جھوٹ کی سزا

تحریر : سائرہ جبیں


پیارے بچو!دور کسی جنگل میں بلیوں کا ایک گروہ رہا کرتا تھا۔ان سب کی آپس میں گہری دوستی تھی۔تمام بلیاں مل جُل کر کھیلا کرتیں اور کھانے پینے بھی اکٹھی ہی نکلا کرتیں۔

سردیوں کے موسم کا آغاز ہو گیا تھا اور باہر ٹھنڈ کی شدت بڑھنے لگی تھی۔ایسے میں  بلیوں کو گھر سے نکلنا محال لگنے لگا لیکن انہیں پیٹ بھرنے کی خاطر جانا پڑتا تھا۔

بلیوں میں ایک بلی جس کا نام ’’منو‘‘تھا قدرے سُست تھی۔وہ روزانہ سوچتی کہ آج کسی طرح اسے باہر نہ جانا پڑے اور گھر بیٹھے ہی کھانا مل جائے،لیکن سب کے بار بار کہنے پر اسے ساتھ جانا پڑتا۔

ایک روز منو سو کر اٹھی تو اسے ٹانگ میں درد محسوس ہو رہا تھا۔اس نے ساتھی بلیوں کو بتایا کہ جانے کیوں وہ پیر میں تکلیف محسوس کر رہی ہے۔جس پر دوسری بلیوں نے اس سے ہمدردی کاا ظہار کرتے ہوئے ایک،دو روز آرام کرنے کا مشورہ دیا اور خود کھانے کی خاطر باہر نکل گئیں۔واپسی پر آتے ہوئے وہ منو کے لیے بھی کھانا لے آئیں۔

منو کے پیر میں تو تکلیف تھی لیکن وہ دل ہی دل میں خوش بھی ہو رہی تھی کہ آج اس کی پُرانی خواہش پوری ہو گئی۔ایک دو روز آرام کر لینے کے بعد منو کے پیر کی تکلیف تو دور ہو گئی لیکن اسے اچھا بہانہ مل گیا تھا۔وہ ساتھی بلیوں کو یہی کہتی رہی کہ اس کی ٹانگ میں اب بھی تکلیف برقرار ہے اس لیے وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہے۔جس پر اس کی سہیلیوں نے کہا کہ وہ اسے معائنے کیلئے لے چلتی ہیں،لیکن منو نے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتی۔چند روز مزید آرام کرنے کے بعد وہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گی۔ یہ سن کر دوسری بلیوں نے بھی زیادہ زور نہ دیا اور خاموش ہو رہیں۔

بلیاں اپنے معمول کے مطابق روزانہ کھانے کیلئے باہر جاتیں اور واپسی پر منو کیلئے  خوراک لے آتیں۔شام کو وہ سب کچھ دیر کھیلنے کیلئے باہر جایا کرتی تھیں۔اس وقت میں منو گھر میں بالکل اکیلی ہوتی۔اس کا بھی دل کرتا تھا کہ وہ ان کے ساتھ کھیلنے کیلئے باہر جائے ،لیکن ایسا کرنے کی صورت میںاس کا پول کھل جاتا اور وہ مزید چند روز بستر پر ہی گزارنا چاہتی تھی۔اسے فراغت کے یہ دن بے حد پسند آ رہے تھے۔

ایک روز معمول کے مطابق سبھی بلیاں کھیلنے کیلئے باہر گئی ہوئی تھیں۔منو بستر پر مزے سے لیٹی تھی کہ اچانک اسے گوشت کی بُو آئی۔اس نے فوراً کان کھڑے کر لیے اور کھڑکی سے سر باہر نکال کر یہاں وہاں دیکھنے لگی۔ایسا کرتے ہوئے اس نے خود کو کھڑکی کی اوٹ میں چھپا رکھا تھا تا کہ باہر کھیلتی بلیوں کی نظر اس پر نہ پڑ جائے۔اب جو اس نے گوشت کی تلاش میں نظر دوڑائی تو کیا دیکھتی ہے کہ درخت کے نیچے ایک لڑکا کسی جانور کا گوشت پھینک رہاہے۔یہ دیکھ کر منو کے منہ میں پانی بھر آیا۔وہ جلد از جلد گوشت تک پہنچنا چاہتی تھی۔تاز ہ گوشت دیکھتے ہی اس کی بھوک میں اضافہ ہو گیا تھا۔

منو نے دل میں ارادہ کیا اور ساتھی بلیوں سے نظر بچا کر گھر سے باہر نکل آئی۔وہ درختوں کی اوٹ میں ہوتی ہوئی گوشت تک پہنچنا چاہ رہی تھی اور چاہتی تھی کہ دوسری بلیوں تک گوشت کی خوشبو پہنچنے سے پہلے اسے کھانے میں کامیاب ہو جائے۔چھپتی چھپاتی وہ گوشت تک پہنچی اور جلدی جلدی پنجے چلاتے ہوئے کھانے میں مصروف ہو گئی۔اب تک کسی کی اس پر نظر نہیں پڑی تھی۔

سارا گوشت ختم کرنے کے بعد وہ بے حد خوش تھی او ر چاہتی تھی کہ اب یونہی چپکے سے ساتھی بلیوں کے واپس آنے سے پہلے گھر پہنچ جائے۔بلیوں کے واپس آنے میں چند ہی منٹ باقی تھی اس لیے منو درختوں کی اوٹ میں چھپ کر آہستگی سے جانے کی بجائے بھاگتی ہوئی گھر کی جانب گئی۔جلدی میں وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ تھوڑی ہی دور کھیلتی ساتھی بلیاں منو کو بھاگتے ہوئے دیکھ چکی ہیں۔

وہ دل ہی دل میں منو سے شدید خفا ہو چکی تھیں،اور اسی دوران بد حواسی میں بھاگتی منو کا پیر ایک بڑے پتھر سے ٹکرایا اور وہ کراہتی ہوئی زمین پر گر پڑی۔ساتھی بلیاں دور کھڑی افسوس سے منو کود یکھ رہی تھیں ۔وہ سمجھ گئی تھیں کہ منو کو اپنے جھوٹ کی سزا مل چکی ہے۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید کی خریداری خواتین کی سب سے بڑی پریشانی

عید کا کوئی دوسرا نام سوچا جائے تو وہ خوشی ہی ہو سکتاہے ،چاند رات کے گزرنے کے بعد آنے والی صبح وہ نوید لے کر آتی ہے جسے عید کہا جاتا ہے۔جب چہرے جگمگانے لگتے ہیں،ہتھیلیوں پر مہندی کے گہرے رنگ دیکھے جاتے ہیں، کپڑوں کی بہار اور چمک چہروں پر بھی نظر آنے لگتی ہیں۔بچے،خواتین اور مرد، بڑے ،بوڑھے سبھی اپنے اپنے انداز میںخوشی کے اظہار کے طریقے سوچنے لگتے ہیں۔

موسم گرما کی عید:میک اپ کیساکیا جائے !

ماہ ذی الحج کا چاند نظر آتے ہی عید کی تیاریوں میں تیزی آجاتی ہے۔عید کے دن ہر کسی کی کوشش اور خواہش یہ ہی ہوتی ہے کہ اس کی ڈریسنگ اورمیک اپ اچھے سے اچھا ہو تاتاکہ وہ سب سے خوبصورت اور الگ نظرآسکیں۔اس لیے آج ہم آپ کوچند ایسی باتیں بتائیں گے جن پر عمل کر کے آپ سب سے الگ اور منفرد نظر آ سکیں گی۔

آج کا پکوان

عید کی خاص بریانی اجزاء: چکن1/2کلو،نمک ایک چائے کا چمچ، لونگ دس سے بارہ عدد،دہی ایک کپ،ثابت گرم مصالحہ دو چائے کے چمچ،ادرک حسبِ ضرورت، کُٹی لال مرچ ایک چائے کا چمچ،ہری الائچی چار عدد،کالی الائچی چار عدد،ٹماٹر دو عدد،ہری مرچ چھ سے آٹھ عدد،کالا زیرہ 1/4 چائے کا چمچ،لہسن حسبِ ضرورت، کھانے کا پیلا رنگ ایک چُٹکی،کیوڑا 1/2چائے کا چمچ،گھی یا تیل ایک کپ،پیاز دوعدد،دودھ حسبِ ضرورت، چاول دو کپ،نمک حسبِ ذائقہ،دار چینی ایک ٹکڑا، لونگ چار عدد

حفیظ تائب :نعت کی شیریں آواز

کہ آپ اپنا تعارف۔۔۔۔ اُردو کے جدید نعت گو شعرا میں حفیظ تائب کا نام بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ان کا اصل نام عبدالحفیظ تھا ۔ وہ 14 فروری 1931ء کو پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے نعتیہ مجموعوں میں ’’صلو علیہ و آلہ‘‘، ’’سک متراں دی‘‘، ’’وسلمو تسلیما‘‘، ’’وہی یٰسیں وہی طہٰ‘‘، ’’لیکھ، تعبیر‘‘ اور ’’بہار نعت‘‘ وغیرہ شامل ہیں جبکہ ان کے علاوہ متعدد نثری کتب بھی شامل ہیں، جن میں تحقیق ان کا پسندیدہ موضوع ہے۔حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی ’’تمغہ برائے حسن کارکردگی ‘‘عطا کیا تھا۔وہ 12 اور13جون 2004 ء کی درمیانی شب لاہور میں وفات پاگئے اوراسی شہر میں مدفون ہیں۔

کلاسیکی شاعری اور تفہیم غالب

اردو نثر اور شاعری کے عظیم ترین اساتذہ میں غالب کا مقام نمایاں حیثیت رکھتا ہے جو ان کی وفات کے ایک صدی اور تقریباً تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ناقابل تسخیر رہا ہے۔ دراصل 1857ء آتے آتے ہی، جو جنوبی ایشیا کی سماجی، سیاسی اور ادبی و تہذیبی تاریخ کا نقطہ انقلاب تھا، غالب کی شہرت و مقبولیت روایت کے عظیم نمائندے اور نئے عہد کے پیش رو کی حیثیت سے قائم ہو چکی تھی اور اس کے بعد ہر نسل نے ان کی کلاسیکی توجہ انگیزی کی توثیق کی ہے۔

عبرتناک شکست کے بعد آج کڑا امتحان

ٹی 20 کرکٹ پر حکمرانی کی عالمی جنگ، امریکہ اور ویسٹ انڈیز کے میدانوں میں جاری، 20ٹیمیں مدمقابل ہیں۔دنیائے کرکٹ کے شائقین چوکوں چھکوں کی بہار سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی 20 کرکٹ کی عالمی جنگ میں اپنے پہلے ہی معرکے میں بری طرح ناکام رہی اور دنیائے کرکٹ کی نووارد ٹیم میزبان امریکہ کے ہاتھوں ٹی20ورلڈکپ کی سب سے بڑی اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔