے لئے جتنا اہم ہے ہمارے حکمران اور سیاستدان اس سے اتنا ہی صرف ِ نظر کئے بیٹھے ہیں ۔    

کاش! ہمارے سیاستدان اورحکمران یہ حقیقت جان لیں کہ غلامی کے اندھیرے سال میں ایک دن منانے سے نہیں چھٹتے اورنہ ہی اس طرح سے آزادی کے سورج طلوع ہوتے ہیں جیسا کہ پانچ  فروری  کادن کئی سالوں سے ہم اظہارِ یکجہتی کشمیرکے طورپرمناتے چلے آرہے ہیں۔’’اظہار‘‘ محض جذبات کا نام ہے اور جذبات بذات خود کچھ بھی نہیں ہوتے کہ جب تک  ان کے ساتھ عمل نہ ہو۔ اس لئے کہ جذبات عمل اور کردار کے متقاضی ہوتے ہیں۔جب تک جذبات کوعمل اور کردار کے سانچے میں نہ ڈھالاجائے بات نہیں بنتی ۔اگرمحض دن منانے سے مسائل حل ہونے ہوتے تواس وقت پاکستان ایک مثالی ، فلاحی ، اسلامی  ریاست بن چکاہوتا۔جس میں ہر طرف امن وامان ہوتا۔ پاکستان میں جس دن کے منانے کاآغازسب سے پہلے ہوا وہ14اگست ہے بلکہ اگریہ کہاجائے توبے جانہ ہوگاکہ سب سے زیادہ اہتمام اسی دن کے منانے کا کیا جاتا ہے۔ الغرض14اگست کے موقع پرکی جانے والی تقریبات کااہتمام اپنی جگہ لیکن یہ کہے بغیرچارہ نہیں کہ ان سب کاوشوں کے باوجودہم قیام پاکستان کے مقصدحاصل کرنے میں ہنوز ناکام ہیں ۔اس لئے کہ جذبات توموجود ہیں لیکن دل عمل اور سوز سے خالی ہیں۔ یہی جذباتی کیفیت پانچ فروری کے موقع پربھی دیکھنے میں آتی ہے۔

پانچ فروری کے دن کئے جانے والے تمام پروگرام اپنی جگہ بجالیکن حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ جموں کی آزادی کی منزل کا خواب ہنوزدوراست ہے۔خاص کر5اگست 2019ء کوجب بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیرمیں کرفیو نافذ کیا دفعہ 370 اور دفعہ35اے کاخاتمہ کیاہے اس کے بعدسے مظالم کاایک نیاسلسلہ شروع ہوچکاہے ۔کرفیوکے طویل ترین نفاذ ،دفعہ 370 اور دفعہ 35اے کے خاتمہ کے بعد کی صورت حال پاکستان کے عملی اقدام کی متقاضی تھی لیکن ہم سال میں ایک بارپانچ فروری کو اظہار یکجہتی کشمیر کا دن تو مناہی رہے تھے اب ہم نے 5اگست کا دن بھی منانا شروع کردیا ہے اور یہ ایام منا کر ہم سمجھ رہے ہیں کہ بس اہل کشمیرکے ساتھ محبت ومودت کاحق اداکردیاہے جبکہ مقبوضہ جموں کے مسلمانون کیلئے ہر دن پانچ فروری اور5اگست کا دن ہے۔کشمیری مسلمان ہر روز پاکستان کے ساتھ محبت وتعلق کی داستانیں خون جگرسے رقم کررہے ہیں۔اگرچہ بھارتی حکمران مظالم کے پہاڑتوڑنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑرہے لیکن دنیانے بھی اہل کشمیرسے بڑھ کرکوئی باوفا اورصاحبِ استقامت قوم نہیں دیکھی جب بھارتی فوجی ان کے سینوں پرگولیاں مارتے ہیں تووہ جواب میں پاکستان  زندہ باد کے نعرے لگاتے اورپاکستان کے سبزہلالی پرچم لہراتے ہیں۔

مقبوضہ جموں کشمیراس وقت ایک برفانی جیل بن چکاہے بلکہ اس سے بھی سخت تر ہے ۔دنیامیں جیلیں بنائی جاتی ہیں توان کارقبہ محدودہوتاہے کسی بھی جیل میںمحبوس قیدیوں کی تعدا دچندہزارتک ہوتی ہے ۔ ہزاروں مربع میل پرپھیلی جیل دنیامیں کسی جگہ نہیں پائی جاتی ماسوائے مقبوضہ جموں کشمیرکے۔اگریہ کہاجائے توبے جانہ ہوگاکہ مقبوضہ جموں کشمیرصرف جیل ہی نہیں بدترین جہنم بھی ہے جہاں بلاناغہ کشمیری مسلمانوں پرظلم وتشدد کے پہاڑتوڑے جاتے ،ان کے بچے یتیم کئے جاتے،مائوں بہنوں کے دامان عصمت تارتارکئے جاتے اوربے گناہوں کے لاشے گرائے جاتے ہیں۔ظلم و تشدد کرنا اور خون بہانا ہندو مذہب کاحصہ ہے یہی وجہ ہے کہ ہندومذہب میں کہیں آگ کادیوتاہے جولوگوں پرآگ برساتاہے توکہیں کالی دیوی ہے جو بیگناہوں اور معصوم بچوں کاخون پیتی ہے۔چنانچہ برہمن اپنے مذہب پرعمل پیراہوتے ہوئے اقلیتوں اورکشمیری مسلمانوں پرآگ بھی برسارہاہے اوران کاخون بھی پی رہا ہے۔

اگرآج مقبوضہ جموں کشمیرمیں ظلم وستم کابازارگرم ہے تواس کی کئی وجوہات ہیں مثلاً یہ کہ کشمیرکے لوگ مسلمان ہیں،اسلام سے محبت کرتے ہیں،بھارت سے آزادی چاہتے ہیں ، پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ؎ ہیں۔برہمن کے نزدیک کشمیری قوم کے یہ جرائم ناقابل معافی اورناقابل برداشت ہیں۔  بھارتی حکمران یک نکاتی ایجنڈے پرعمل پیرا ہیں، ایجنڈایہ ہے کہ سرزمین کشمیرسے مسلمانوں کانام و نشان مٹادیاجائے اوران کے دلوں سے پاکستان کی محبت کونکال دیاجائے۔

اپنے گھر بار اور املاک کی بربادی ، چاردر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی کے باوجود ان مظلوموں کے جذبہ حریت میں کسی قسم کی بھی کمی واقع نہیں ہوئی۔جموں کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی ہر نئی صبح شدت اختیار کر رہی ہے۔ حراستی قتل اورگرفتاریوں کے سلسلے بڑھتے جا رہے ہیں۔بابائے حریت سید علی گیلانی ، اشرف صحرائی نظر بندی کی حالت میں خالق ِ حقیقی سے جاملے جبکہ مسرت عالم بھٹ ، میر واعظ عمر فاروق ، سیدشبیرشاہ ، ڈاکٹر محمد قاسم،یسین ملک، دختران ملت کی چیئر پرسن سیدہ آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی سمیت تمام حریت قیادت سالہاسال سے نظر بند ہے ، اسی طرح ہزاروں کشمیری جیلوں میں قیدو بند کی صعوبتیں جھیلتے چلے آرہے ہیں۔ بھارتی فوج اسرائیلی طرز پر نہتے کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر کا ہر گھر شہید کا گھر بن چکا ہے ۔ غاصب فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کے جسموں پر لپٹے سبزہلالی پرچم ساری دنیا کو بتا رہے ہیں کہ اہل کشمیرکی منزل صرف اورصرف الحاق پاکستان ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

باہمی معاملات کے اسلامی اُصول

’’اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ‘‘(القرآن) قرآن وسنت میں متنازع معاہدوں سے سختی سے منع کیا گیا ہے خبردار کسی پر ظلم و زیادتی نہ کرو! خبردار کسی آدمی کی ملکیت کی کوئی چیز اس کی دلی رضامندی کے بغیر لینا حلال اور جائز نہیں ہے‘‘( شعب الایمان ) ’’اگر دونوں نے سچ بولا اور چیز کی خرابی کو پہلے بیان کیا پھر وہ اپنے لین دین میں برکت پائیں گے اور اگر انہوں نے جھوٹ بولا اور کچھ چھپایا تو وہ لین دین کی برکت کو کھو دیں گے‘‘(صحیح بخاری)

مسجد میں حاضری کا سلیقہ

سنت یہی ہے کہ گھر سے جب چلنے لگے تو پہلے وضو کرلیا جائے پیدل مسجد آنا باعثِ کفارۂ گناہ ہے،وقت ہو تو مسجد آکر پہلے دو رکعت نماز تحیۃ المسجد پڑھیں

شکرِ نعمت، رحمتِ الٰہی کا سبب

’’ تم مجھے یاد کیا کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو‘‘(البقرہ)

مسائل اور ان کا حل

عصرسے پہلے کی 4 سنتیں ادا کرنے کا طریقہ سوال :نماز عصر سے پہلے کی 4 سنتوں کو کیسے پڑھا جاتا ہے ؟یعنی دوسری رکعت میں جب بیٹھا جاتا ہے تو کیا التحیات کے بعد درود شریف بھی پڑھا جائے گا؟ (اکبر علی، بہاولپور)

مؤثر سفارتکاری اور پاکستان کا عالمی وقار

عالمی سیاست کے موجودہ تناظر میں پاکستان نے ایک ایسا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے جس کی نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں توقع کم ہی کی جا رہی تھی۔

قومی سیاست پر خلیجی جنگ کے اثرات معاشی اور سیاسی چیلنجز

خلیج فارس کے علاقے میں قریب ایک ماہ سے جنگ جاری ہے اور ملکی سیاست پر بھی اس صورتحال کا غلبہ ہے اورہر سطح پر مذکورہ جنگ اور اس کے اثرات زیر بحث ہیں۔